پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ قدرت نے پانی کے ذخایر گلیشیر، ندی، دریا، جھیل اور سمندر کی شکل میں محفوظ کردیے ہیں۔ اگر ہم بات کریں صرف جھیلوں کی، تو اس وقت پوری دنیا میں تین ملین سے زاید جھیلیں پائی جاتی ہیں جو کہ اپنی خوب صورتی کی وجہ سے قابلِ دید ہیں۔ دنیا بھرمیں بے پناہ خوب صورتی والی جھیلیں لاتعداد ہیں، مگر کچھ جھیلیں ایسی بھی ہیں، جن کی خوب صورتی ان کے اندر موجود حیرت انگیز چیزوں میں چھپی ہوتی ہے اور ان کی سیر آپ کبھی بھول نہیں سکیں گے۔ جھیلوں کی سیر کس کو پسند نہیں اور اس کے اردگرد کے مناظر روح کو تازہ دم کردیتے ہیں، مگر تصور کریں ایسے دُور دراز علاقے کا، جہاں ایک چمک دار گلابی جھیل آپ کو دنگ کرکے رکھ دے؟ یا آپ کی کشتی کنول کے پھولوں کے سمندر میں تیرتی چلی جارہی ہو، خواب لگتا ہے ناں؟
مگریہ بالکل ممکن ہے ،جی ہاں! جب آپ دنیا کی سب سے عجیب ترین جھیلوں کی سیر کر رہے ہوں، کیوں کہ جھیلیں اپنے اردگرد کے ماحول کا اثر قبول کرلیتی ہیں اور دیکھنے والوں کو حیران کرکے رکھ دیتی ہیں۔
آج ہم چند ایسی ہی جھیلوں کا ذکر کررہے ہیں، جن کا شمار دنیا کی چند اعجوبہ جھیلوں میں ہوتا ہے۔ یہ کیوں عجیب ہیں، اس کا اندازہ آپ کو زیر نظر تحریر پڑھ کر ہوگا۔
1) جیلی فش لیک( پالاؤ):۔ سمندروں میں تو جیلی فش تیرنے والوں کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوتی ہیں، مگر ’’پاؤلا‘‘ کی جیلی فش لیک کی گہرائی میں یہ غیرمتوقع مسرت کا باعث بن جاتی ہیں، یہاں موجود گولڈن جیلی فشز مختلف رنگوں میں جگمگاتی نظر آتی ہیں اور ان کا سایز ایک سکہ سے لے کر فٹ بال جتنا ہوسکتا ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ کاٹنے یا ڈنک مارنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتیں بلکہ لوگوں کے اردگرد خاموشی سے تیرتی رہتی ہیں۔
2) لیک نونگ ہارن(تھائی لینڈ):۔ یہاں ہر سال ہزاروں سرخ رنگ کے کنول کے پھول آٹھ ہزار ایکڑ پر پھیلی جھیل میں تیرتے نظر آتے ہیں۔ یہ انوکھا باغ برسات کے بعد اکتوبر میں کھلنا شروع ہوتا ہے اور دسمبر میں تمام پھول مکمل طور پر کھل جاتے ہیں اور پھر یہاں مقامی افراد کشتیوں میں سیر کرتے ہوئے اس کرشماتی نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سرخ کنول کے پھولوں کے اس سمندر کو دیکھنے کا بہترین وقت دوپہر سے پہلے کا ہوتا ہے جب پھول پوری طرح کھلے ہوتے ہیں اور مارچ تک یہ اپنے جادو سے لوگوں کو مسحور کرتے رہتے ہیں۔
3:۔ بوایلنگ لیک(ڈومینیکا):۔ دو سو فٹ چوڑی اس جھیل کا پانی درمیان سے مسلسل ابلتا رہتا ہے اور اتنا گرم ہوتا ہے کہ آج تک یہاں کا درجۂ حرارت ناپا نہیں جاسکا ہے۔ تاہم اس کے کنارے سے جو درجۂ حرارت لیا ہے، وہ ایک سو اسّی سے اُنیس ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے۔ ساینس دانوں کا ماننا ہے اس کے نتیجہ میں آتش فشانی سلسلہ ہوسکتا ہے اور یہ چیز اس جھیل کو دنیا میں سب سے منفرد درجہ دلا دیتی ہے۔
4) لگونا کولوراڈا( بولیویا):۔ ایک ایسی جھیل جس کا رنگ ہی بہت انوکھا ہے اور کسی کے خوابوں کی نگری سے کم نہیں۔ یہاں کے پانی کا سرخ رنگ کسی مصور کے برش کا کمال لگتا ہے جب کہ اس کے گرد انوکھی نسل کی بھیڑیں پائی جاتی ہیں۔ ان کی موجودگی اس جگہ کو کسی اور ہی سیارے کا بنا دیتی ہیں۔
5) ماؤنٹ اریبس(انٹارکٹیکا):۔ اس جھیل کی دریافت ہی کرشمہ قرار دی جاتی ہے۔ کیوں کہ یہاں اوپر کا درجۂ حرارت منفی ساٹھ ڈگری تک جب کہ پانی کے اندر کا درجۂ حرارت سترہ سو ڈگری کے قریب ہے جس کی وجہ اس کا آتش فشاں کے لاوے پر بنی جھیل ہونا ہے۔ اور اس کے قریب جانا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ کیوں کہ یہاں اچانک ہی لاوا بم پھٹ جاتے ہیں،جو دس فٹ چوڑے علاقہ تک کو اپنا نشانہ بنالیتے ہیں۔
6)ہیلیئر لیک( آسٹریلیا):۔اس کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے، جیسے یہ اسٹرابری کے ملک شیک یا چیونگم سے بنی جھیل ہے، مگر حقیقت تو یہی ہے کہ یہ پانی ہے جو پنک رنگ میں ڈھل گیا ہے۔ دو ہزار فٹ لمبی اس جھیل کا رنگ دن یا رات ہر وقت ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ساینس دان اب تک اس کی حقیقی وجہ جان نہیں سکے ہیں، تاہم یہ ضرور معلوم ہے کہ یہ جھیل کھارے پانی پر مشتمل ہے۔
7) سپیریئر لیک( امریکا):۔ عام طور پر جھیل پرسکون ہوتی ہیں، مگر امریکا کی یہ جھیل کسی سمندر سے کم نہیں۔ مینی سوٹا سے آلی نواس تک پھیلی اس جھیل میں کسی سمندر جیسی لہریں اٹھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگ سرفنگ کرتے بھی نظر آتے ہیں، یہاں کچھ رقبہ پر ہوا بہت تیز ہوتی ہے، جس کے درمیان لگتا ہے، جیسے ہم اڑ جائیں گے۔
8) میڈیسین لیک ( کینیڈا):۔ یہ میڈیسن نامی جھیل کینیڈا میں واقع ہے۔ دیکھنے میں اس میں کوئی عجیب بات نہیں، لیکن آپ موسم سرما اسے ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔ کیوں کہ اس جھیل کے اندر بڑے بڑے سوراخوں کا ایک سلسلہ موجود ہے اور پانی ان کے اندر چلا جاتا ہے۔ ان زیرآب غاروں تک رسائی ناممکن ہے اور یہاں کی مقامی آبادی اسے جادوئی جھیل کہتی ہے۔
9) لیک نیٹرون( تنزانیہ):۔ تنزانیہ کی وادی رفٹ میں واقع یہ نیٹرون نامی جھیل ایک خطرناک جھیل ہے۔ اس جھیل کا درجۂ حرارت ساٹھ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس جھیل پر آکر بیٹھنے والا کوئی پرندہ پتھر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پرندے اس جھیل کی خوب صورتی دیکھ کر پانی میں ڈبکی لگاتے ہیں اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
10) لیک نیوس( کیمرون):۔ ویسے تو یہ بالکل عام جھیل کی طرح ہے، مگر 1986ء میں یہ غیرمعمولی قدرتی آفت کا باعث بن گئی، جب اچانک ہی یہ بغیر کسی وارننگ کے پھٹ پڑی اور یہاں سے پانی اچھل کر تین سو فٹ فضا میں بلند ہوا اور ایک چھوٹے سونامی کی شکل میں کنارے کی جانب بڑھا اور اس کے بعد یہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھنے لگی، جس نے زہریلے بادل کو تشکیل دے کر سترہ سو سے زاید افراد کی جانیں لے لیں۔ اب بھی اس جھیل کی تہہ میں یہ گیس پیدا ہوتی رہتی ہے، تاہم ساینس دانوں نے اس پر مصنوعی اخراج کا نظام نصب کر رکھا ہے۔
11) بحیرہ مردار( اردن):۔ بحیرہ مردار اردن میں واقع ہے اور اس کا پانی دوسرے سمندروں کی نسبت دس گنا زیادہ نمکین ہے۔ اس پانی میں جوڑوں اور جلد کی بیماریوں کے لیے شفایابی پائی جاتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ نمکیات کے باعث اس پانی میں کوئی ڈوبتا نہیں اور لوگ اس کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں۔ یہ سطح سمندر سے 1486 فٹ نیچے واقع ہے اوردنیا کا سب سے نچلا مقام بھی ہے ۔
1,162 total views, no views today


