جو قومیں زندگی کی شاہ راہ پر آگے بڑھنے کا عزم صمیم کرلیتی ہیں، تو راستے کی ہر رکاؤٹ اُن کے جذبوں کو نئی جیت سے روشناس کرتی ہے اور مہمیز کا کام کرتی ہے۔ ایسی قومیں اپنے پر عزم اور پر خلوص راہ نماؤں کی تقلید میں نئی دنیائیں، نئی راہیں تلاش کرتی ہیں۔ پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتیں۔ ایسی ہی ایک قوم ’’چین‘‘ ہے جس نے آج ترقی کے اور کامیابی کے سنگ میل اور منزل کو عبور کرلیا ہے۔
آج چین معاشی لحاظ سے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کی زمام کار اپنے ہاتھوں میں لینے کے قریب ہے۔ پاکستان کے ہر گلی کوچہ میں چینی مصنوعات کی مانگ ہے۔ میرے دوست اصغر صاحب، حال ہی میں اپنے ہارڈوئیر شاپ کی خریداری کے لیے عازم چائنہ ہوئے تھے۔ روانہ ہونے سے پہلے یار دوست اُن سے ملے۔ کسی نے فرمایش کی کہ بھئی! میرے لیے فلاں چیز لانا۔ میرے لیے فلاں۔ میں بھی اُن سے ملا۔ چین جانے کے بعد دن ہفتوں میں ڈھلنے لگے مگر موصوف نے پلٹنے کا نام ہی نہیں لیا۔ میں نے اُن کے بھائی سے بھی ایک مہینے بعد پوچھا، تو انھوں نے بتایا موصوف تا حال صحرا نوردی میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ آخر کافی انتظار کے بعد موصوف ہاتھ آئے۔ کل جب دکان پر گیا، تو بارش اچانک تیز ہوگئی۔ انھوں نے چائے منگوائی تیزبارش میں چائے کا اپنا ہی مزہ تھا، مگر جب اصغر بھائی نے اس میں چائنہ کی منظر کشی کے رنگ ملائے، تو مزہ دوبالا ہوگیا۔ اصغر بھائی نے اپنے مخصوص مدلل انداز میں چائنہ کی زندگی کی روداد بیان کی تو بہت سے نئے گوشے اور نئی معلومات راقم کے ذہن میں بیٹھ گئیں۔ انھوں نے بتایا کہ چین جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ چین والے خود بھی حیران ہیں۔ لوگوں کا معیار زندگی بہت ہائی ہوگیا ہے۔ ہر کسی کے پاس اپنی گاڑی ہے۔ کوئی بے روزگار نہیں۔ سب سے بڑی بات جو کہ قابل تحسین و آفرین ہے، وہ یہ کہ سرمایہ عوام میں گردش کرتا ہے اور ہر کوئی اس سے مستفید ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ ایک طرف ایک شخص دولت اور سرمائے پر قبضہ جمائے عیش و عشرت کررہا ہو ا ور دوسری طرف کچھ لوگ دال روٹی کے لیے ترس رہے ہوں بلکہ سب خوش حالی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا: ’’جیلانی بھائی! اگر آپ ایک ماہ بعد دوبارہ اُس جگہ جائیں، تو آپ کو حیرت ہوگی کہ وہاں کا نقشہ ہی بدلا ہوگا۔ آپ وہ جگہ پہچان ہی نہیں سکیں گے یعنی ہفتوں میں جگہیں بدل رہی ہیں۔ ہر کوئی اپنے کام میں مصروف نظر آئے گا۔ میں نے وہاں ایک ماہ کا عرصہ گزارا وہاں ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں کا ماحول، میزبان، خوراک اور قیمتیں سب ہی مناسب اور اعلیٰ معیار کی تھیں۔ صفائی اور حفظان صحت کا اتنا خیال رکھا گیا تھا کہ مجھے جسمانی طور پر معمولی سی بھی خرابئی صحت کا شایبہ تک نہ ہوا۔ وہاں آپ گاڑی کا کوئی دھواں یا آلودگی تک نہ دیکھ سکیں گے۔ حفظان صحت، اچھی خوراک اور علاج معالجہ کی بہتر اور معیاری سہولیات کی وجہ سے وہاں پر اب بوڑھوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔‘‘
میں نے حیرت سے سوالیہ انداز سے اصغر بھائی کی جانب دیکھا۔ تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’کیوں کہ اب ان تمام سہولیات کی وجہ سے اُن کے اعضاء ٹھیک ٹھاک کام کررہے ہیں۔ اسّی سال کے عمر رسیدہ افراد بہت بڑی تعداد میں ہیں۔‘‘
ہماری گفت گو میں وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا اور دس بج گئے۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے چائے کا مزید آرڈر دیا۔ چائے کے ساتھ تنور کی روٹی بھی آگئی۔ بارش کی وجہ سے دکان میں گاہک بھی کم تھے۔ انھوں نے دوبارہ چائے پینے پر اصرار کیا مگر میں انکار پر ہی اڑا رہا۔ انھوں نے چین سے جو نئے آیٹم امپورٹ کیے ہیں، اُن کی جھلک مجھے دکھائی جو کہ کم از کم میرے لیے نئے تھے۔ اُن کی محنت، خلوص اور لگن کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ماشاء اللہ وہ اس علاقہ میں ہارڈوئیر کی دنیا میں ایک بڑا نام ہوں گے۔ تحصیل کبل میں اور سوات کے دور دراز علاقوں تک وہ اپنے مال کی ترسیل کررہے ہیں۔ کبھی کبھار میں اُنھیں موبایل شاپ کیپر کے نام سے مخاطب کرتا ہوں، تو وہ مخصوص انداز میں مسکرانے لگتے ہیں۔
آخر میں، مَیں اتنا ہی کہوں گا کہ وہ لوگ جو تعلیم کی ڈگریاں لے کر صرف بڑی اور سرکاری نوکریوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ اُنھیں ایسے ہی نوجوانوں سبق لینا چاہیے جو اپنی محنت سے زندگی کی شاہ راہ پر اپنے لیے خود راستے بناتے ہیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
ایسے ہی نوجوانوں سے اقبال نے فرمایا تھا
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
820 total views, no views today


