سوم قسط
تحریر: رفیع اللہ سوات
جاری ھے کے بعد عرض یہ ھے کہ صرف ‘مردے’ کرپشن نہیں کرسکتے (لیکن یہ بعید از قیاس نہیں ھے کہ انہوں نے یقینا” کرپشن کی ھوگی جب وہ زندہ تھے) .
آج یہ بھی دیکھنے میں ایا کہ لوگ جنازہ تدفین وغیرہ کے موقع پر بھی کرپشن سے باز نہیں آتے . جنازگاہ میں جنازے سے پہلے ایسی ایکٹنگ کرتے ھے کہ توبہ… شائستگی, مروت, عاجزی, انکساری, صبر, خوش آخلاقی, آدب, اور مصافحہ ایسا کہ رونا آجائے,
اور جنازہ کے بعد ایسے قہقہے, لطیفے, سیاسی بحث اور گپ شپ شروع کردیتے ہیں کہ میت والے حیران ھوجاتے ھیں .
یہاں پر بھی کرپشن ھورہی تھی…
صحافیوں کے کرپشن کے موضوع سے تھوڑے اردگرد دیکھنے کی کوشش کرتے ھیں تو سب ایک جیسے نظر آتے ھیں …
صحافت میں ضابطہ اخلاق سے روگردانی ‘کرپشن’ یا غداری ھے . یہاں ھم کوشش کرتے ھیں کی صحافی ضابطہ اخلاق پر تھوڑی مغز ماری کرتے ھیں تاکہ جو جبر بنا رھے ھیں ان کو بھی معلوم ھوجائے اور خبر کے شکار (audience)ھے ان کی بھی تھوڑی رھنمایئ ھوسکے …..
اخلاقی صحافت کے بنیادی اور رھنما اصول نیچے درج کئے جارھے ھیں تاکہ جو اس میدان میں قسمت آزمائی کیلئے پر تول رھے ھیں ان کیلئے بھی کار آمد ھو.
سینکڑوں کے تعداد میں ضابطہ آخلاق, چارٹر یا بیانات مختلف میڈیا تنظیموں نے ترتیب دیئے ھیں لیکن یہ پانچ اصول نہایت اھم ھے .
1…….. سچ اور درستگی
صحافی کبھی بھی ‘سچ’ کی ضمانت نہیں لے سکتا لیکن حقائق کی مکمل نشاندھی صحافت کا بنیادیباصول ھے.
2….. آزادی
صحافی کی ایک آزاد اواز ھوتی ھے, وہ کسی مسلک, سیاسی نظرئیے, ایک خاص رواج کی ترویج یا تحفظ نہیں کرسکتا وہ آزادانہ معلومات اور حقائق اکھٹا کریگا اور بغیر کسی وابستگی اپنے معلومات کو اپنے ناظرین تک پینچائے گا
3…. شفافیت اور غیر جانبداری
ھر خبر کے کم از کم دو پہلو ھوتے ھیں. اب یہ ضروری نہیں کہ ھر پہلو پیش کیا جائے, خبر متوازن ھو.. غیر جانبدار رپورٹنگ اعتماد کو پروان بخشتا ھے
4…. صحافی کسی کو نقصان نہ پہنچائے, لیکن صحافی جو شائع یا براڈ کاسٹ کرتا ھے ھوسکتا ھے کہ وہ کسی کیلئے تکلیف دہ ھو لیکن ایک صحافی کو اس بات کا خیال اور علم ھونا چاھیئے کہ اس کے الفاظ اور تصاویر دوسروں پر کتنی اثراندا ھوتی ھے. اس ضابطہ کو انسانیت کہتے ھیں .
5. احتساب
پیشہ ور اور ذمہ دار صحافی کی یہ ایک نشانی ھے کہ وہ احتساب کیلئے ھمیشہ پیش کرتا ھے . اگر ایک صحافی غلطی کرتا ھے تو اس کو تسلیم اور اس کا مداوا کرنا اس کا فرض ھے اور صحافت کا ضابطہ بھی ھے. صحافی کو اپنے ناظرین کے خدشات کو سننا چاھیئے..
یہ ھے ضابطہ اخلاق یا (Press Code of Ethics) کے پانچ اھم موضوعات ھے جس پر بحث اور سیکھنے کی بیحد ضرورت ھے ….
724 total views, no views today



