ملاکنڈ :معروف سوشل ورکر سابق صدر انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع ملاکنڈ محمد زادہ آگرہ کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔
محمد زادہ آگرہ ملاکنڈ میں منشیات فروشوں کے خلاف کئی سال سے متحرک تھے وہ ہر فورم پر اپنے قوم کیلئے آواز اٹھاتا رہا۔
چند دن پہلے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ عوامی دربار کھلی کچہری میں محمد ذادہ نے کھڑے ہوکر منشیات سب کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جتنا بھی مافیاں غلط سرگرمیوں میں ملوث رہا ان کے بارے کھل کر ڈی سی ملاکنڈ اسسٹنٹ کمشنر سمیت تمام لوگوں کے سامنے بے نقاب کردیا تھا۔
وہ ہمیشہ سے کہتا رہا کہ شاید میں مارا جاؤ لیکن حق بات کرنے سے پیچے نہیں ہٹ سکتا۔
محمد ذادہ شہید کی موت سے ثابت ہورہا کہ یہاں سچ کہنے والوں کو کتنے بے بسی کے حالت میں مارا جاتا ہے ۔
یہاں عام آدمی کا خون کتنا سستا ہے انسانیت دوستوں کو کتنے بے دردی سے مارا جاتا ہے اور وہ بھی گمنام موت مارے جاتے ہیں ۔
اگر حکومت وقت نے محمد ذادہ کے موت میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کیفر کردار تک نہیں پہنچایا تو یہ معاشرہ پھر سے جنگل کی زمانے والے دور میں چلا جائیگا۔
696 total views, no views today



