سوات: وفاقی وزیر مراد سعید سے جولائ میں مصر میں مشتبہ منشیات کیس میں سزائے موت پانے والو کے اہل خانہ نے ملاقات کی لیکن اس سے پہلے پانچ جولائ کو انکے خلاف سزائے موت کا فیصلہ مصر کی بڑی عدالت نے دے دیا تھا ۔
۱۲ جولائ کو مراد سعید کی درخواست پر وزیراعظم پاکستان اور صدر پاکستان نے اسکا نوٹس لیتے ہوئے اوور سیز فاؤنڈ یشن اور خارجہ امور نے سفارت خانے کو تفصیلی فیصلہ لیکر اپیل کا حکم دیا ۔ اپیل کے مقرر کردہ وقت میں 6 دن پہلے پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے سزائے موت کے خلاف اپیل درج کر لی گئ ہے ۔ روزانہ کے بنیاد پر پاکستانی سفارت خانہ جیل جا کر ان پاکستانیوں سے ملاقات بھی کر رہا ہے ۔ وکیل بھی حکومت پاکستان نے مہیا کر دیا ہے ۔
اسکے ساتھ اہم ترین اقدام اٹھاتے ہوئے وفاقی وزیر مراد سعید کی درخواست پر صدر پاکستان نے معافی کی بھی درخواست کی ہے (مرسی اپیل ) ۔
یاد رہے حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ یہ پاکستانی بے گناہ ہے جبکہ مصر کا موقف ہے کہ 2 ٹن ہیروئن اور ۹۹ کلوگرام آیس برآمد ہونے کے خلاف انکو سزائ موت سنائ جا چکی ہے لیکن حکومت پاکستان نے وکیل اور اپیل کے ساتھ ہر ممکن کوشش جاری رکھی ہے
زیر نظر خطوط مراد سعید کی درخواست پر جولائ سے پاکستانی سفارت خانہ ، صدر پاکستان ، وزارت خارجہ امور اور اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن کی ان پاکستانیوں کی رہائ کے لئے اعلی سطح پر جاری کوششوں کی ایک جھلک ہے ۔
598 total views, no views today



