پہلی بار اکتوبر 2017 میں شاہی باغ، گبرال جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ وہ جانا غیر متوقع طور پر ہوا تھا اور میرا ذاتی تجربہ ہے، کہ جو سفر ناگہانی اور غیر متوقع طور پر اور بغیر پیشگی منصوبہ بندی کے اختیار کیا جائے، وہ سفر یاد گار بن جاتا ہے۔
شاہی باغ میں تنہائیوں کا بسیرا تھا۔ آدم زاد ندارد تھے۔ پرند اور چرند کا دور دور تک پتا نہیں چلتا تھا۔ تنہائی، ماحول پر ایسی چھائی ہوئی تھی جیسے کسی تناور درخت کی مضبوط جڑیں زمین کے اندر، گہرائیوں تک اپنے پنجے گاڑتی ہیں۔ سارا منظر تنہائی اور خاموشی کے تابع تھا۔

خزاں کا سماں چہار سو پھیلا تھا۔ اس کے رنگ ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ سرخ، زرد اور نارنجی پتے بے ترتیبی سے ادھر ادھر بکھرے پڑے کسی معصوم اور ضدی بچے کی پینٹنگ کا نقشہ پیش کر رہے تھے۔ چھوٹا بچہ جب کبھی پینٹنگ کا شوق کرتا ہے تو اسے رنگوں کی پہچان، اسے صحیح طرح سےاستعمال کرنے کا شعور نہیں ہوتا۔ اسے جہاں اچھا لگے، رنگ بکھیر دینے میں مزا آتا ہے۔ رنگوں کی یہی بے ترتیبی اکثر عمدہ تاثر چھوڑتی ہے، یہی حال موسمِ خزاں کا بھی ہے۔۔۔۔
پہلی بار کا وہ جانا مجھے بھا گیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں نا، کہ کچھ چیزوں سے پہلی نظر میں محبت ہو جاتی ہے۔ مجھے شاہی باغ سے پہلی نظر میں محبت ہو گئی تھی۔ موسم خزاں کی، اُس وقت کی وہ منظر کشی لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی تھی۔ اُس وقت کی میری وہ تصاویر، آج بھی سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں اور کچھ گروپس اور پیجز آج بھی ان کو شئیر کرتے ہیں۔۔۔
اس کے بعد کئی دفعہ شاہی باغ جانے کا اتفاق ہوا اور شاہی باغ نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
اِس بار بھی موسمِ خزاں کا مزا لینے کے لیے، اکتوبر کے مہینے میں ہم نے شاہی باغ جانے کا ارادہ کیا۔ میرے ساتھ میرے چند بہت ہی پیارے دوست اور سوات کے نامی گرامی فوٹوگرافرز تھے۔ سیر و سیاحت کے حوالے سے وادئ سوات کی ترقی کی اگر بات کی جائے تو میرے ان چند دوستوں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے کام کو سراہا جائے گا۔ ان کی خدمات سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو پسِ پردہ رہ کر وادی کو اپنی طرز سے پروموٹ کر رہے ہیں۔ حرص، لالچ اور خود غرضی کا ان کے پاس سے گزر نہیں ہے۔ شہرت ان کے پیروں کی دھول ہے۔ جو کرتے ہیں، ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ (میرے خیال میں بات خوشامد کی طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے اُن کی تعریفوں کے آگے فُل سٹاپ لگاتے ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہی باغ اِس دفعہ الگ ہی روپ میں جلوہ گر تھا۔ خزاں کی رنگا رنگی، برفوں کی لپیٹ میں آکر اپنی شناخت چھپانے کی ناتمام کوشش کر رہی تھی۔ حُسن پردوں میں کب چھپتا ہے۔ برف روئی کے گالوں کی طرح گرتی تھی۔ برف کی سفیدی اور خزاں کی رنگا رنگی، گھل مل کر عجیب سماں باندھ رہی تھی۔ ان حسین لمحات کو الفاظ کے پیرائے میں ڈالنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ ان مناظر کی چند عدد تصاویر پیشِ خدمت کروں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و عکاسی: خانہ بدوش
دیگر ساتھی:
Khwaja Saeed Photography
Abid Rose Photography
Discover Swat by Ilyas Sayli Mik
@Rehan Ali khan
@Hasan Ali
892 total views, no views today



