*قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ*
اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ایک مذہب اہل ظواہر یعنی سلفی اور اہل الحدیث کا ہے اور ایک دیگر اہل السنۃ کا ہے۔لیکن یاد رہے کہ یہ اہل الظواہر یا سلفی اور اہل الحدیث کا اطلاق اور تعبیر علم کلام یعنی علم العقائد کا ہےنہ کہ فقہ کا ۔اہل الحدیث کے سرخیل میں امام مالکؒ،امام احمدؒ اور امام سفیان الثوریؒ اور یہ سارے محدثین بھی ہیں اور فقہاء بھی ۔لیکن ان کی شہرت فقیہ کے حوالے سے زیادہ ہے ۔تو ان کا مذہب ہے کہ اللہ کے حوالے سے جو متشابہات کا اطلاق نصوص میں آیا ہے مثلاً
یداللہ فوق ایدیہم
یا
الرحمن علی العرش استوی
تو اس کا ترجمہ وہی کیا جائے گا جو لغت میں ہے۔ یعنی یہ کہ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے اور یہ کہ رحمن عرش پر برابر ہوگیا۔
وہ کہتے ہیں کہ بلاوجہ لغت ولسان کو چھوڑ کر تاویل پر جانا مناسب نہیں ۔ہاں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ کی تفصیل کیا ہے یا عرش پر برابر ہونے کی تفصیل کیا ہے ہم اس میں نہیں جاتے یہ چیز ہم اللہ کے حوالے کردیتے ہیں۔
جبکہ اہل السنۃ اشاعرہ اور ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ ایسے میں عام لوگ تشویش واضطراب بلکہ غلط تصورات میں پڑ جائیں گے کہ بھائی ہاتھ ہے تو کتنا ہے ،کتنا لمبا ہے اس میں انگلیاں ہیں کہ نہیں اور انگلیوں پر ناخن ہیں کہ نہیں یایہ کہ اگریہ عرش پر برابر ہوگیا ہے تو اس کامعنی تو ہے کہ عرش پر بیٹھ گیا تو اب وہ کیسے بیٹھے گا ،آلتی پالتی مار کے یا ٹانگیں لٹکا کے وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ سارے تصورات تشبیہ یا تجسیم پر لے جاتے ہیں کہ معاذاللہ گویا وہ انسانوں کی طرح بدن رکھتا ہے اور انسانوں جیسی صفات بھی رکھتا ہے جسم بھی رکھتا ہے۔ اس سے بچانے کے لئے اشاعرہ اور ماتریدیہ اس قسم کے متشابہات میں قریب تر تاویل کیا کرتے ہیں تو وہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ اور قوت استحکام کا استعارہ ہے اور استواء علی العرش غلبے کا استعارہ ہے کہ اللہ کی قوت ان کی قوتوں کے اوپر ہے اور یہ کہ اللہ کی حاکمیت واقعی مستحکم ہوگئی کہ دنیا اور اس کا نظام چل پڑا ۔جبکہ اللہ کا تو کسی خاص مکان سے اختصاص نہیں ہوسکتا کہ یہ تو اس کی ذات کو محدود کرجائے گا جبکہ وہ تو لامحدود ہے ‘‘لا یحدّ’’ حتی کہ وہ تو خیال وقیاس وگمان میں بھی نہیں آسکتا کہ یہ صفات ومعاملات مخلوق کے ساتھ خاص ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہرجگہ ہے
وہو معکم اینما کنتم
اور وہ آپ کے ساتھ (پاس)ہے جہاں بھی تم ہوتے ہو۔
اول الذکر گروہ نے اللہ کو مشابہت سے منزہ رکھنے کے لئے اپنے مؤقف کو ‘‘تنزیہ مع التفویض’’ کہا ہے اور ثانی الذکر نے اپنے مؤقف کو ‘‘تفویض مع التاویل’’ کہا۔یعنی ہر گروہ نے جو کہا توساتھ یہ مؤقف بھی اپنایا کہ مزید تفصیل میں نہ پڑیں بس اللہ کے حوالے کریں۔لیکن ہر دو کےا تباع ان کو امام تو مانتے ہیں لیکن ان کی مانتے نہیں۔توایک بازار گرم کررکھا ہے ،بحث ومباحثے اور مناظرات کا جس سے ان کے نفس کی تسکین ہوتی ہے بایں معنی کہ ان کو کچھ اتباع مل جاتے ہیں کچھ ان کی واہ واہ ہوجاتی ہے کچھ ان کو ہدیے ،نذرانے اور شکرانے مل جاتے ہیں اور ان کو کوئی سروکار نہیں کہ اور تو درکنار اللہ جو ایک مسلّم حقیقت ہے اس کے حوالے سے بھی ہم نے لوگوں کو اضطراب وتشویش میں ڈال دیا۔مثلاً وہ کہیں کہ وہ اگر ہر جگہ ہے تو کیا بیت الخلاء اور گٹر میں بھی ہے العیاذباللہ!ارے بھائی !اللہ فرماتے ہیں
اللہ خالق کل شئی
اللہ ہر چیز کا خالق ہے ۔
اور یہ ہمارا عقیدہ ہے لیکن اگر بندہ خدا کی تعریف میں کہے کہ
خالق القردۃ والخنازیر
کہ وہ خالق ہے لنگوروں کا اور خنزیروں کا بھی۔
تو یہ شے تو ہیں اور وہ اس کے خالق ہیں لیکن یہ تعبیر سوء ادب ہے ۔یہ نسبت بے ادبی ہے اور
الدین کلہ ادب
دین تو سارے کا سارا ادب کا نام ہے۔
من حرم الادب فقد حرم الخیرکلہ
جو ادب سے محروم ہواتو وہ تو سارے خیر سے محروم ہوگیا۔
کہ یہ تعریف مشابہ بالذم ہے۔
یہی مسئلہ دینی مقدسات کا بھی ہے جن میں سرفہرست رسول پاکﷺ کی ذات ہے ۔اب رسول پاکﷺ کیسے تھے صورت کے لحاظ سے یا سیرت کے حوالے سے۔احادیث اور سیرت کی کتابوں میں سب کچھ موجود ہے کہ اللہ کی کائنات میں آپﷺ کی ذات بابرکات ہر لحاظ سے اکمل ترین ذات ہے ۔اب آپﷺ کے حوالے سے تو اور بھی زیادہ ادب کا تقاضا ہے کہ ہیں تو آپﷺ بشر لیکن اس کو ایک عام انسان کی طرح سمجھنا سوء ادب ہے۔گویا آپﷺ کے حوالے سے تعبیرات مؤدبانہ لازمی ہیں نہ کہ ایسی تعبیر کہ اس سے بے ادبی جھلکتی یا چھلکتی ہو۔کہتے ہیں
؎ باخدا دیوانہ باش وبا محمدؐہوشیار
کہ خدا کے ساتھ تو دیوانہ وار محبت کیا کرو جبکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے محتاط رہا کرو۔
ایسا نہ ہو کہ افراط یا تفریط کے شکار ہو۔
آپﷺ کو آپﷺ کے مرتبے سے نیچے لے آئے تو بھی خطرہ ہے اور اوپر لے گئے تو بھی خطرہ ہے اور یہی تو مسئلہ ہوا یہود ونصاریٰ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے کہ یہود نے تو نہ صرف یہ کہ آپؑ کے نبوت سے انکار کیا بلکہ معاذاللہ اس کی حقیقت کے ضد اس کو یوسف النجار کا بیٹا ثابت کرتے رہے ۔یعنی اس کی حقیقت سے اس کو نیچے لے آئے اور نصاریٰ اس کو اوپر لے جاکر خدا ،خدا کا بیٹا اور اقنوم ثالث یعنی خدا کا تیسرا جز یا تیسرا جزئی کہتے رہے۔اور یہی غلو ہے
یااہل الکتاب لا تغلوا فی دینکم
اب دوسری بات کہ انسان بیدار ہوتا ہے تو کچھ دیکھتا ،سنتا اور کرتا ہے اور اس کا اس کو شعور ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات خیال اور تصور بھی کرتا رہتا ہے یہ بھی اسکے شعور کا کام ہوتا ہے اور شعور کو جس بھی چیز کا ادراک ہوتا ہے ارادۃً یا غیر ارادی طور پر تو وہ شعور پر نقش ہوجاتا ہے اور اس کا ایک عکس لاشعور پر بھی چلا جاتا ہے ۔پھر جب انسان سوجاتا ہے تو شعور تو معطل ہوجاتا ہے اور لاشعور ٹیک اوور کرلیتا ہے ۔وہ ان سارے فائلز اور فوٹوز کو الٹتا پلٹتا ہے اور بعض اوقات کسی ایک چیز کو متشکل کرکے اس انسان کو خواب میں دکھاتا ہے۔خواب دیکھتے وقت انسان یہی محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک حقیقی اور واقعی امر ہے یعنی اس کو یہ نہیں محسوس ہوتا ہے کہ جاگتے میں کسی چیز کے تصور کی طرح یہ بھی ایک تصور جیسا ہے ۔اب اس کا واقعی حقیقت نہ ہونا لیکن واقعی حقیقت کے طور پر اس کا محسوس ہونا پھر تعبیر وتشریح کا محتاج ہوتا ہے ۔اس کا خواب ہونا بندے کو تب معلوم ہوجاتا ہے جب وہ جاگ اٹھتا ہے اور بسا اوقات وہ خواب کو بھول چکا بھی ہوتا ہے۔سو خواب کی تعبیر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ہمیشہ الٹ ہوتا ہے لیکن یہ کوئی کلیہ نہیں بلکہ اکثر یہ بھی نہیں بلکہ کبھی ایسا ہوتا ہے اور کبھی ویساجیسا کہ دیکھا ہے۔ پھر بعض خواب خود اپنے تعبیر ہوتے ہیں اور بعض تعبیر چاہتے ہیں جس کے لئے ایسا بندہ ڈھونڈنا پڑتا ہے جو صاحب علم وتقویٰ ہو اور جس کو تعبیرات کے حوالے سے ایک خاص قریحے سے نوازا گیا ہو۔جیسا کہ تابعین کے زمانے میں امام ابن سیرین رحمہ اللہ اس کے امام مانے جاتے ہیں۔بڑے بڑے علماء بھی آپؒ کو رجوع فرماتے جیسا کہ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ۔امام ابوحنیفہؒ نے خواب دیکھا کہ وہ رسول پاکﷺ کے قبر کو کھول رہا ہے ۔اب یہاں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کھود رہا ہے لیکن وہ تعبیر مناسب نہیں پھر یہ کہ کھودنے کی تعبیر اس وقت کی جاتی ہے جب مردے کی تدفین کے لئے قبر کھودی جارہی ہو ۔تو امام ابن سیرین کے پاس عبداللہ بن مبارکؒ کو تعبیر کے لئےبھجوایا۔تو آپؒ نے فرمایا کہ آپ رسول پاکﷺ کی سنتوں کا احیاء کریں گے۔
اب خواب میں رسول پاکﷺ کا دیکھنا ممکن بھی ہے اور ثابت بھی بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ
من راٰنی فی المنام فقد راٰنی فان الشیطان لا یتمثل بصورتی
جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو مجھے ہی دیکھا ہے کہ شیطان میری صورت مین متمثل نہیں ہوسکتا ہے۔
حالانکہ وہ تو کوئی بھی شکل وصورت اپنا سکتا ہے لیکن رسول پاکﷺ کی شکل وصورت تو کائنات کی اکمل ترین وافضل ترین صورت ہے تو وہ نہیں اپنا سکتا۔
اب رسول پاکﷺ کی شکل وصورت یا آپﷺ کے اطوار وعادات کیسے تھے ۔یہ احادیث میں اور شمائل میں مفصل ذکر ہیں تو اگر کسی نے آپﷺ کو اس کے علاوہ کسی حالت یا صورت میں دیکھا تو امام ابن سیرین ؒ فرماتے ہیں کہ وہ نقص اس بندے کا ہے یعنی مثلاً آپﷺ کو ایسا دیکھا کہ آپﷺ کی داڑھی چھوٹی ہے تو اور بھی تعبیرات ہوسکتے ہیں کہ خواب میں دیکھنے والے کے کردار کا بھی بڑا دخل ہے ۔لیکن ایک تعبیر یہ ہے کہ رسول پاکﷺ کے اس طرح دیکھے جانے پر اس بندے کو اس کا نقص بتادیا گیا ہے کہ وہ کسی سنت یا کئی سنتوں کو ایسی بے باکی سے چھوڑ چکا ہے یعنی رسول پاکﷺ کی ذات پاک نے اس کے لئے آئینے جیسا کام کیا۔البتہ ایسے خواب اگر سچے بھی ہوں تو اگر اس کے اس طرح بیان کرنے سے کسی سوء ادب کا احتمال ہو تو یا تو اسے عوام کے سامنے بیان ہی نہ کرے یا پھر اس کو ایسی تعبیر کے رنگ میں بیان کرے کہ جس میں بے ادبی نہ ہو۔لیکن ہم نے تو سنسنی پھیلانی ہوتی ہے یا اپنی Capicityبنانی ہوتی ہے کہ مجھے مانو میں بھی کوئی چیز ہوں یا پھر اپنی کسی مخاصمت یا مخالفت کے لئے تائید مقصود ہوتی ہے تو جھاگ نکال نکال کر ہم ایسے بیان کرتے ہیں اور ہمیں ہوش نہیں رہتا کہ ہم کیا کچھ کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم تو یا ذات کی پرستش میں مبتلا ہیں یا پھر ہمارے آنکھوں پر تعصب کی پٹیاں چڑھائی گئی ہیں۔
اب خواب کون زیادہ دیکھتے ہیں؟
وہ لوگ جو جاگتے میں شعور کا بہت کم استعمال کرتے ہیں تو بدن تو توانائی پیدا کرتا ہے اور اسے صرف بھی کرنا چاہتا ہے تو جو توانائی شعور نے صرف کرنی تھی وہ نہیں کی تو جیسے ہی وہ سوگیا تو لاشعور نے اپنے حصے کی توانائی بھی اور یہ اضافی توانائی بھی استعمال کرنا شروع کیا اور لاشعور کیا دکھائے گا خواب ہی دکھائے گا اور کون سے خواب؟
تو یا تو وہ کچھ جو وہ جاگتے میں کرتا رہتا ہے یا جاگتے میں اس کا تصور زیادہ کرتا ہے یا پھر ان فائلز میں سے ایک سے زیادہ کی ترکیب کرکے کوئی امیج دکھائے گا۔اب یہ ضروری نہیں کہ یہ بندہ کوئی مثالی متقی یا متبع سنت ہے تو اس نے رسول پاکﷺ کو دیکھا لیکن شاید وہ بغیر عمل کے آپﷺ سے زیادہ قلبی لگاؤ رکھتا ہے یا وہ آپﷺ کا تصور بہت کرتا رہتا ہے کہ بسا اوقات تو کبیرہ میں مبتلا بندہ جس پر فاسق کا اطلاق ہوسکتا ہے وہ بھی آپﷺ کو دیکھ لیتا ہے بلکہ کبھی تو کوئی غیر مسلم بھی آپﷺ کو دیکھ لیتا ہے کہ وہ آپﷺ کے متعلق سنتا رہتا ہے یا پڑھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
میں نے خود باوجود ایک عاصی وناکارہ ہونے کے آپﷺ کو دیکھا لیکن آپﷺ کی داڑھی لمبی نہیں تھی چھوٹی تھی اور آپﷺ کو اپنے گاؤں کے ایک ہمارے بڑےتھے اس کی شکل میں دیکھا وہ بندہ بھی ہنس مکھ اور خوش شکل بندہ تھا لیکن داڑھی کٹواتے تھے لیکن باقی وہ تھا دیندار حتی کہ بہت ہی نفل گزار اور خدمت خلق کا جذبہ لیے ہوئے تھا تو میں نے اس سے ذکر کیا تو وہ روپڑا اور اس دن سے پھر داڑھی سنت کے مطابق رکھی اور مجھ سے کئی بار پوچھا کہ آپﷺ نے میرے حوالے سے کوئی ناراضگی کے کلمات تو نہیں کہے۔میں نے کہا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تب وہ مطمئن ہوگیا۔
سو اب کے تو سیاست ہے نفرتوں اور تعصبات سے بھری اور سوشل میڈیا ہے بے لگام اور بے قید اور لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں کہ مجھے کوئی کیسے مانے گا کہ خدا رسیدہ ہے یا میرے مخالف کو کوئی کیسا مانے گا کہ مطرود اور رجیم ہے یا یہ کہ اس سے فالورز اور ویورز مل جائیں گے اور اس کام میں مولوی صاحبان آگے آگے ہیں۔ایک زمانہ تھا محلے میں کوئی ٹی وی لے آتا تو مولوی صاحب بلاناغہ ہر نماز کے بعد ٹی وی پر تبرا کرتے حتی کہ لوگ بھی اس بندے سے نفرت کرنے لگتے ۔میں جب پہلے پہلے ٹی وی لے آیا اس زمانے میں تو ایک پی ٹی وی چینل تھا اور بھی دن رات میں صبح چند گھنٹے اور شام کو چند گھنٹے چلتا تو خبریں ہوتیں اور ڈرامہ ہوتا کبھی کبھار کوئی دینی پروگرام ہوتا اور اصل میں میں عرفہ سے ایک دن پہلے یہ ٹی وی خرید چکا تھا سوویت یونین کا بنا ہوا بلیک اینڈ وائٹ کہ ہمارے بجٹ میں صرف وہ آسکتا تھا ۔غربت وفقر کا زمانہ تھا حج یا عمرے کا تو تصور بھی نہ کرسکتے تھے ۔یہ تو اب اللہ تعالیٰ نے بہت ساری مہربانیاں فرمائیں ۔تو میں نے سوچا کہ چلو کل اس پر حج دیکھیں گے اور پھر بچے اس پر ڈرامہ دیکھ لیں گے ۔تو وہ دن جمعہ کا تھا اور اگلے دن عرفہ تھا تو میں نے جمعہ کے بیان میں اس کا تذکرہ کیا ۔میں نے سوچا کہ قبل اس کے کہ کوئی دوسرا مولوی میرے متعلق کچھ اور جامہ پہنا کے لوگوں کو مطلع کریں تو فنتے کا دروازہ بند کرنے کے لئے میں نے پہل کی اور پھر کچھ بھی نہیں۔ اور اب تو ہر مولوی صاحب چینل بنا بیٹھا ہے ،درودیوار کو خطاب کرتا رہتا ہے اور جھوٹ Pretend and projectکرتا رہتا ہے کہ سامنے کوئی ہوتا نہیں اور ہاتھ ہلا ہلا کے کبھی دائیں اور کبھی بائیں مڑ کر کہتا ہے کہ ہاں بولو بھائی بولو،بولتے کیوں نہیں۔ تو کوئی ہو تو بولے گا اور درودیوار تو بول نہیں سکتے اور ابھی تک آپ اس مقام پر نہیں پہنچے جہاں در ودیوار آپ سے ہم کلام ہوں یا کہتے ہیں ہاں بھائی! سمجھ میں آگئی بات ؟نہیں آئی وغیرہ وغیرہ۔
اور سچ تو یہ ہے کہ سنجیدہ طبقہ ہمارا مذاق اڑا رہا ہے کہ اسے کہتے ہیں بادشاہ سلامت بدون مملکت ورعیت کے۔میں کسی کی تحقیر نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ حقیقت ہے ۔
کورونا سے پہلے سال والے رمضان میں جب مساجد بند تھے تو افطاری کے بعد ساتھیوں کی خواہش پر درس دینا شروع کیا ۔اب ہمارے ساتھی تو آن لائن حاضر ہوتے لیکن میں سامنے اپنی بیٹیوں ،پوتوں ،نواسوں کو کیمرے کے پیچھے بٹھاتا تاکہ یہ تصور زندہ ہو کہ ہاں سامنے کوئی ہیں جن سے میں مخاطب ہوں۔میں نے کہا اس کے بغیر تو شاید میں بول سکوں۔
بہر تقدیر آج کے دور میں تو مولوی صاحبان تیار بیٹھے ہیں کہ کیسے کسی مولوی کی زبان سے کوئی بات نکلے تاکہ اس کو لے کر میں ایک کلپ کردوں کہ ایک تو مجھے یہ مواد مل جائے گا بولنے کے لئے کہ باقی تو کچھ مواد ہیں ہی نہیں کہ کتاب دیکھنے سے تو ہم نے قسم کھائی ہے ۔دوسرا یہ کہ مولوی مولوی کو کوسے تو لوگوں کے مزاج مختلف ہوتے ہیں کچھ لوگ اس قسم کے ٹاک کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ مولویوں کا ٹاکرا سنتے ہیں اور وہی سننے والے ہم ہر دو کو پھر کوستے رہتے ہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ ہمارے ہوش ٹھکانے نہیں لگنے والے۔تو یہ ایک بیماری ہے جو تاحال لا علاج ہے ،نہ اس کا ویکسین آیا ہے اور نہ اس کا تریاق آیا ہےکہ اس کا علاج ہو اور اگر کوئی علاج ہے بھی تو وہ تو تب کارگر ہوسکتا ہے کہ بندے کو یہ احساس تو ہوکہ ہاں میں بیمار ہوں اور میں نے دوا لینی ہے ۔
توخیر مقصد کہنے کا یہ تھا کہ مولوی حضرات کو کہنے کے لئے کچھ مواد چاہئے ہوتے ہیں اور وہ بھی ایسے جس سے ویورز بڑھیں تو پھسل جاتے ہیں یا لغزش کا شکار ہوجاتے ہیں اور گرفت ہوتی ہے تو پھر لگ جاتے ہیں تاویلات کرنے ۔ارے بھائی! تو پہلے سے آپ سوچ لیتے کہ کیا کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے ورنہ آپ کے عزیز تو مرصاد پر بیٹھے ہیں اس لئے ۔حالانکہ اس دوسرے نےکسی وقت اس سے بھی زیادہ گئی گزری بات کی ہوگی۔لیکن یاد کسے رہتا ہے۔نیز یہ دوسرا اب اس طرح گرفت کے ذریعے اپنے پچھلے والے گند کو ڈھانکنا چاہتا ہے تو کل وہ مذاق بنا تھا اور آج یہ دوسرا مذاق بن گیا۔ارے خدا کے لئے اس دین پر رحم کرو اس کو مسخرہ نہ بناؤ ورنہ اللہ اور سول ﷺ کو کیا منہ دکھاؤ گے۔اور یہ سب کچھ اس لئے کہ ہمارا مذہب تعصبات کے أساس پر تفرّق وتشتّت ہماری سیاست مفادات اور ہماری معاشرت شکست وریخت کا شکا رہے اور وجہ اس کی ہے وہی سرمایہ دارانہ تحکم جس کا تسلط ہے۔تحکم تفعل ہے اور تفعل میں تکلف ہے سویہ تحکم ہر ممکنہ تکلف سے اپنا حکم نافذ اور جاری وساری رکھنا چاہتا ہے اور یہ ایسا کرچکا ہے۔
اس سے چھٹکارا کیسے ہو؟
بس عزم کی ضرورت ہے قوم کو بھی اور حکومت کو بھی اور یہ عزم خدا کو حاضر ناظر جان اور مان کر کیا جائے تو
؎ طول غمِ حیات سے گھبرا نہ اے جگر
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہ ہو
بس ذات کے خول سے نکلنا ہے۔
670 total views, no views today



