تحریر : عمر واحد
ہر سال اکیس فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کی اپنی تاریخ اور اپنا پس منظر ہے لیکن ہمارے خیال میں اگر ہم سال کے ایک مقررہ تاریخ کو نرم زبان، میٹھے لہجے اور باڈی لینگویج کا قومی دن منانے کا اہتمام کریں، تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ بات خود ہمارے مشاہدہ میں آئی ہے اور دیارِ غیر یعنی امریکہ اور یوروپ سے آئے ہوئے تارکینِ وطن سے بھی سنا ہے کہ مغربی اقوام خصوصاً انگریز لوگ نہایت شایستہ اور مہذب ہوتے ہیں اور ان کی باڈی لینگویج بہت نرم اور دل کش ہوتی ہے۔ یہ لوگ بات بات پر ’’تھینک یو‘‘ کہتے ہیں اور اگر معمولی غلطی بھی کریں تو ’’سوری‘‘ کہہ کر معاملہ ختم کرتے ہیں۔
ہم بہ فضل خدا مسلمان ہیں اور رسولِ رحمتؐ کے اُمتی اور پیروکار ہیں جو تمام کاینات کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا۔ آپؐ کی مجلس، گفت گو، معاملات، دوست دشمن سے یکساں سلوک اور اخلاق بے مثل تھے۔ یہاں تک کہ آپؐ کے جانی دشمن اور کٹر مخالفین بھی آپؐ کے مذکورہ بالا اوصافِ حمیدہ و کریمہ کے معترف تھے۔ آپؐ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ نیک اخلاق کی تکمیل کروں‘‘۔ لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان ہوکر بھی ہمارے زیادہ تر لوگ عموماً نرم زبان اور میٹھے لہجہ سے محروم ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر عالم وجود میں آیا اور اس کے قیام کی جدوجہد میں علماء اور بزرگان دین کا بھی بڑا کردار اور حصہ رہا ہے لیکن مشاہدہ میں آیا ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی اور اسلامی معاشرہ کے بیش تر لوگ پشتو کے اس ضرب المثل یعنی ’’کہ تہ سیرئے نو زہ دڑئی یم‘‘ یعنی ’’اگر تم سیر ہو، تو میں بھی ایک دڑی یعنی پورا چار سیر ہوں‘‘ کے مصداق بنے ہوئے ہیں۔ یا یہ ضرب المثل کہ ’’میں راجہ تو رانی، کون بھرے گا پانی‘‘ بھی ہم پر صادق آتی ہے۔ اگر ہمارا یہی حال رہا، تو ہمارا معاشرہ کس طرح ترقی کرے گا؟ ایک معاشرہ تب ترقی کرسکتا ہے جب وہاں تہذیب اور شایستگی کو فروغ حاصل ہو۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘‘ کسی دانش ور کا قول ہے کہ ’’تلوار کا وار جسم کو زخمی کرتا ہے لیکن زبان کا وار روح کو گھایل کرتا ہے۔‘‘
ہمارا سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقہ عموماً غریبوں کے ساتھ نہایت تکبر اور رعونت سے پیش آتا ہے۔ لوگ ان کے منھ سے نرم بات ہی کے لیے ترستے ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک مقامات یعنی ریلوے اسٹیشنوں، بس اسٹاپوں اور منڈیوں وغیرہ میں وہاں کے بعض کارکن اور متعلقہ عملہ نہایت بد تمیز اور بد زبان ہوتا ہے اور شریف شرفاء کے ساتھ ان کا رویہ اور سلوک عموماً غیر شایستہ ہوتا ہے۔ یہی حال عموماً سرکاری دفاتر اور اداروں کا بھی ہے۔ اگر آپ کو سرکاری اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو جانے کا اتفاق ہوا ہو، تو وہاں غریب مریضوں کی خدمت اور علاج معالجہ و ادویہ وغیرہ یا دیگر سہولیات کی فراہمی تو دور کی بات ہے، بعض مراکز میں غریب مریضوں سے سیدھی منھ بات بھی نہیں کی جاتی۔ اگر کسی سرکاری دفتر میں جانا پڑے، تو بعض اہل کار تو سلام کا جواب تک نہیں دے گا بلکہ سایلوں اور ضرورت مندوں کو جھڑکیاں تک سننا پڑتی ہیں۔
برسبیل تذکرہ، ہم ضلع شانگلہ میں ملازمت پر تھے، تو ہمیں اپنی ٹرانسفر کے سلسلہ میں صوبائی دفتر تعلیمات پشاور جانا پڑتا، وہاں متعلقہ دفتر کے اہل کار کالہجہ (باڈی لینگویج) اتنا تلخ اور کڑوا کسیلا تھا کہ ہم حیران تھے کہ یہ شخص کس مٹی کا بنا ہوا ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ تہذیب اور شایستگی میں دوسری اقوام کی ہم سری کرے، تو ہمیں ہر حال میں اخلاق اور نرمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس روز ہمیں میٹھے اور نرم لہجے (باڈی لینگویج) کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس کی اہمیت اور افادیت کو اُجاگر کرنا ہوگا۔
اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمانِ مبارک ہے کہ ’’اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنا بھی صدقہ ہے۔‘‘ اس قولِ رسول ؐ میں ہمارے لیے دین و دنیا میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ اقبال (مرحوم) کا یہ شعر کتنی حقیقت پر مبنی ہے۔
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا عاشق بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
اس کے علاوہ پشتو کے مشہور صوفی شاعر رحمان بابا کا یہ شعر بھی ہے کہ
د خلیل ؑ تر کعبے دا کعبہ دہ لویہ
چہ آباد کڑی سوک ویران حرم د زڑہ
960 total views, no views today


