وادئ سوات، صوبۂ خیبر پختون خوا، آزاد قبایل اور افغانستان میں اخوند صاحبِ سوات کا نام ایک عظیم صوفی اور صاحبِ کشف وکرامت بزرگ کے طور پر مشہور ہے۔ اخوند صاحبِ سوات کا اصل نام عبدالغفور اور والد کا نام عبدالواحد تھا۔ آپ سوات کے علاقہ ’’شامیزء‘‘ میں جبڑی کے مقام پر 1794ء میں پیداہوئے۔ آپ افغان قوم کے مہمند قبیلے صافی سے تعلق رکھتے تھے، تاہم بعض مقامی بزرگوں کا خیال ہے کہ ان کا تعلق گوجر قوم سے تھا۔ بہرحال بچپن میں آپ نے بھیڑ بکریاں چرائیں لیکن جب ہوش سنبھالا، تو حصولِ علم اور تلاشِ حق کے لیے صوبہ خیبر پختون خوا کے فاضل علماء اور خدارسیدہ مشایخ کے پاس زانوئے تلمذ تہِ کرتے رہے۔
ؐ ابتدائی تعلیم آپ نے ’’بڑنگولا‘‘ کے ایک مولوی صاحب سے حاصل کی۔ اس وقت سوات میں تعلیم حاصل کرنے کے مؤثر ذرایع موجودنہیں تھے۔ اس لیے آپ مزید حصولِ علم کے لیے ضلع مردان کے گاؤں’’ گوجر گڑھی‘‘ چلے گئے۔ جہاں آپ نے مولانا عبدالحلیم سے باقاعدہ مزید روحانی فیض حاصل کیا۔ کچھ عرصہ آپ نے چمکنی(پشاور) اور زیارت کاکا صاحبؒ تحصیل نوشہرہ میں گزارا۔ اس کے بعد پشاور میں گنج والے حافظ حضرت جی کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہ کیا اور قریباً چار سال تک اُن سے سلوک و طریقت کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بعد ازاں آپ شیخ المشایخ صاحب زادہ محمد شعیب ساکن تورڈھیری کی خدمت میں پہنچے اور وہاں ایک جھونپڑی میں رہ کر بارہ سال تک مجاہدہ اور ریاضت کرتے رہے۔
آپ نے 1816ء میں دریائے سندھ کے کنارے ایک گاؤں’’ بیکی‘‘ میں مسلسل بارہ سال تک چلہ کشی کی۔ اس ریاضت سے فارغ ہوکر آپ نے باطنی مدارج کی جومنزلیں طے کیں، اس سے آپ کی شہرت دور دراز تک پھیل گئی۔ تھوڑے ہی عرصہ میں صوبہ پختون خوا و افغانستان کے ہزاروں افراد آپ کے مرید بن گئے اور سلسلۂ قادریہ کا ایک عظیم دور جاری ہوگیا۔ 1828ء میں آپ نے ’’بیکی‘‘ سے رخت سفر باندھا اور دریائے سندھ کی دوسری طرف ’’نمل‘‘ نامی مقام میں سکونت اختیار کی اور روحانی ریاضت میں مشغول رہے۔ چوں کہ یہ دور ایک طرف انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلبہ، دوسری طرف سکھوں کے اقتدار اور تیسری طرف سوات میں خوانین کی سازشوں اور لاقانونیت کا تھا اور اسی علاقہ میں حضرت سید احمد شہید بریلوی سکھوں کے خلاف فوج جمع کر رہے تھے، اس لیے آپ نے خوانین کی سازشوں سے لوگوں کوبچایا اور اس وقت سید احمد شہید بریلوی کی ہرممکن مدد کی۔
آپ نے سب سے پہلے جہاد 1835ء میں پشاور کے قریب شیخان کے مقام پر امیر کابل دوست محمد خان کی معیت میں سکھوں کے خلاف کیا۔
ستمبر1835ء میں چوبیس سال اپنے علاقہ سے باہر گزارنے کے بعد آپ زیریں سوات واپس آگئے۔ سوات پہنچ کر آپ کچھ عرصہ ’’ملوچ‘‘ کی ایک مسجد میں رہے۔ اس عرصہ میں آپ کے والدین چل بسے۔ ملوچ سے آپ رنگیلا چلے گئے۔ وہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد’’اوڈی گرام‘‘ کے قریب پہاڑوں کے دامن میں غازی باباؒ کی زیارت میں مقیم ہو گئے۔ زیارت میں کچھ عرصہ زہد و عبادت میں گزارنے کے بعد آپ مرغزار چلے گئے۔ مرغزار میں ایک غار صاف کرکے وہاں مقیم ہو گئے۔ اس کے بعد سپل بانڈئ میں مقیم ہو کر وہاں شادی کی۔ آپ کے دو فرزند میاں گل عبدالحنان اور میاں گل عبدالخالق پیدا ہوئے۔ 1848ء میں سپل بانڈئ کو خیر باد کہہ کر آپ مستقل سکونت کے لیے سیدو چلے آئے۔ اس وقت سیدوکو کوئی خاص اہمیت حاصل نہ تھی لیکن جب آپ نے اسے اپنی دایمی سکونت کے لیے منتخب کیا، تو اس کی اہمیت اور وقعت میں یک دم اضافہ ہوا۔ آپ کی وجہ سے سیدو، ’’سیدو شریف‘‘ بن گیا۔
1849ء میں جب سکھوں کوشکست دے کر انگریزوں نے پشاور پر اپنا قبضہ مستحکم کرلیا، تو اخوند صاحب نے سوات، ملاکنڈ اور بونیر کو انگریزوں کے تسلط سے بچانے کے لیے اپنے تمام وسایل جمع کیے۔ پشتونوں کی باہمی دشمنی ختم کرانے اور ایک مضبوط و مستحکم محافظ فوج ترتیب دینے کے لیے آپ نے بار بار جرگے کیے۔ شرعی حکومت کے قیام پر زور دیا۔ چناں چہ پہلی بار آپ نے ’’ستھانہ‘‘ کے سید اکبر شاہ کی نگرانی میں 1849ء میں حکومت قایم کی۔ یہ حکومت نازک اور ناگفتہ بہ حالات میں قایم ہوئی تھی اور ابھی اچھی طرح مستحکم بھی نہ ہوئی تھی کہ 1857ء میں سید اکبر شاہ وفات پا گئے۔ اس کے بعد بھی سوات میں مستحکم حکومت قایم کرنے کے لیے آپ نے اپنی مساعی جمیلہ جاری رکھیں۔ جب ستمبر 1863ء میں انگریزی فوج کا ایک دستہ ملکا نامی گاؤں کو تباہ کرنے کے لیے بونیر کے علاقہ میں داخل ہوا، تو وہاں کے لوگوں نے انگریزوں کی خلاف شدید مزاحمت شروع کی۔ اخوند صاحب کا جذبۂ جہاد بھی شدت اختیار کرگیا اور آپ چھبیس اکتوبر 1863ء کو باقاعدہ جنگ پر آمادہ ہوگئے۔
انگریزی فوج کے پاس ہر قسم کا جدید اسلحہ تھا اور ان کی تعداد دس ہزار تک تھی۔ اس مسلح اور منظم فوج کے مقابلہ میں اخوند صاحب کے ساتھی معمولی دیسی ہتھیاروں یا محض لکڑی اور پتھروں سے مسلح تھے اور ان کی تعداد سات ہزار سے زاید نہ تھی۔ یہ لڑائی پوری شدت سے امبیلہ اور ملکا وادئ بونیر کے پہاڑی مورچوں میں بیس اکتوبر 1863ء سے شروع ہو کر ستائیس دسمبر 1863ء تک جاری رہی۔ اخوند صاحب اور ان کے ساتھیوں نے نہتے ہو کر بریگیڈئیر جنرل سرنیول چیمبر لین کی افواج کا جس جواں مردی سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کے صفحات میں ایک یادگار دستاویزکی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزوں کو بہت جانی نقصان اٹھانا پڑا، خود چیمبرلین بھی شدید زخمی ہوا۔ مجاہدین کی اکثریت بھی شہید ہوئی۔ انگریزوں کواس لڑائی میں کوئی علاقہ نہیں ملا۔ انھوں نے ملکا میں آگ لگا دی۔ مجاہدین ختم نہ ہوئے اور انھوں نے اپنا مرکز دوسری جگہ بنالیا۔
بارہ جنوری 1877ء کو اخوند صاحب سوات نے وفات پائی۔ آپ کا مزار سیدو شریف میں ہے۔ جہاں دور دراز سے آنے والے ہزاروں زایرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔
(فضل ربی راہیؔ کی کتاب ’’سوات سیاحوں کی جنت‘‘ سے انتخاب، صفحہ 167-69، ناشر شعیب سنز جی ٹی روڈ مینگورہ سوات)
3,205 total views, no views today


