تحریر ؛ محمد زبیر خان
سوات کے تحصیل علیگرامہ میں انگریز دور کا پرانا قبرستان ہے جس کی دوتہائی حصہ پر لوگوں نے قبضہ کرلیااور اس کی زمین کو اپنی زمین میں شامل کردیا ہے ۔جس سے قبرستان میں جگہ اب اہستہ اہستہ ختم ہورہی ہے اور چند سال بعد یہاں پر قبر بنانے کیلئے کسی کو جگہ نہیں ملے گی ۔

گاوں علیگرامہ کے حیدر گل بابا کہتے ہیں کہ میری 95سال عمر ہے اور میں نے اپنے اباواجداد سے سنا ہے کہ یہ علیگرامہ کا خزانو مقبرہ انگریز دور کا ہے، جس پر اب لوگ قبضہ کرنے لگا ہیں، مقبرہ کے دو تہائی حصہ پر قبضہ کیا جا چکا ہے اور مزید بھی اس پر لوگ قبضہ کررہے ہیں۔قبضہ مافیا نے قبرستان کی بے حرمتی بھی کی ہے، جگہ جگہ قبروں کو کھودا گیا ہے جس میں اب ہڈیاں نظر اتی ہے ۔

اس گاوں کے ایک اور65 سالہ عمر رسیدہ شخصیت درانے ماما کہتے ہیں کہ قبرستان کے زمین کے ایک حصہ کو بھی کئی اطراف سے لوگ اپنے قبضہ میں لے رہے ہیں ۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ہماری زمین (دوتر )ہے ، جبکہ ہمارے اباواجداد کہتےتھے کہ یہ مقبرہ بہت پرانا ہے ،یہ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف اور دیگر محکمے کے اہلکاروں نے اس مقبرے کا دورہ کیا ہے اس کی تصویریں بھی لی ہیں لیکن ابھی تک اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔

خزانوں مقبرے کی اپنی مدداپ کے تحت حفاظت کرنے والے سماجی شخصیت محمد ہلال کہتے ہیں کہ میں گزشتہ دس سالوں سے محکمہ اوقاف ، ڈی سی سوات اور اے سی سوات کو درخواستیں دے رہاہوں لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے، انہوں نے کہاکہ بااثر افراد مسلسل قبرستان پر قبضہ کرنے میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیراعلیٰ محمود خان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس پر ایکشن لیں ۔کیونکہ ان کو بھی موت انی ہے اور وہ بھی قبر میں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں مزید اب درخواستیں نہیں کرونگا اب میں عدالت جاونگا اور ڈی سی سوات ، محکمہ اوقاف اور اے سی تحصیل کبل پر مقدمہ درج کرونگا، انہوں نے کہا کہ اس قبرستان کی حفاظت کیلئے اگر میری جان بھی چلی جائے تو میں اس سے نہیں گھبراونگا۔

قبرستان کی حفاظت کیلئے اب ایک کمیٹی بھی بنائے گی ، جس میں علاقہ کے کئی سماجی وسیاسی شخصیات شامل ہیں وہ قبرستان کو اپنی اصل حالت میں لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ، لیکن وہ حکومتی اداروں سے مدد کی اپیل بھی کررہے ہیں ۔
1,419 total views, no views today



