محمد شیر علی خان
برہ درشخیلہ کے لیے ایک تاریخی دن ثابت ہوا۔ تیاری 21 مئی سے شروع ہو چکی تھی۔ انتظا میہ حرکت میں آچکی تھی۔ کیوں کہ آج گاؤں کے سکول گراؤنڈ میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام صاحب کی طرف سے کھلی کچہری لگنے والی تھی۔ نور کے تڑکے سوات کے تمام آفیسر پہنچ چکے تھے۔ کمشنر صاحب مقررہ وقت کی بجائے دیر سے پہنچے۔ لوگ دھوپ میں بیٹھے انتظار کرتے کرتے تھک چکے تھے۔ اِس لیے جب وہ نمودار ہوئے، تو بعض جوشیلے نوجوان احتجاج پر اُتر آئے، جن میں شباب خان شاہ جی اورڈاکٹر جاویدکاکاجی پیش پیش تھے۔ یوں ’’مردہ باد‘‘ کے نعروں سے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔ خیر، کمشنر صاحب، ڈپٹی کمشنر، ناظمِ اعلا سوات محمد علی شاہ، نائب ناظم سوات عبدالجبار خان اورتحصیل ناظم مٹہ عبداللہ خان سمیت ضلع کے اعلا افسران اور معززینِ علاقہ کے درمیان اٹھنے والی تلخی کو رفع دفع کرنے کے لیے کمشنر صاحب خود سٹیج پر آئے اور عوام سے مخاطب ہوکر دیر سے پہنچنے پر معذرت کی۔
جب مجمع پُرسکون ہوگیا، تو اسسٹنٹ کمشنر مٹہ نے سٹیج سنبھالا۔ تلاوتِ قرآن پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا جس کے بعد لوگوں نے مسائل کا انبار لگا دیا۔ مسائل میں تقریباً چالیس فیصد حقیقت پر مبنی تھے۔ باقی کچھ گڑے گئے تھے اور کچھ چھوٹے مسائل کو یوں ہی ہوا دی گئی تھی۔ زیادہ تر مسائل بار بار اُچھالے جا رہے تھے۔ الغرض، کچھ مسائل سیاسی تھے، تو کچھ عدالتی…… جب کہ بعض انتظامی بھی لگتے تھے…… جن میں کوئی خود کومتعارف کرنا چاہتا تھا، یا کسی شخص، ادارے یا سیاسی پارٹی کوٹارگٹ کر نا چاہتا تھا۔ بعض حضرات مسئلے کم اور افسانے زیادہ بیان کر رہے تھے۔ قابلِ داد بات یہ تھی کہ کمشنر صاحب مسائل انہماک سے سن رہے تھے اور ساتھ نوٹ بھی کرتے جارہے تھے۔ اُن کا ہنگامہ آرائی کے دوران سٹیج پر آنا، دیر سے آنے پر معذرت کرنا اور حکمت سے ماحول کو سازگاربنانا ایک اعلا مرتبے والے افسر کی بین نشانی تھی۔
674 total views, no views today



