تحریر : ملک توصیف احمد
میدان جنگ میں افواہوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے ایسے ایسے خیالی واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں جس میں عام شہری تو بڑی دلچسپی لیتے ہیں مگر خیالی واقعات کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں ہوتا اور ان واقعات کا تعلق مختلف شعبہ کے “باتونی” افراد سے ہوتا ہے جو طرح طرح کی “گپیں” چھوڑ کر داد وصول کرتے ہیں جبکہ یہ “گپی” افراد کسی بھی واقعہ کی حقیقت سے نابلد ہوتے ہیں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی دھرنے کے دوران بھی ان “گپستان” گروپس کی جانب سے کہانیاں “گھڑی” گئیں جو وطنِ عزیز کے طول و عرض پر پھیل گئیں ان کی “چھوڑی” ہوئی “گپیں” سینہ با سینہ چلتی ہوئی سازشی افراد تک جا پہنچیں جو آئی جی پنجاب پولیس کو تبدیل کروانے کے لیے تانے بانے “ادھیڑنے” لگے اور اس سازش کا شکار آئی جی پنجاب پولیس کا ایک “ماتحت” بھی بن گیا اسے سازشی ٹولے کا رکن تو نہیں کہا جا سکتا البتہ ایک خط سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا ۔یہ ماتحت لا اینڈ آرڈر کی ڈیوٹی کے دوران مظاہرین کے ہتھے چڑھ کر “چکرا” گیا تھا پھر پولیس کا ایک ماتحت طبقہ آر پی او گوجرانوالہ کے پیچھے چڑھ دوڑا کہ ان کی فرار سے سپاہ “بددِل” ہو گئی تو پہلے یہ کہ RPO کا سادھوکی پہنچنا ہی غلط تھا دوسرا یہ کہ اگر سپاہ “فرار” اختیار کر جائے تو کیا اس پر ریجنل پولیس آفیسر اکیلا ہی مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل بس آتا یا پھر لاٹھی پکڑ کر چارج کرتا یا آئی جی پنجاب پولیس مظاہرین پر گولی چلانے کے احکامات جاری کر دیتے ہیں ۔یہ آئی جی پنجاب پولیس کی شاندار حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مذہبی تحریک کے پرتشدد دھرنے میں کوئی سویلین جان کی بازی نہیں ہارا اور ملک ایک بڑے نقصان سے بچ گیا ورنہ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف مقتولین کے قصاص کا پھندا ڈالنے کے لیے اپوزیشن پورے زور و شور سے سڑکوں پر نکل پڑتی ہے سانحہ ماڈل ٹان کے “ان مِٹ” نقوش قارئین کے ذہنوں میں ہوں گے جو اس وقت کی حکمران جماعت کے لئے درد سر بنا رہا پھر راولپنڈی میں بھی مذہبی جماعت کے دھرنے سے جو نقصان ہوا اسے بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔اگر آئی جی پنجاب پولیس یا سادھوکی میں موجود گوجرانوالہ پولیس کے کمانڈر ایس ایس پی آپریشن سابق روایات کو دہراتے تو پی ٹی آئی پر قاتل تحریک کی چھاپ لگنے سے کوئی نہیں روک پاتا اب بات کرتے ہیں پولیس فوج کی پسپائی کی، تو پوزیشن بدلنے کو کسی بھی صورت پسپائی کا نام نہیں دیا جاسکتا ۔کیا گوجرانوالہ پولیس احتجاجی مظاہرین پر گولیاں برسا کر “خون کی ہولی” کھیلتے اور ان کے سامنے بھی تو اسی ملک کے “باسی” تھے ان کی جان و مال کا تحفظ بھی انہی کے ذمہ تھا اپنے 5 جوانوں کی شہادت اور267 افسران و اہلکاران کے زخمی ہونے کے باوجود پنجاب پولیس نے جس صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا وہ لائق تحسین ہے رہی بات سادھوکی سے فرار اختیار کرنے والوں کی تو پنجاب پولیس کے سکیورٹی ونگ نے پہلے سے آگاہ کر رکھا تھا کہ مظاہرین کے پاس 20 کے قریب ”شیل بیگ” موجود ہیں، اسلحہ بھی رکھے ہوئے ہیں تو کنٹینرز کے پیچھے ”بیک اپ” فورس جو 4000 افراد پر مشتمل تھی اور فرنٹ لائن پر 200 کے قریب افسران و اہلکاران مظاہرین کو منتشر کرنے میں مصروف تھے ان فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کو ”کمک” پہنچانے والوں کا راستہ 4 ہزار سپاہ نے روک رکھا تھا جو کنٹینرز کے پیچھے چھپ کر ”گپیں ہانک” رہے تھے، جو گزشتہ کئی روز سے مختلف ہوٹلوں پر لمبی تان کر لمبی لمبی چھوڑتے رہے اور سرکاری راشن کو ختم کرنے میں لگے رہے اور جب لاء اینڈ آرڈر کو قائم کرنے کا وقت آیا تو راہ فرار اختیار کر لی اور اپنے افسران پر انگلیاں اٹھانی شروع کر دیں، جنہیں صرف 20 کے قریب آنسو گیس کے شیلز نے پچھاڑ کر رکھ دیا تھا یہ وہ 4 ہزار بیک اپ فورس بھاگ رہی ہے جو اپنے بہترین کمانڈر پر انگلیاں اٹھا رہی ہے اگر آپ میدان سے بھاگنے سے قبل فرنٹ لائن پر بے جگری سے لڑنے والے کو مظاہرین کی طرف سے پھینکے گئے آنسو گیس کے شیل اٹھاتے اور واپس تھرو کرتے دیکھتے تو آپ کے حوصلے کبھی پست نہ ہوتے، فرنٹ لائن پر لڑنے والے شیر جوان مظاہرین سے گتھم گتھا تھے ان سے ٹیئرز گیس شیلز کے بیگز چھینے جا رہے ہیں، ایس پی، ڈی ایس پی، ایس ایچ اوز و دیگر سب انسپکٹرز، اسسٹنٹ سب انسپکٹرز و اہلکاران زخمی ہوئے ہیں، اور یہاں ایک بہادر کمانڈر اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک ”زیرک” آفیسر اپنی سپاہ کو بحفاظت نکالنے کیلئے بے قرار ہے، یہ وہی ایس ایس پی آپریشن آصف امین ہے جس نے نہ صرف حکومت کو بڑے بحرانوں سے نکالا، گوجرانوالہ پولیس کے ہر ہر سپاہی کے وہاں سے نکلنے تک سادھوں کے مقام پر کھڑا رہا اور آج بھی وہ اپنی سپاہ کو بہادر اور پنجاب پولیس کے ماتھے کا جھومر سمجھتا ہے، بغیر کسی مبالغہ آرائی کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایس ایس پی آپریشن نے 7 دن تک عام سپاہیوں کی طرح جو ماتحت کھاتے انہیں کے ساتھ دستر خوان پر کھاتے رہے، رہنے کیلئے وہی کھلا آسمان جو سب کے لئے تھا یہ سب کچھ صرف اپنی سپاہ کا مورال بلند کرنے کا ایک بہترین سپہ سالار کا علی نمونہ تھا جسے فتح نہیں بلکہ اپنے وطن کی بقاء عزیز تھی جو کسی کی ذاتی خواہش کو تسکین دینے کیلئے سادھوکی ایک انسان کا بھی خون بہانے کو تیار نہیں تھا اسے اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر کاربند رہنا تھا اسے حکومتی فیصلوں پر مکمل اطمینان تھا، معرکہ سے واپس ”گپ ماسٹرز” کی ایک بونگی ملاحظہ فرمائیں، کہتے تھے سی پی او گوجرانوالہ سید حماد عابد مارے خوف کے چھٹی پر رخصت ہو چکے ہیں، راقم کے ایک دوست نے بتایا کہ سی پی او گوجرانوالہ کی یہاں تعیناتی سے قبل کی چھٹی منظور ہوئی تھی اور دلیل کے طور پر وہ کوئی سرکاری لیٹر بھی دکھا رہے تھے یہ دوست گوجرانوالہ میں بطور ایس ایچ او تعینات ہیں اور سادھوکی میں فرنٹ لائن پر تھے اچھی خاصی ”کٹ” بھی پڑی ہے، فیصلہ عوام پر ہے کہ وہ اس واقع کو پولیس کی شکست سمجھتے ہیں یا پھر پنجاب پولیس کے کمانڈر کی بہترین حکمت عملی؟
677 total views, no views today



