روبینہ خان ایڈوکیٹ
پاکستان کا شمار تشدد کے حوالے سے چھ خطرناک ملکوں میں ہوتاہے۔ اگر ہم روزانہ کا اخبار اٹھا کر دیکھیں تو کم از کم ہر روز اخبار میں دو تین پُرتشدد واقعات کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہے۔ تشدد کی ہر شکل کو ہمراہ مذہب اور معاشرہ اس بات کی قطعا اجازات نہیں دیتا بلکہ دنیا کے کسی بھی معاشرے ، مذہب اور قانون میں تشدد کی اجازات نہیں ہے ۔ مہذب معاشرے تشدد کی بنیاد پر ترقی پذیر نہیں ہوسکتے ۔ پُر تشدد واقعات کے رونما ہونے کی بنیادی وجہ عدم برداشت کی کمی ہے ۔ کیونکہ جب سوسائٹی میں عدم برداشت کم ہو جاتی ہے ۔ تو معمولی سی بات بھی تلخ کلامی تک پنچ جاتی ہے اور تلخ کلامی سے بڑھتے بڑھتے ایک خوفناک صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔ تشدد چاہۓ جنسی ہو یا جسمانی تشدد کی ہر شکل معاشرے اور ملک تباہ کر دیتی ہے ۔اس قسم کے واقعات سے ملک اور قومیں بکھر جاتی ہیں۔ بسنے والے ہر انسان کے لۓ لمحہ فکر اور ارباب اختیار کے لۓ غوروفکر کے متقاضی ہیں ۔ کہ آجکے معاشرے میں ایسے پُر تشدد واقعات کے ملزمان کی پشت پر آخر کونسے عناصر کھڑے ہیں ۔ ایسے واقعات رونما ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اقتدار ایوانوں سے کی روز تک ایسی پُر مذمت صدائیں بازگشت سنائی دیتی ہیں- کہ ملزمان کو عبرت ناک سزائیں ،جے،آئی، ٹی، اظہار افسوس ، ہمدردیاں ، محب لیام ، تبادلے جیسے احکامات اور بیانات سنسنے کو ملتے ہیں جو ہمارے معاشرتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں تشدد کی بنیادی وجہ مرد اپنے آپ کو حاکم سمجھتے ہوۓ عورت کو محکوم بناۓ رکھتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ایک تھانے میں ایک سال کے اندر اس نوعیت کے 300 سے چار سو تک کے مقدمات درج ہوۓ- 13 فروری 2021 جیو نیوز کے مطابق ہر روز ریپ کے گیارہ ہزار کیسز رپورٹ ہوۓ ہیں ۔ جبکہ سالانہ 22000 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک تھانے میں ایک سال کے اندر خواتین پر تشدد کے 300 سے400 تک کے مقدمات درج ہوۓ ۔ ایک غیر سرکاری تنظیم وویمن اسٹوڈنٹس ویلفیر سوسائٹی کے مطابق 2021 میں 1304 بچوں کوجنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔جن میں کچھ افراد تشدد کے بعد قتل کر دیے گۓ۔ پچھلے آٹھ مہینوں میں خیبر پختونخواہ کے تمام اضلاع میں خواتین اور بچوں پر تشدد کے بے شمار واقعات رونما ہوۓ ۔ جبکہ ڈی ، آئی ، خان تشدد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ تمام اضلاع سے 235 افراد گرفتار کیۓ گئے آۓ روز ایسے پریشان کن واقعات سن کر آدمی نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جہاں ہمارہ معاشرہ ایسا تباہی کا شکار ہے جہاں نہ معصوم بچیاں نہ ہی چھوٹے بچے اورنہ ہی عورتیں محفوظ ہیں ۔ پچھلے دنوں ویمن اسٹوڈنٹس ویلفیر سوسائٹی کی سیکرٹری ڈاکٹر دُرنایاب نے ان پُر تشدد حالات کے تدارک کے کۓ مختلف َطبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ ایک مشاورتی پروگرام کیا۔ جس میں ماہر نفسیات ، کرمنالوجی ، پولیس ، وکلا ، استاہذہ ، علما ، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نماہندوں کے علم وفضل اور تجربے سے استفادہ کیاگیا ۔ اور اس مشاورتی کونسل میں شریک لوگوں نے تشدد سے بچاؤ کے لۓ اپنی اپنی راۓ دی۔ والدین ، استاہذہ اور معاشرے کا فرض بنتا ہے کہ وہ بچپن سے اپنے بچوں کو تشدد سے محفوظ رکھنے کے بارے میں گاہ بہ گاہ آگاہ کریں ۔ قانون سازی ، نفاذ قانون کو مضبوط بناۓ حالانکہ صرف قانون ہی نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا اگر اس پر عملدار آمد نہ ہو اور عوام مسلۓ کی سنگینی سے آگاہ نہ ہو۔ تشدد کیوں ہوتا ہے؟ اسکی وجوهات نفسیاتی ہیں یا فکری پُر تشدد رویوں میں ایسا عدم احتمال جو مرد کی نفسیات اور معاشرے کے وجود کو خطرے میں ڈال دے آج کا بڑا سماجی مسلہ ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں تشدد کے واقعات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں تو سماجی زوال اور ٹوٹ پھوٹ کی علامات ہیں اس کا ازالہ کرنا اور اس کو روکنا ہم سب کی اجتماعی زمہ داری ہے۔ اساتذہ کا بھی فرض ہے کہ تعلیمی اداروں میں تشدد کےموضوع پر ورکشاپ اور سمینار منعقد کروایں جہاں تہذیب اور اخلاق کے حوالے سے حساسیت پیدا کی جاۓ حکومت قانون سازی کے ساتھ قانون کے نفاذ کو بھی یقنی بناۓ تاکہ ایسے جرائم پیشہ اور اس ذہنیت کے عناصر قانون کی گرفت سے باہر نہ رہیں ۔ نفاذ قانون تشدد سے محفوظ رکھنے کاایک علاج ہے اصل مسلہ ان واقعات کو روکنا ہی نہیں بلکہ ہمشہ ہمشہ کے لۓ ختم کرنا ہے۔ جو ایسی مجرمانہ زہنت رکھتے ہیں جسکے لۓ حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرۓ اگر قانون اپنی زمہداریاں ایمانداری سے ادا کرتا تو ایسے واقعات کبھی بھی رونما نہ ہوتے ایسے واقعات نے پولیس کے فرسودہ اور بےحس نظام پر مہر ثبت کر دی ہے پولیس نظام میں بہترین عملی اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں عدم تحفظ کی فضا قائم ہے ۔ پولیس کے غیر زمہ دارانہ رویوں غلط تفتیش اور ملی بھگت کی وجہ سے پُر تشدد واقعات میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ناقص نظام لوگوں کو تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کرسکتا مضبوط نفاذ قانون تشدد سے محفوظ رکھنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ اور یہی مضبوط ہتھیار ان عوامل کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے۔ جو مجرمانہ ذہنیت پیدا کرتے ہیں ۔ اس بھیانک کھیل میں ملوث ملزمان اتنے طاقتورہیں جنکے سامنے ارباب اختیار اور یہ پولیس نظام گھٹنے ٹیک چکا ہے ۔ حکومت کو چاہیۓ کہ ان واقعات کاجائزہ لے کر اصل محرکات تک پہنچے اوراس کرپٹ پولیس نظام کو سیدھا کرنے کے لۓ تکینکی بنیادوں پر عملی اقدامات اُٹھاۓ تاکہ کوئ بھی سفاک ذہنیت کا انسان پولیس کے مضبوط عملی نظام کے نفاذ سے ایسے بھیانک اقدام کو داہرنے سے قبل سو بار سوچنے پر مجبور ہو ۔ حکومت کی اولین زمہ داری بنتی ہے کہ مضبوط قانون کے نفاذ کے زریعے ایسا ماحول فراہم کرۓ جس میں لوگ اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں
1,304 total views, no views today



