میری غربت نے اُڑایا ہے میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں
یار مجھے یاد نہیں آ رہا کہ یہ کون ہے، یہ کس کی تصویر ہے مگر میں نے اس محترمہ کو کہیں دیکھا ہے۔ ذہن پر بار ہا زور ڈالنے کے باوجود یاد نہ کرسکا۔ خیر، اگلی پوسٹ دیکھنے لگ گیا۔ دو دن بعد جب دوبارہ فیس بک اکاؤنٹ اوپن کیا، تو دوبارہ اسی محترمہ کی پوسٹ سامنے آگئی۔ اس مرتبہ اس کو مشہور ومعروف ڈرامہ رایٹر جہانزیب قمر صاحب نے شیئر کیا تھا۔ تصویر وہی تھی مگر ساتھ نام بھی لکھا تھا۔ وہ تصویر 1970ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی اسکرین میں جلوہ گر ہونے والی روحی بانو صاحبہ کی تھی۔
روحی بانو صاحبہ مشہور طبلہ اُستاد اللہ رکھا کی بیٹی ہیں۔ روحی بانو ٹی وی کی دنیا کا وہ نام ہے جنھوں نے اپنے فن کی بہ دولت آسمان کی بلندیوں کو چھوا۔ بدقسمتی سے شادی کے بندھن کو برقرار نہ رکھ پائی۔ ان کا ایک اکلوتا بیٹا علی تھا جس کا قتل ہو گیا اور تب سے ان کا ذہنی توازن بھی کچھ بگڑ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شوبز انڈسٹریز کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے۔
اب وہی روحی بانو صاحبہ جن کا ڈرامہ دیکھنے کے لیے لوگ ہفتہ ہفتہ انتظار کیا کرتے تھے، اب وہ لاہور کی سڑکوں پر خاک چھانتی آپ کو نظر آئے گی، تو کبھی لاہور پاگل خانہ میں۔ آخری دفعہ مجھے یاد ہے جب وہ ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں آئی، تو انھوں نے کار کی فرمایش کی تھی اور یہ بھی کہاں کے میرے گھر کے پردے پھٹے ہوئے ہیں۔ وہ بھی لے کے دیں۔ وہ کہتی تھی کے میرا علی کار میں مجھے بازار لے کر جائے گا۔ جوان بیس سالہ علی کی موت مامتا کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔
بانو صاحبہ کوپرایڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا۔ اب وہ ایک نفساتی مریضہ بن چکی ہیں مگر اس کا علاج ہو سکتا ہے مگر خرچہ کون کرے؟ ہمارے ہاں ہیروز کی قدر نہیں کی جاتی۔ ظالم معاشرہ کے ظالم لوگ ہیں۔ ہمارے ایسے بہت سے آرٹسٹ ہیں جنھوں نے لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں مگر کبھی کسی نے ان کا من نہیں دیکھا۔
بچوں کا من پسند کردار ایک زکوٹا جن بھی تھا اللہ بخشے، جس نے میرے سمیت بچوں کو تو بہت ہنسایا مگر اپنی زندگی کس مہ پرسی میں گزار دی۔ منا لاہور ی کو فالج تھا۔ مالی معاونت نہ ہونے کے باعث زکوٹا جن کو معاشرتی وحکومتی بے حسی کا جن کھا گیا۔ زکوٹا جن عرف منا لاہوری نے ہزار سے زیادہ فلموں اور ڈراموں میں کام کیا، اتنا کام تو بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن نے نہیں کیا ہو گا! مگر منا لاہوری کرائے کے گھر میں رہتا تھا جس نے ایک بیوی اور چھ بچوں کو سوگوار چھوڑا۔ اس طرح کنگ آف کامیڈی ببو برال جن کے گردے فیل ہوگئے۔ فیملی میں کسی کا گردہ میچ نہ کرنے کے باعث اور حکومتی امداد نہ ہونے سے وہ اپنا علاج ایک سرکاری اسپتال میں کرواتے رہے۔ اکیسویں صدی میں تو گردہ کیا دل، جگر تک ٹرانسپلانٹ ہو رہے ہیں مگر اس کو ایک گردہ میسر نہ آ سکا۔ آخر وہ بھی جان کی بازی ہار گئے۔ اسٹیج کی دنیا کا ایک اور نام جس کو لوگ مستانہ کہتے تھے ہیپاٹائٹس میں مبتلا تھا۔ بہاولپور کے وکٹوریہ اسپتال میں دم توڑ گیا۔ فلم انڈسٹری کے سلطان، سلطان راہی کا قتل، انجمن شہزادی کی پر اسرار موت، یہ سب حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔
کامیڈین محمود خان بھی کرائے کے گھر میں مقیم تھے۔ کرایہ نہ دینے پر مالک مکان نے باہر نکال دیا اور وہ اپنی کل کاینات جن میں ایک اٹیچی کیس، چند برتن لے کر لاہور پریس کلب کے باہر بیٹھ گئے اور حکومت حرکت میں آئی اور ان کے مفت علاج کی ذمہ داری اُٹھائی گئی مگر وہ بھی دم توڑ گئے۔
موت برحق ہے اس کا انکار نہیں ہے مگر کم از کم ان ہیروز کا بیرون ملک علاج تو کرایہ جا سکتا تھا۔ اصل ہیروز ہمارے آرٹسٹ ہیں جو لوگوں کے چہروں پر خوشیوں کے انبار لگا دیتے ہیں مگر حقیقت میں ان کی اپنی مسکراہٹوں کے پیچھے ہزاروں غم چھپے ہوتے ہیں۔ فن کار کسی بھی ملک کے سفیر ہوتے ہیں جو ملک کی نمایندگی کرتے ہیں۔
باقی تو چلے گئے مگر اب اس روحی بانو کا توکچھ کیا جا سکتا ہے۔ فن کار برادری کی امداد کے لیے فن کار ویلفیئر فنڈ تو موجود ہے، مگر وہاں پر کئی کئی ماہ فن کار ذلیل ہوتے ہیں اور چیک ہی نہیں ملتے۔ حکومت کو اس طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔
لاہور کے مقامی ٹی وی نے ’’جاوید کوڈو‘‘ اسٹیج اداکار کی غربت کی خبر بھی نشر کی تھی، جو بھوک وافلاس سے دوچار تھا۔ یہاں یہ تو قدر کی جاتی ہے ان اداکاروں کی اور ہمسایہ ملک پاکستانی آرٹسٹوں کے پاؤں چومتا ہے۔ اگر بھارت میں جائیں، تو عوام اور باقی فن کار برادری شوشے چھوڑ دیتی ہے جو کہ غلط ہے۔
مختصر یہ کہ ہیروز کی قدر کی جائے۔ وہ چاہے آرٹسٹ ہوں یا ادیب۔ اسکالرز لکھتے ہیں جو معاشرے ہیروز کی قدر نہیں کرتے، وہاں ہیروز جنم نہیں لیتے!
768 total views, no views today


