ایف سی کے محترم کمان افسر ’’علی شیر صاحب‘‘! اگر جان کی امان پاؤں، تو کچھ عرض کروں!
جناب والا! مجھے اندر کا انسان پچھلے چوبیس گھنٹوں میں آدھے سے زیادہ کھا چکا ہے۔ مَیں ان ’’بلڈی سویلینز‘‘ میں سے ایک ہوں جنھیں عرف عام میں ’’عام آدمی‘‘ کہا جاتا ہے۔ آپ کے دولت خانہ تک ہم کیڑے مکوڑے کی رسائی ممکن نہیں، اس لیے سوچا اخبار کا سہارا لوں۔
حضور والا! چھوٹا منھ بڑی بات، اپنا مدعا بیان کرنے سے پہلے سرِدست میرے باباجی (پیر و مرشد)کی بچپن کی ایک کہانی ملاحظہ کیجیے۔ ہوا یوں کہ ایک دن باباجی سینما میں فلم دیکھنے کی غرض سے گئے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے گیلری کا ٹکٹ خریدا۔ ہاف ٹایم میں جیسے ہی باباجی کی نظر فرسٹ کلاس پر پڑی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے والدِ بزرگوار بھی اپنے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے آئے ہیں۔ بابا جی کے بہ قول: ’’میں مارے خوف کے نشست پر سمٹا سمٹایا بیٹھ گیا۔ ہاف ٹایم میں عموماً لوگ بھوک مٹانے کی غرض سے کھانا کھاتے ہیں یا جوس اور چائے وغیرہ لیتے ہیں، لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور جیسے ہی فلم ختم ہوئی۔ سر پر پیر رکھ گھر کی طرف بھاگ نکلا۔ اس دوران میں وقتاً فوقتاً خدا کا شکر بھی ادا کرتا رہا کہ والد بزرگوار کی نظر مجھ پر پہلے نہیں پڑی۔ میں جیسے ہی گھر پہنچا، کیا دیکھتا ہوں کہ والد صاحب مجھ سے پہلے ہی پہنچ گئے ہیں اور میرے انتظار میں آرام کرسی پر محو استراحت ہیں۔ آتے ہی اولاً رسماًکھانسا اور ثانیاً سلام کیا۔ والدِ بزرگوار نے ایک چبھتی نگاہ ڈالتے ہوئے کہا کہ ’لڑکے! فلم دیکھا کرو، مگر جب اسے میرے پیسوں سے دیکھنے جاؤ، تو پھر مجھ سے ایک کلاس نیچے بیٹھا کرو۔‘‘
حضورِ والا! آپ سوچیں گے کہ کہانی کی ضرورت یہاں کیوں پیش آئی؟ تو خاکم بہ دہن، جاری نشست کے اختتام پر اس کا جواب دوں گا۔ سرِدست کل کے ’’حادثہ‘‘ کی طرف آتے ہیں۔ ایک ڈرائیور جو باقی ماندہ اہلِ سوات کی طرح ’’بلڈی سویلین‘‘ تھا، درجن بھر اسکول کے بچوں (جن میں زیادہ تر بچیاں تھیں) کو گھر چھوڑ رہا تھا۔ بدقسمتی سے اس نے راستہ میں حضور والا کے جگر گوشوں کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ اب آگے جانے سے پہلے یہاں میری ذہن کی ’’فساد بھری‘‘ ہنڈیا میں یہ سوال بھی کھد بد کر رہا ہے کہ آیا تمام تر غلطی اس ’’بلڈی سویلین‘‘ کی تھی یا اس میں حضور والا کے ڈرائیور کی کوتاہی بھی شامل تھی؟ لیکن آپ نے حضور والا، آؤ دیکھا نہ تاؤ اور ڈرائیور کو اپنے ’’محافظین‘‘ کے توسط سے ’’اُٹھا‘‘ لیا۔ بات یہاں تک ہوتی، تو بھی میرے اندر کا انسان مجھے کھانے کو نہ دوڑتا، مگر آپ نے تو حد کردی۔ درجن بھر بچوں اور بچیوں کو اسی مقام پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ ان کا ڈرائیور اٹھانے کے بعد حضور والا، آپ کا فرض بنتا تھاکہ کم از کم ان کو ڈراپ کرنے کا کوئی بندوبست تو کرتے۔ چار گھنٹے بچے اسکول میں بھوکے پیاسے رہے، کیوں کہ ’’تبدیلی والی سرکار‘‘ نے اسکولوں میں کینٹینوں کو بند رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ بچے بھوکے پیاسے اسی مقام پر کھڑے رہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضور والا کے ’’محافظین‘‘ میں سے کسی نے ان معصوموں کو وہاں سے نہ ہلنے کی ’’آگیا‘‘ دی ہو۔ ’’حادثہ‘‘ کوئی بارہ بجے کے قریب پیش آیا تھا اور درجن بھر معصوم بچے اور بچیاں شام تک بے یار و مددگار اسی مقام پر ’’ہاتف غیبی‘‘ کے انتظار میں خوار ہوتی رہیں۔ خاکم بہ دہن، کیا یہ ایک طرح سے مذکورہ بچے اور بچیوں کو یرغمال نہیں بنایا گیا تھا؟
حضور والا! آپ نے تو کمال کر دیا۔ ’’حادثہ‘‘ رونما ہونے کے بعد آپ نے بہ یک وقت ٹریفک پولیس، پولیس اور جج کا کردار ادا کیا۔ میں آپ کو داد دیتا ہوں کہ اتنے محکموں کا کام آپ صاحبان نے اکیلے نمٹا دیا۔ ویسے بھی اس ملک کے قانون کا حال میرے ایک پرانے قطعہ کے مصداق ہے۔ آپ کی خدمت میں ایک بار پھر عرض کیے دیتے ہیں
یہ جنگل ہے، یہاں منھ بند رکھنا
یہاں باتیں بڑی کرنا منع ہے
وہاں پر ہی کھڑی پاؤگے پیارے
جہاں گاڑی کھڑی کرنا منع ہے
حضور والا! اب آتے ہیں تمہید کی غرض سے بیان کی جانے والی کہانی کی طرف۔ آپ کا رینک بھلے ہی ایک ’’کرنل‘‘ کا ہو، ہیں تو آپ ہم عوام کے خادم۔ کیوں کہ آپ کی تن خواہ اس بلڈی سویلینز جسے مہذب دنیا میں ’’قوم‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، کی جیب سے ادا ہوتی ہے۔ آپ نے جو وردی پہنی ہے، آپ جس دفتر میں اپنی افسری کا رعب جماتے ہیں، جس بنگلہ کے پُرشکوہ ماحول میں استراحت فرماتے ہیں، یہاں تک کہ جس سرکاری گاڑی میں آپ کے جگر گوشے اسکول آیا جایا کرتے ہیں، نہ صرف وہ گاڑی بلکہ اس کا تیل تک اس قوم نما بھیڑ کی جیب سے ڈلوایا جاتا ہے۔
حضور والا! خاکم بہ دہن، آپ ہمارے پیسوں سے فلم دیکھتے ہیں، تو براہِ کرم! ہم سے ایک کلاس نیچے نشست خرید کر بیٹھا کریں۔آپ کا رینک اگر کرنل کا ہے، تو وہ توآپ کے اہل کاروں یا ماتحت عملہ کے لیے ہے۔ اس قوم نما بھیڑ کے تو آپ خادم ہیں۔
برسبیل تذکرہ، ہمارے ایک رفیق کار اور سینئر صحافی دیگر صحافیوں کے ساتھ ملم جبہ میں وردی والے صاحبان کے ساتھ بھڑ گئے۔ ایک صوبہ دار اپنے کنٹرول روم تیزی سے گیا اور واپس آتے ہی حکم صادر فرما دیا کہ ’’میجرصاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔‘‘ صوبہ دار کو جواب دیا گیا کہ ’’معاف کیجیے گا، میجر ہوں گے آپ کے، ہمارے تو خادم ہیں۔ انھیں کہیں کہ نیچے آکر ہمارے ساتھ بات کریں۔‘‘
حضور والا! شاید میرا مدعا پورا ہوچکا۔ اب کم از کم میرا اندر کا انسان مجھے کھانے کو نہیں دوڑے گا اور اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے چاہا، تو کم از کم آج سکون کی نیند لوں گا۔
جاتے جاتے فیاض ظفر کو سرخ سلام، جس نے کسی کو خاطر میں لائے بغیر اس ظلم کا نقشہ نیوز ویب سایٹ زما سوات ڈاٹ کام پر کھینچا۔ باقی اگر اس ملک کا کوئی قانون ہوتا، تو ہم اس کادروازہ ضرور کھٹکھٹاتے۔ قانون کے نام پر یہاں جو کھلواڑ جاری ہے اگر اسے ضبط تحریر میں لایا گیا، تو اخبار کے صفحات آگ پکڑ لیں گے۔
اللہ ہم تمام ’’بلڈی سویلنز‘‘ کا حامی و ناصر ہو۔
720 total views, no views today


