سوات:یتیم سوات میں محکمہ واپڈا کی جانب سے جنرل سیلز ٹیکس ، ای ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسیوں کئ وصولی کا انکشاف ، محکمہ واپڈا نے چھ لاکھ روپے کی بجلی خرچ کرنے والے صارف کے پیچھے چودہ لاکھ روپے کا بل بیجھ دیا ، ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والے فیکٹری مالکان کا فیکٹریاں بند کرنے پر غور ، مذید عوام بے روزگار ہونے کا خدشہ تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت کی جانب سے ملاکنڈڈویژن کوٹیکسوں میں 2023تک چھوٹ دینے کے باوجود محکمہ واپڈا کی جانب سے بجلی کے بلوں میں جنرل سیلز ٹیکس ، ود ہولڈنگ ٹیکس ، ای ٹیکس اور ایف پی اے سمیت دیگر ٹیکسوں کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے اور نومبر کے بجلی بلوں میں تمام شامل صارفین کے پیچھے بیجھ دی گئی ہے جس سے صارفین شدید مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں اور ان ٹیکسیوں کو کاٹنے کیلیے واپڈا آفس کے چکروں پر مجبور ہوگئے جبکہ واپڈا افسران کی طرف سے انہیں بل جمع کرانے کئ ہدایت کی جا رہی ہے اور انکا کہنا ہے کہ ہم اس میں کچھ بھی نہیں کر سکتے تمام صارفین اپنے بل جمع کرائیں زرایع کے مطابق ایک فیکٹری مالک کے پیچھے چودہ لاکھ تین ہزار چھ سو تیئس روپے کا بل بیجھ دیا گیا ئے جبکہ خرچ شدہ بجلی کا بل چھ لاکھ تیرانوے ہزار ستر روپے بنتے ہیں جبکہ اٹھ لاکھ روپے ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا جا رہا ہے فیکٹری زرایع کے مطابق حالیہ بلوں میں بھاری بھر ٹیکسوں کی وجہ سے فیکٹری مالکان تشویش کا شکار ہوگئے ہیں اور ظالمانہ اضافے کے بعد فیکٹریاں بند کرنے پر فاحور کر رہے ہیں جس کے وجہ سے سوات سمیت ملاکنڈڈویژن میں بے روزگاری نیم میں مذید اضافے کا خدشہ ہے سوات کے عوام نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور وزیر اعلی محمود خان سے فوری طور پر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
سوات
بجلی بلی میں ٹیکسوں وصولی ، عوام کا عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ ، صلاح مشورے شروع ، سوات کے ٹیکس فری زون میں بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے وصولی کے خلاف سوات کے عوام نے عدالت کا دروازہ کھٹکتا نے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں وکلاء سے قانونی صلاح مشورے شروع کر دئے ہیں تاکہ ٹیکس فری زون میں ظالمانہ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرتے ہوئے اس ظلم سے نجات پایا جاسکیں
462 total views, no views today



