آپ میں سے کسی نے ٹرانس جینڈر بل کے حوالے سے 2018. میں پاس ہونے والے بل پر مشتاق صاحب کی گفتگو دیکھی ہے خاص طور پر تیسری شق کے حوالے سے…
پتہ نہیں یہ قانون پاس کیسے ہو گیا ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بابت اختلاف کیوں نہیں ظاہر کیا..
حالانکہ مشتاق صاحب اپنی گفتگو میں واضح کر رہے ہیں کہ گزشتہ تین برسوں میں اٹھائیس ہزار پاکستانیوں نے اس قانون کے تحت اپنی جنس کو تبدیل کیا، صرف سولہ ہزار مردوں نے اپنی بیالوجیکل سیکس کو مرد سے عورت میں تبدیل کیا اور نادرا نے اس قانون کے تحت ان کے جنسی رحجانات کو دیکھتے ہوئے ان کی جینڈر کو تبدیل کیا.
تصور کیجئے کہ سولہ ہزار افراد نے اپنی جنس کو قانوناً بدلنے کے بعد، بیالوجیکل ساخت کو بدلنے کا حق بھی حاصل کر لیا ہو گا.
sexual Orientalism
کے حوالے سے یہ قانون بعینہ ہم جنس پرستی کو نارملائز کرنے کی کوشش ہے، جس سے جنسی رحجانات کو صنفی اعضاء کے بجائے، مخصوص ماحول میں پنپنے والے جنسی رحجانات کے تعین پر چھوڑ دیا گیا ہے.
مثلاً فرض کیجئے ایک بیالوجیکل لڑکا کسی بھی وجہ سے same جینڈر اٹریکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے لیے یہ راستہ نکالا گیا ہے کہ وہ اپنی جنس کو قانوناً تبدیل کرا سکتا ہے..
گویا ایک فرد کے نفسی رحجانات طے کریں گے کہ اس کی جینڈر کیا ہونی چاہیے..
کیا یہ وہی راستہ نہیں ہے جو جینڈر fluidity تک جائے گا؟؟؟
پھر اس قدر sexualize کلچر، دیر سے شادی ہونا، پرونوگرافک مواد کی دستیابی یا پھر ماحول میں موجود برے عناصر کے استحصال کی وجہ سے یہ فیصلہ کسی ٹین ایج نوجوان کے رجحانات پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے کہ محض نفسانی رحجانات کے بہاؤ کے تحت وہ اپنی جینڈر تبدیل کرے…
شیریں مزاری نے اپنی سیکولر اپروچ کے تحت اس قانون کو ڈیفینڈ کیا اور بات کا رخ بیالوجیکل ٹرانس جینڈر کی طرف موڑ کر، بحث کو tilt کیا، دکھ اس بات کا ہے کہ مذہبی مزاج کے حامل علی محمد خان صاحب شیریں مزاری کے ساتھ بیٹھے تھے ان کے ماتھے پر اس سیکولررائزیشن کی وجہ سے شکنیں تک نہ آئیں…
1,713 total views, no views today



