اسلام آباد: پاکستان نے دہشت گردی کے علاوہ دیگر مقدمات میں بھی پھانسی کی سزاؤں پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادرے کے مطابق پاکستان نے پھانسی پر عائد پابندی کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے دہشت گردی کے علاوہ دیگر مقدمات میں بھی پھانسی کے منتظر قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد کے لیے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے تمام صوبائی حکومتوں کو ان تمام قیدیوں کی پھانسیوں پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیا ہے جن کی رحم کی تمام اپیلیں مسترد کی جاچکی ہیں۔
پاکستانی حکام نے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً پھانسی کی سزا پانے والے ایک ہزار کے قریب قیدی موجود ہیں جن کی پھانسی کی تمام اپیلوں کو مسترد کیا جاچکا ہے جب کہ بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے غیر ملکی خبر رساں ادرے کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وفاق کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں سزائے موت کے منتظر ان تمام قیدیوں کے کیسز پر جلد از جلد کام نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے جن کی رحم کی اپیلیں مسترد کی جاچکی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سزائے موت پر پابندی 2008 میں سابق صدر آصف علی زرداری کے دورے حکومت میں لگائی گئی تھی تاہم گزشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد حکومت نے صرف دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا۔
335 total views, no views today


