عاشق رسول کے احوال: ایک ترکی زائر کے بیان کردہ حال کا اردوترجمہ:
***
میں وہاں کھڑا تھا کہ دیکھا چار پولیس والے کسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر وہیں سے ایک شخس باہر آیا۔ پولیس والوں نے بھاگ کر اُسے قابو کر لیا، پھر اس کے ہاتھ ایسے جکڑ لیئے۔
نوجوان کا کہنا تھا کہ بس اسے دعا کرنے کی اجازت دیدو۔
میری بات سنو، میں کوئی بھکاری نہیں ہوں، میں نے کسی کوئی چوری نہیں کی- پھر اسی بات پر وہ چیخنے لگا۔
میں نے اُسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اُسے جانتا ہوں، میں بتاتا ہوں کہ میں نے اُسے کیسے پہچانا۔ میں نے اُسے کئی بار، بارگاہ رسالت میں روتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ ایک البانیا کا نوجوان تھا، اس کی عمر 35 یا 36 کے درمیان کی تھی، سنہری بال اور ہلکی ہلکی داڑھی تھی۔
میں نے پولیس والوں سے کہا کہ اس کا کوئی جرم تو نہیں ہے، تم اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیا الزام ہے اس پر؟
انہوں نے مجھے کہا: ارے او ترکی، تو پیچھے رہ، اس میں تیرا کوئی دخل نہیں ہے۔
لیکن میں نے پھر سے کہا: لیکن اس کا تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کیا اس نے کوئی چوری کی ہے؟
انہوں نے کہا: نہیں، یہ بندہ 6 سال سے ادھر مدینے میں رہ رہا ہے، لیکن اس کا یہ قیام غیر قانونی ہے، ہم اسے پکڑ کر واپس اس کے ملک بھیجنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ ہر دفعہ ہمیں چکمہ دیکر بھاگ جاتا ہے، اور جا کر روضہ رسول کے پاس جا کر چھپ جاتا ہے۔ جبکہ ہم اسے اندر جا کر نہیں پکڑنا چاہتے اور ہم 6 سال سے اس کے پیچھے ہیں۔
میں نے پوچھا: تو اب تم اس کے ساتھ کیا کرو گے؟
پولیس والوں نے کہا کہ اب ہم اسے پکڑ کر سیدھا جہاز پر بٹھا دیں گے اور اسے واپس البانیا بھیج دیں گے۔
نوجان مسلسل رو رہا تھا، اور کہہ رہا تھا: کیا ہو جائیگا اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو؟ دیکھو: میں کوئی چور نہیں ہوں، میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا، میں تو ادھر بس حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رہ رہا ہوں۔
پولیس والوں نے کہا: نہیں، ایسا جائز نہیں ہے۔
نوجوان نے کہا: چلو ٹھیک ہے۔ لیکن پولیس والوں نے اُسے ویسے ہی پکڑے رکھا۔
نوجوان نے کہا: اچھا مجھے ذرا آرام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات عرض کر لینے دو۔ نوجوان نے اپنا منہ روضہ اظہر اور گنبد خضراء کی طرف کر لیا تھا۔
پولیس والوں نے اُسے کہا: چل، کہہ چُک جو تجھے کہنا ہے۔
نوجوان نے قبہ اخضر کی طرف دیکھا اور اس نے جو کچھ عربی میں کہا مجھے اس کی پوری سمجھ ہے۔
نوجوان کہہ رہا تھا: یا رسول اللہ: کیا میں نے آپ سے یہ عہد نہیں کیا تھا، کیا میں نے اپنے ماں باپ اور اپنی دکان کو بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا تھا، اور یہ عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا کہ آپ کے جوار رحمت میں رہا کرونگا؟ اور اب دیکھ لیجیئے کہ یہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں۔
یا رسول اللہ – یا رسول اللہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مداخلت کیوں نہیں فرماتے؟ یا رسول اللہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مداخلت کیوں نہیں فرماتے؟
ایسے میں نوجوان بیحال ہونے لگا تو پولیس والوں نے ذرا ڈھیل دی اور نوجوان نیچے گر گیا۔ ایک پولیس والے ٹُھڈا مارتے ہوئے کہا: اُٹھ اوئے فراڈیئے۔ لیکن نوجوان نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
میں نے بھی پولیس والوں سے کہا: یہ نہیں بھاگنے لگا۔ میں نے پولیس والوں سے کہا: حمامات سے بھاگ کر پانی لائیے اور اس کے چہرے پر ڈالیئے- لیکن نوجوان نے کوئی حرکت نہ دکھائی۔
ایک پولیس والے نے باقیوں سے کہا: اسے دیکھو تو سہی، کہیں یہ سچ میں مر تو نہیں گیا؟
دوسرے پولیس والے نے کہا: اسے ہم نے کونسی ایسی ضرب لگائی ہے جس سے یہ مر جائے؟
پھر انہوں نے ایمبولینس والوں کو فون کیا، وہ اُدھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس ادھر آ گئی، انہوں نے نوجوان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی، نبض چیک کی، اور اس نے کہا: اسے تو مرے ہوئے 15 منٹ ہو گئے ہیں۔
پولیس والے جیسے مجرم بن کے نیچے بیٹھے وہ منظر دیکھنے والا تھا، وہ بھی رونے لگ گئے۔ ان میں سے ایک تو اپنے دو زانوؤں پر ہاتھ مارنے لگا، کہتا تھا: ہائے میرے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے۔ کاش ہمیں پتہ ہوتا کہ اس کی رسول اللہ سے اتنی شدید محبت تھی۔ ہائے ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے؟
اس کے بعد ایمبولینس والوں نے اُسے وہاں سے اُٹھا لیا، اور جنت البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حصے میں لے جانے لگے۔ غسل کے وقت میں وہاں پر موجود اور ساتھ ساتھ رہا، میں انہیں کہتا تھا مجھے بھی ہاتھ لگانے دو، مجھے بھی اس کی چارپائی کو اٹھانے دو۔
لیکن جب جنازہ تیار ہو کر نماز کیلیئے جانے لگا تو پولیس والوں نے مجھے دو ٹوک کہہ دیا : ہم نے جتنا گناہ اٹھایا ہے بس اتنا کافی ہے۔ اسے ہمارے سوا اور کوئی نہیں اٹھائے گا، شاید اسی طرح ہمیں آخرت میں کچھ رعایت مل جائے۔
میرے سامنے ہی وہ نوجوان بار بار کہہ رہا تھا کہ یا رسول اللہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مداخلت کیوں نہیں فرما رہے؟ دیکھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما دی، اور ملک الموت نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ اللہ ہمیں اپنی حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ویسی محبت عطا کردے جیسے اس البانی نوجوان کو عطا فرمائی ہوئی تھی۔
1,020 total views, no views today



