مینگورہ، ملاکنڈڈویژن کے سب سے بڑے اور ضلع سوات کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سیدو شریف میں پچھلے نو ماہ سے ہیپٹائٹس کے ویکسین دستیاب نہیں ہیں،موذی مرض میں مبتلا مریض اپنے پیسوں سے مہنگی ویکسین خریدنے پر مجبور ہوگئے ، تبدیلی کے دعوے صرف دعووں تک ہی محدود ، ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے صوبائی حکومت نے ملاکنڈڈویژن کے سب سے بڑے اور ضلع سوات کے اہم ترین ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ہیپا ٹائٹس میں مبتلا مریضوں کو ویکسین فراہم نہیں کی ہے،
ذرائع کے مطابق گزشتہ نو مہینوں سے اس موذی مرض میں مبتلا مریض اپنے پیسوں سے ویکسین خریدنے پر مجبور ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت کو کئی مرتبہ اگاہ کیا جا چکا ہے لیکن حکومت نے نہ تو ویکسین فراہم کی ہے اور نہ ہی اس کیلئے کو ئی فنڈز فراہم کئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے دور حکومت میں عوامی نیشنل پارٹی نے ویکسین کیلئے پندرہ لاکھ روپے سنٹرل زکواۃ کی مد میں ہسپتال کو فراہم کئے تھے، جبکہ ضلع زکواۃ فنڈز یکسین دیئے گئے ،جو ختم ہو چکے ہیں ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت میں ضلع زکواۃ فنڈز سے پندرہ لاکھ روپے ہسپتال کو ملے ہیں لیکن سنٹرل زکواۃ فنڈز سے ہسپتال کو کوئی رقم نہیں ملا،پچھلے حکومت میں سے بھی مستحق مریضوں کیلئے پندرہ لاکھ روپے فراہم کئے گئے تھے، پچھلے حکومت میں ہسپتال کیساتھ 3500 مریضوں کیلئے ویکسین دستیاب تھی جبکہ موجودہ حکومت میں صرف 135 مریضوں کیلئے و پانچ ہزار روپے تک ادویات مستحق مریض کیلئے خریدی جا سکتی تھی ، جبکہ موجودہ حکومت میں یہ رقم ایک ہزار روپے مقرر ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز موذی مرضوں میں مبتلا مریضوں کو ادویات کے خریداری کے سلسلے میں دیئے جاتے تھے ، لیکن اب فنڈز اور ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اور مریض اپنے پیسوں سے مہنگی ادویات اور ویکسین خریدنے پر مجبور ہیں۔
358 total views, no views today


