سوات ،پاک آرمی کے زیر اہتمام ودودیہ ہال میں ایک روزہ سمینار منعقد ہوا جسکا موضوع تھا(سوات میں پائیدار امن کے قیام کیلئے پاک آرمی ،پولیس اور عوام کی کاوشیں ) اس موقع پر کمشنر مالاکنڈ ڈویژ ن کفایت اللہ خان،ڈی آئی جی مالاکنڈ رینج آذاد خان،ڈی پی او سوات سلیم مروت،پاک آر می کے کر نل علی یاسر،صحافی فیاض ظفراور علاقہ کے عمائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات کے دیر پا امن کے قیام کیلئے عوام کی تعاؤن نا گزیر ہے ،عوام کے تعاؤ ن کے بغیر یہ امن قائم رکھنا نا ممکن ہے،آرمی ،پولیس ،سول انتظامیہ اورعوام ایک ہوکر امن کو قائم رکھنے میں کردار ادا کرے،پاک فوج کے کاوشوں سے صوبائی حکومت اور پاک فوج نے شہید وی ڈی سی کے نام پر فاؤنڈیشن قائم کی جسکا مقصد شہید وی ڈی سی ممبران کے بچوں کو تعلیم مفت دیجائیگی،اور صوبائی حکومت کے طرف سے فنڈنگ بھی انکو ملیگی،سوات امن کے بحالی کیلئے پاک فوج نے بے پناء قربانیاں دی ہے ، مقریرین نے کہا کہ اس جنت نظیر وادی میں 2009سے قبل کیا صورت حال تھی،ہر جگہ خوشیاں ہی خوشیاں تھیں،سوات سیاحوں کی اماجگاہ بن گئی تھی ، اور پھر اچانک اس خوبصورت وادی کو کس کی نظر لگ گئی ،حالات اس قدر بگڑ گئے کہ کوئی روکنے والا نہیں تھا ،طالبان اتے اور دہشتگردوں نے ڈھیرے ڈال دئے ،قانون کی رٹ ختم کردی گئی ،ہر طرف من مانی قوانین اور خود ساختہ فیصلے شروع ہونے لگے ،جنگل کا قانون رائج اور ظلم کا بازار گرم رہا،غریب لوگ بھی موت مرنے لگے ،خون ناحق کے ندیاں بہنے لگی،انسان کیساتھ حیوانوں سے بد ترین سلوک کیا گیا،اس دوران عوام جن ازیتوں کا شکار رہے ،اسکا ذکر یہاں اب ممکن نہیں ، اس مخدوش حالات کیدوران پاک آرمی نے وادی سوات میں قدم رکھا،اور انتہائی مہارت کے ساتھ دہشتگردوں کو شہروں سے نکالنے پر مجبور کر کے ،انہیں پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے اور بھاگنے پر مجبور کیا ،جسمیں پاک آرمی کی جو قربانیاں شامل ہیں ،وہ کسی سے ڈھکی چپی بات نہیں ہے ،سینکڑوں وطن کے سپوت شہید ہوگئے ،مگر پاک آرمی نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی،اور قلیل مدت میں سوات کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنایاگیا، اسکے بعد پاک آرمی نے سوات مکینوں کی ابادکاری اور بحالی کیلئے جس قدر محنت اور مشقت سے کام لیا وہ بھی ایک مثالی تاریخی بن گئی ہے ،
680 total views, no views today


