فروری کا مہینہ تھا۔ سردی اپنی شدت کو پہنچ چکی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش اور صبح کا وقت ایک انتہائی خوش گوار کیفیت اور دل کش منظر پیش کررہے تھے۔ میں گھر سے دکان کے لیے نکلا۔ چھتری تھامے، خراماں خراماں چہل قدمی شروع کی۔ ویسے بھی سردی کا موسم میرا پسندیدہ موسم ہے اور پھر ایسے مواقع تو میرے لیے انتہائی لطف اندرز ہوتے ہیں۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اور کاٹتی سردی جوکہ عام طور پر لوگوں کو ستاتی ہے اور پریشانی کا باعث بنتی ہے مگر یقین جانیے، میں تو اس دن موسم کے مزے لے رہا تھا بلکہ یوں کہوں گا کہ میں تو ٹھنڈے موسم اور بارش کی رم جھم میں مسرور و مخمور آگے جا رہا تھا۔ گھر سے دکان تک دو راستے میرے زیر استعمال رہتے ہیں۔ ایک سڑک کا راستہ جو کہ شارع عام ہے اور دوسرا ندی کا راستہ جو طویل تو ہے لیکن چہل پہل کی کمی و خاموشی کے سبب مجھے پسند ہے۔ اس لیے میری عادت ہے کہ میں جب بھی پیدل جاتا ہوں، تو ندی کے راستہ سے ہوتے ہوئے سہراب خان چوک اور پھر آگے مکانباغ پہنچتا ہوں۔ لہٰذا اس دن میں ندی کے راستے جارہا تھا۔ چھتری پر بارش کی پھوار سے بننے والی قدرتی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ ابھی تقریباً آدھا رستہ ہی طے کیا تھا کہ نظریں ایک کچرا اکھٹا کرنے والے بچے پر پڑی جس کی عمر تقریباً آٹھ سے نو سال تھی لیکن غربت اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اپنی عمر سی کئی گنا زیادہ کا لگ رہا تھا۔ یہ بچہ کندھے پر کچرا اکھٹا کرنے والی بوری اٹھائے جلدی جلدی ندی کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ گو کہ وہ دوڑنا چاہتا ہے لیکن جیسے اس کے پاؤں میں بیڑی پڑی ہو یا کوئی دوسری رکاوٹ ہو جو اسے تیز چلنے سے روک رہا ہو اور اسے جانے نہیں دے رہا ہو۔ بہ ہر حال میں تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھا۔ اس کے نزدیک پہنچا اور اسے آواز دے کر روکنے کی کوشش کی، تو بچے نے ایک سر سری نظر مجھ پر ڈالی اور رکے بغیر آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھا۔ میں تجسس میں تھا اور اس کے لنگڑے پن کی وجہ بھی جاننا چاہتا تھا۔ کیوں کہ اس کا لنگڑا پن مستقل نہیں لگ رہا تھا بلکہ کچھ عارضی تکلیف کی نشان دہی کررہا تھا۔ بہ ہر کیف میں اس کے قریب پہنچ گیا۔ تجسس سے اس کی پیروں پر نگاہ ڈالی، تو اس میں ربڑ کی پھٹی پرانی چپل نے میری طبیعت کی ساری خوش گواری اور پسندیدہ موسم کا سرور گویا ہوا کر دیا۔ اس نے مجھے انسان ہونے پر شرمندہ کردیا۔ اس کے دائیں پیر کے انگوٹھے پر مرہم پٹی کی شبیہ دینے والا سرخ رنگ کا سلوشن ٹیپ! جس کا اگلا سِرا کیچڑ اور بارش کے پانی کی وجہ سے گرفت برقرار نہ رکھ پاتے ہوئے اتر کر لٹک رہا تھا، جس نے میرے احساسات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
اس بچے نے بائیں کندھے پر پیچھے کی طرف کچرے کی بوری اور اسی کندھے پر آگے کی طرف پلاسٹک کی چھوٹی سی تھیلی دونوں ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑ رکھی تھی۔ تھیلی میں کچھ چاول نظر آرہے تھے اور شاید چاول میں کچھ سالن بھی ملا ہوا تھا۔ کیوں کہ تھیلی میں سامنے کی طرف آلو کا ایک عدد چھوٹا سا ٹکڑا اور نیچے کی طرف کچھ روغن نظر آرہا تھا۔ شاید کسی بندۂ پارسا کی خیرات سے ملے تھے یا ہوسکتا ہے کہ کسی ہوٹل کے کچرے سے!
بچہ خدا خدا کرکے ندی کنارے پہنچ گیا، جہاں بارش کی وجہ سے ندی کے بہاؤ میں اضافہ کے سبب بہت سارا کباڑ ندی کنارے اکھٹا ہورہا تھا۔ کچھ اور بچے بھی وہاں پہلے سے موجود تھے جو کہ ندی کنارے سے پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور کباڑ اکھٹا کرنے میں مصروف تھے۔ مذکورہ بچہ بھی جلدی جلدی کباڑ اکھٹا کرنے میں مصروف ہوگیا، لیکن بچے کی حالت اور انسانیت کی شرمندگی نے میرے منھ پر ندامت کے تھپڑوں کی برسات کردی تھی۔ میں کافی دیر تک وہاں بت بنا رہا۔ گویا پیروں سے جان نکل گئی تھی جیسے قدم زمیں میں دھنس گئے ہوں۔ آنکھیں آب دیدہ اور حلق میں تلخی نے مجھے اتنا بھی نہیں ہونے دیا کہ میں ان بچوں کی کچھ مدد کرپاتا!
خیر، اپنے ہارے ہوئے ٹوٹے جسم کو اہل قلم ہونے کی تسلی دیتے ہوئے وہاں سے اٹھاکر اپنی منزل تک تو پہنچادیا مگر حلق میں رچی تلخی اور بے جان سے ہاتھوں نے سارا دن کام کرنے سے روکے رکھا۔ انتہائی مشکل سے دن کا اختتام ہوا اور رات بھی بہت کرب و تکلیف میں گزاری۔
قارئین کرام! حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے جن کو کپڑا، مکان اور دوسری بنیادی ضروریات تو درکنار کھانے کے لیے بھی کچھ دست یاب نہیں اور یہ محض مفروضوں تک محدود نہیں بلکہ یہ بات اب ٹھوس حقیقت بن چکی ہے۔ یہاں تک کہ میرے روز مرہ مشاہدہ میں یہ بات کئی دفعہ آچکی ہے جوکہ معاشرہ کا انتہائی تشویش ناک اور خطرناک پہلو ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، انسان کے صبر کا ایک پیمانہ ہے اور معاشرہ پر پڑنے والے برے یا اچھے اثرات و نتایج کا دارومدار اس پیمانہ پر ہے۔
آج تو ان غریبوں کو جیسے تیسے رزق مل رہا ہے لیکن کل کو اگر ان غریبوں کو کچرے کے ڈھیر سے بھی رزق میسر نہ ہو اور انتقاماً یا نتیجتاً اس غریب کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اب اپنے حصہ کے رزق کو کچرے کے ڈھیر سے چننا نہیں بلکہ معاشرہ کے فرعونوں اور قارونوں سے چھیننا ہے، تو یقین جانیے ان لوگوں کو کوئی مائی کا لعل بھی قابو نہیں کرپائے گا اور پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
اس لیے اگر کوئی اپنے اور اپنے ارد گرد کے امن کا خواہاں ہے، تو اسے چاہیے کہ کائنات کو کم از کم اتنا ہی فایدہ پہنچائیں جتنا فایدہ وہ کائنات سے لے رہا ہے۔ اور اسلام کا تو فلسفہ ہی یہی ہے کہ ضرورت سے زیادہ مال انسانیت کی فلاح میں خرچ کرو !
اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ ’’ضرورت سے زیادہ دوسروں کو دو۔‘‘ (القرآن سورۃ البقرہ آیت نمبر:219)
مطلب انسانیت کی فلاح میں اپنا حصہ ڈالو !
جتنا تیری ضرورت ہے بے شک رکھ لو لیکن ضرورت سے زیادہ مال تمھارا ہے ہی نہیں۔ لہٰذا اسے انسانیت کی فلاح کے لیے کھلا چھوڑ دو۔
ورنہ اللہ تعالیٰ نے اس سسٹم کی پروگرامنگ ہی ایسی کیوں کی؟ سب کچھ مکافات عمل پر منحصر ہے اور آج نہیں تو کل ہمیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
میرے ناقص ذہن میں ان مسایل اور معاشرتی ناہم واریوں کے لیے ایک سادہ سا حل ہے جس کے کچھ چیدہ چیدہ نکات پیش خدمت ہیں اور وہ یہ کہ ہمیں محلہ کی سطح پر ایک فلاحی بیت المال تشکیل دینا چاہیے اور ہر محلہ کے ایک دیانت دار شخص کو اس بیت المال کا سربراہ مقرر کردینا چاہیے جو کہ دیانت دار ہونے کے ساتھ ساتھ محلہ کے غریبوں اور لاچاروں کا خیر خواہ بھی ہو اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے جراثیم سے پاک و صاف ہو۔ یہ شخص مذہبی ہو یا دنیادار لیکن اس کا دیانت دار اور امانت دار ہونا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محلہ سے کچھ ایسے رضاکار ہوں جو اکاؤنٹ کا کام سنبھالیں، محلہ کے غریبوں کی خبر رکھیں، لوگوں میں شعور اجاگر کریں کہ بیت المال میں اپنا حصہ ڈالیں اور خود بھی استطاعت کے مطابق بیت المال کو دیں۔
محلہ کے تمام افراد کو بہ ذریعہ متعلقہ مسجد کے پیش امام اور دوسرے ذرایع کے پابند بنایا جائے کہ صاحب استطاعت محلہ دار، محلہ کے بیت المال کے لیے مستقل سطح پر ماہ وار رقوم مختص کریں اور باقی لوگوں کو تلقین کا سلسلہ شروع کردیا جائے کہ اپنی زکواۃ اور صدقات و خیرات اس بیت المال میں جمع کیا کریں اور محلہ سے باہر بازاری بھکاریوں کو ہرگز کچھ نہ دیں، اگر ایک روپیہ بھی صدقہ کرنا ہے، تو اپنے محلہ کے بیت المال کو دیں اور جمع شدہ رقوم کو صرف محلہ کے غرباء میں تقسیم کیا جائے۔ غریبوں اور مسکینوں کی لسٹ بنا دی جائے اور آہستہ آہستہ ان کو کمائی کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ خود کمانے کے قابل بنیں نہ کہ خیرات کے عادی، اور بیت المال سے انھیں جو ملتا ہے وہ عزت و احترام اور خفیہ طور سے پیش کیا جائے، تاکہ غریبوں اور مسکینوں کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
اس طرح ہر محلہ کی بیت المال کی ذمہ داری ہوگی کہ متعلقہ غریبوں کی خبر رکھے اور انھیں اِدھر اُدھر مانگنے سے روکے اور یقین دہانی کرائے کہ بیت المال ان کی مدد کے لیے موجود ہے۔
مجھے امید ہے کہ معاشرہ کے نکھار میں یہ ایک بہتر پیش رفت ثابت ہوگی۔
قارئین کرام! ہوسکتا ہے میری آج کی یہ تحریر آپ کو غیر معیاری لگی ہو۔ کیوں کہ آپ سیاست کی گرم بحثوں میں لپٹے الفاظ کے گورکھ دھندے کو پسند کرنے کے عادی بنادئیے گئے ہیں۔ لہٰذا میں خود ہی اپنی تحریر کا عنوان ’’ایک غیر معیاری تحریر‘‘ رکھ دیتا ہوں۔
820 total views, no views today


