یہ بھید تو مجھ پر بعد میں آشکارا ہوا کہ بابا محمد یحییٰ خان مجھے اپنی کتاب ’’کاجل کوٹھا‘‘ پڑھنے سے پہلے ’’پیا رنگ کالا‘‘ پڑھنے کی ترغیب دے رہا تھا۔ ہوا یوں کہ میرا دوست عادل تنہاؔ اور تصدیق اقبال بابو حسب معمول سرما میں پنجاب میں اپنے دوستوں سے ملنے گئے ہوئے تھے کہ واپسی میں دیگر کتابوں کے علاوہ بابا محمد یحییٰ خان کی کتاب ’’کاجل کوٹھا‘‘ بھی ساتھ لے آئے۔ یہ کتاب نو سو اڑسٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ دراصل تصوف پر مبنی ناول ہے۔ میں نے یہ کتاب عادل تنہا صاحب سے پڑھنے کی خاطر لے لی اور تسلی کے لیے میں نے اُن سے کہہ دیا کہ بے فکر رہیں، مطالعہ میں، مَیں کتاب کا ورق بھی نہیں موڑوں گا۔ جس حالت میں آپ نے کتاب دی، ٹھیک اُسی حال میں تمھیں واپس کردوں گا۔ کئی ماہ پہلے ’’جیو ٹی وی‘‘ والوں نے سہیل وڑایچ کے پروگرام ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ بابا محمد یحییٰ خان کے نام کیا تھا۔ اس پروگرام میں بابا ’’سیاہ لباس‘‘ میں ملبوس مجھے بے حد بھلے لگے تھے۔ اُن کی باتوں میں ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کے ایک ایک جملہ میں انسانیت کی خوش بو رچی بسی تھی۔ میں نے یہ پروگرام بڑے غور اور دل چسپی سے ملاحظہ کیا۔ بابا محمد یحییٰ خان نسلاً مہاجر پختون ہیں، جو اپنے اسلاف کی مادری زبان (پختو) کھو چکے ہیں۔ ایک ڈایجسٹ کے سرورق پر ’’پیا رنگ کالا‘‘ لکھا ہوا تھا۔ میں نے ایک بک اسٹال سے ایک دو سال پہلے یہ رسالہ خریدا تھا، جس میں ایک کوے اور بابا کی تصویر تھی۔ اندرونی صفحات میں ’’پیا رنگ کالا‘‘ کی روداد لکھی ہوئی تھی۔ جب مجھے بابا کی کتاب ’’کاجل کوٹھا‘‘ ہاتھ لگی، تو میں نے بابا کا فون نمبرملایا۔ میں ان سے کہہ رہا تھا کہ میں آپ کی کتاب ’’کاجل کوٹھا‘‘ پڑھ رہا ہوں۔دوسری جانب سے بابا نے مجھے کہا کہ ’’کون؟‘‘ میں نے فون پر اپنا تعارف کرایا۔ بابا مجھے کہہ رہے تھے کہ میری یہ کتاب ابھی مت پڑھو، پہلے ’’پیا رنگ کالا‘‘ پڑھو۔ میں نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں میں ڈایجسٹ میں پڑھا ہے۔ اُدھر سے وہ کہہ رہے تھے کہ اصل کتاب پڑھو۔ میں نے انھیں کہا کہ بابا آپ کی کتابیں سوات میں نہیں مل رہیں۔ انھوں نے جواباً کہا کہ ’’لاہور سے منگوالو۔‘‘ پھر انھوں نے مجھ سے کہا کہ یہ سوات کتنا دور ہے؟ میں نے کہا کہ یہ علاقہ لاہور سے نوگھنٹے کی مسافت پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے پاس سوات آؤں گا اور ضرور آؤں گا۔ میں نے کہا ضرور تشریف لائیں، میں انتظار کروں گا۔
یہ ’’بابا‘‘ بھی اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہابؔ صاحب کی طرح اعلیٰ پائے کے رایٹر ہیں۔ میں مجبوراً سے ’’کاجل کوٹھا‘‘ پڑھ رہا ہوں کہ ’’پیا رنگ کالا‘‘ میرے پاس اس وقت نہیں ہے اور ’’پیا رنگ کالا‘‘ تک میں انتظار کر نہیں سکتا کہ مطالعہ میری مجبوری ہے۔ اور جب ایک اچھی کتاب ہاتھ آئے اور میں اُسے نہ پڑھو ،یہ ہونہیں سکتا۔ جاتے جاتے ’’کاجل کوٹھا‘‘ سے ایک اقتباس آپ کے ساتھ شریک کرتاچلوں کہ آپ بھی اس سے محظوظ ہوں۔
’’یہ بھی ایک ایسی ہی صبح تھی۔ بیتی شب کی بے کلی اور بیداری نے اسے اعصابی طور پر اُدھیڑ کر رکھ دیا ہوا تھا۔ انگ انگ میں پکھاوج سے بج رہے تھے۔ سارے سریر کی رگیں، سُرمنڈل کی تاروں کی طرح تنی ہوئی تھیں۔ ایسے میں وہ بادل نخواستہ غسل خانے میں گھس گئی۔ خوب نہائی دھوئی۔ آگ لگے بدن اور دھواں چھوڑتے دماغ اور سلگتی ہوئی آنکھوں میں جیسے ٹھنڈک سی پڑ گئی۔ چِت میں جیسے دھیرج سادر آیا ہو۔ پھر نہ جانے کیا جی میں آئی۔ الماری سے سیاہ رنگ، جے پوری انگ کا ایک لباس نکالا، زیب تن کیا، اُلٹے ٹانکے سے ٹکے ہوئے سیپ کے بُدھنے، فالسے کی گٹھلیوں پہ ماندھے ہوئے بجنوری، ریشم کے بیڑبٹن۔۔۔ ہاتھ کے کاتے سیاہ سوت کے دھاگے سے گریبان اور آستینوں پر چِٹکن ڈوری۔ بے جوڑ، بے تہہ کی تراش و خراش۔۔۔ اور پارچہ بھی ایسا بے شکن و بے لوٹ کہ نگاہ پھسل پھسل پڑے۔‘‘
یہ ایک آسان ترین اقتباس تھا جو میں نے پیش کیا ہے۔ اب جو میں سوچ رہا ہوں کہ ’’بابا‘‘ مجھے سر دست اس کتاب کے مطالعہ سے کیوں منع کر رہے تھے اور ’’پیا رنگ‘‘ کالا کی ترغیب کیوں دے رہے تھے۔ اب میں سمجھا کہ یہ ایک مشکل ترین کتاب ہے۔
3,499 total views, no views today


