بیس لاکھ آبادی پر مشتمل ضلع سوات جسے قدرت نے اپنی تمام تر فیاضیوں سے نوازا ہے، اس وادی کے جس بھی حصہ کو دیکھا جائے، وہ قدرت کی طرف سے قدرتی حسن کے لحاظ سے ایک شاہ کار ہے۔ اس وادی کو خدواند تعالیٰ نے اپنے قدرتی حسن سے نوازا ضرور ہے لیکن باچا صاحب اور خاص کر والئی سوات کے ریاستی دور کے بعد یہ وادی اور اس کے بے چارے عوام تو یتیم سے ہوگئے ہیں۔ ریاستی دور میں یہاں تعلیم کو عام کرنے کے لیے والئی سوات نے ضلع سوات (جو اس وقت شانگلہ اور بونیر دونوں اضلاع سمیت ایک ہی ضلع گردانا جاتا تھا) کو یکساں فوقیت دی اور اس وادی کے طول وعرض میں پرایمری سے لے کر سیکنڈری تک تعلیم کے لیے تعلیمی درس گاہوں کا جال بچھادیا۔ والئی سوا ت نے نہ صرف ریاستی دور میں سواتی عوام کو حکومت پاکستان کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے عوام کے ہم پلہ بنایا بلکہ اس وادی میں ترقیاتی کاموں کا ایک ایسا جال بچھا دیا گیا جس نے حکومت پاکستان کے کئی اہم شہروں کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا۔
والئی سوات میاں گل عبدالحق جہانزیب نے نہ صرف تعلیمی میدان میں اپنی رعایا کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں بلکہ انھوں نے صحت، آمدورفت کے ذرایع کے علاوہ دیگر انفرا اسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی جس سے اس وادی کے عوام نہ صرف اُس وقت خوش حالی کی زندگی گزارنے لگے بلکہ اب جب سوات پر موجودہ ان نااہل سیاست دانوں اور حکم رانوں کے طرز حکم رانی کو دیکھتے ہیں، تو وہ وادئ سوات کے ریاستی دور کے والی میاں گل عبدا لحق جہانزیب کا نام انتہائی ادب کے ساتھ لے کر یاد کرتے ہیں اور اُن کے گڈ گورننس کی مثالیں دیتے ہیں ۔
قارئین کرام! وادئ سوات کو پاکستان میں مدغم ہوئے تقریباً پچاس سال پور ا ہونے کو ہیں لیکن اس وادی کو والئی سوات کے بعد تادم تحریر ایسا کوئی بھی رکن صوبائی و قومی اسمبلی نہیں ملا ہے، جس نے اس وادی کے عوام کی محرومیوں کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات کیے ہوں۔ ریاست سوات کا پاکستان میں مدغم ہونے کے بعد سوات میں ’’ڈلہ پرہ‘‘ کی سیاست پروان چڑھی۔ اپر سوا ت کے حصے جن میں تحصیل مٹہ،کبل اور خوازہ خیلہ کے علاقے شامل تھے، پر علاقائی خان خوانین نے سیاست کی۔ انھوں نے ڈرائیونگ سیٹس سنبھالیں جب کہ لویر سوات، تحصیل بابوزء، چارباغ اور بریکوٹ پر سیاست کی ذمہ داری والئی سوات کے خاندان کے ذمہ آئی۔ تاہم بدقسمتی سے اس وادی کے اپر او ر لویر حصوں پر کئی سالوں تک ممبران صوبائی وقومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد انھوں نے ان علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے حوالہ سے عملی اقدامات کرنے سے گریز کیا اور یوں یہ وادی اور اس کے بدقسمت عوام کو نااہل سیاست دانوں کی وجہ سے بنیادی سہولیات سے محروم ہونا پڑا۔
سال 2002ء کے عام انتخابات میں سوات کے عوام میں کچھ سیاسی پختگی آئی اور یوں انھوں نے سالہاسال سے سوات میں’’ڈلہ پرہ‘‘ کی سیاست کوپہلی دفعہ خیرباد کہہ دیا اورایم ایم اے کے نام پربننے والے متحدہ دینی محاذ کے نام زد ممبران صوبائی وقومی اسمبلی کو منتخب کیا۔تاہم عوام نے اُن پر جس اعتماد کا اظہار کیا تھا، وہ بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح عوام کی توقعات پر پورا نہیں اُترے اور سوات کی محرومیاں جو ں کی توں رہیں۔ ادھر ایم ایم اے کے دوراقتدار کے بعد سوات کے عوام نے امن کے نام پر 2008ء کے عام انتخابات میں اے این پی کو ووٹ دیا، تاہم امن کے نام پر ووٹ لینے والوں نے یہاں کے عوام کو امن تو نہیں دیا، لیکن اقتدار کی آڑمیں اے این پی نے اقتدار کے مزے ضرور لوٹے اور سوات کے عوام کو محرومیوں کی دلدل میں ہی چھوڑ دیا۔ دہشت گردی سے تباہ ہونے والے سوات کے زیادہ تر تعلیمی ادارے تاحال تعمیر نہیں کیے جاسکے۔ یہی حال سوات کے تباہ شدہ رابطہ پلوں کا بھی ہے جو کہ حکم رانوں کی توجہ کے منتظر ہیں جب کہ 2010ء کے سیلاب میں کالام کی پینسٹھ کلو میٹر روڈ اور دیگر سڑکیں بھی تاحال تعمیراتی عمل سے نہیں گزریں۔ ملم جبہ پی ٹی ڈی سی موٹل اور چیئرلفٹ کے قیام کے دعوے بھی ہر دور حکومت میں بڑے زور وشور کے ساتھ کیے گئے، تاہم وہ وعدے بھی تادم تحریر وفا نہ ہوسکے۔
سوا ت کے سیاحتی مقامات کے علاوہ سوات کی جی ٹی روڈ، مٹہ فاضل بانڈہ روڈ جن کی تعمیر کی منظوری ایم ایم ا ے کے دور حکومت میں دی گئی تھی، بارہ سال گزرنے کے باوجود تعمیر نہ ہوسکیں۔ سیدو شریف ٹیچنگ اسپتال کا تعمیراتی کام بھی بارہ سال گزرنے کے باوجو د مکمل نہیں کیا جاسکا۔ اب خیر سے خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اس کو بھی دو سال پورا ہونے کو ہیں، لیکن بارہ سال قبل جن منصوبوں پر کام شروع کیا گیا تھا، وہ تحریک انصاف کے دوسالہ دور اقتدار گزرنے کے باوجود بھی جو ں کا توں ہے۔ کیوں کہ گزشتہ ایک سال سے جی ٹی روڈ پر لنڈاکی سے لے کر رحیم آباد تک جگہ جگہ روڑہ ڈال دیاگیا ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس سڑک پر تارکول نہیں ڈالا جارہا جس کی وجہ سے نہ صرف یہ اہم شاہ ر اہ عوام کے لیے گزشتہ ایک سال سے درد سر بنا ہوا ہے بلکہ سڑک پر جگہ جگہ روڑہ ڈالنے کی وجہ سے اس شاہ راہ کا حلیہ بگڑ گیا ہے۔ یہی حال مینگورہ کوکارئی، مینگورہ ملم جبہ،مینگورہ مرغزار، مٹہ تافاضل بانڈہ، مٹہ تا شور ، مینگورہ تا خوازہ خیلہ او ر کالام مینگورہ شاہ راہ کابھی ہے۔ مذکورہ سڑکوں کی تعمیر میں اگر ایک طرف ان نااہل حکم رانوں کی نااہلی آڑ ے آتی ہے، تو دوسری طرف ان میں صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور ٹھیکہ داروں کی آپس میں دھینگا مشتی بھی بڑی وجہ ہے۔یوں ان سڑکوں کے ٹھیکوں میں پیسوں کے مبینہ طور پرہیرا پھیری کرنے کے لیے ان تمام اسٹیک ہولڈرز کی آپس میں دھینگا مشتی کی سزا سوات کے بے چارے عوام کو مل رہی ہے ۔
قارئین کرام! سوات جس کے ملکوتی حسن کا ہر کوئی معتر ف ہے لیکن اس حسین وادی اوراس میں بسنے والے عوام کی محرومیوں کے ازالہ کے لیے کسی نے والئی سوات کے بعد عملی طور پر اقدامات کرنے کی کوشش تک نہیں کی اور قدرت کی طرف سے عطا کیے گئے قدرتی حسن کے باوجو د یہ وادی اور اس کے بے چارے عوام کو حکم رانوں نے وہ توجہ نہیں دی، جس کی یہ وادی اور اس کے عوام مستحق تھے۔ ہمارے حکم رانو ں کے اس بے حس طرز حکم رانی سے بے زار سوت کے عوام والئی سوات مرحوم کے دورحکم رانی کو یادکرکے اُن جیسے خدا ترس اور عوام دوست حکم ران کے منتظر ہیں۔
774 total views, no views today


