تحریر :، کیپٹن حمزہ
سوات ایک پرامن اور اپنی خوب صورتی اور قدرتی نظاروں کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا حامل رہا ہے۔ ہر موقع پر یہاں سیاحوں کا رش رہا ہے جو یہاں کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے رہے ہیں جس کی و جہ سے نہ صرف یہاں تعمیر و ترقی کا عمل جاری رہا بلکہ حکومت کو بھی سیاحت کی وجہ سے خاصا زرمبادلہ حاصل ہوتا رہا لیکن بد قسمتی سے چند سال پہلے رونما ہونے والے کچھ نا خوش گوار واقعات نے نہ صرف سیاحت کے شعبہ کو بری طرح متاثر کیا بلکہ یہاں کی روز مرہ زندگی کو بھی خاصا نقصان پہنچایا۔
خصوصاً تحریکِ طالبان اور تحریکِ نفاذ شریعت محمد ی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مذہب اور شریعت کے نام پر زبردستی اپنے قوانین نافذ کرنے کے لیے ہر حد عبور کی اور معصو م لوگوں کا خون پانی کی طرح بہایا۔ روز مرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور لوگوں کے لیے آزاد فضامیں سانس لینا دشوار ہو گیا۔ لڑکیوں کے اسکولوں کو دھماکا سے اڑایا گیا اور تعلیم و تربیت پر پابندی لگادی گئی۔ کارو باری افراد کے لیے مالی امداد مشروط کر دی گئی اور نوجوان طبقہ کو زبر دستی اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا گیا۔ جس کسی نے بھی طالبان کے خلاف آواز اٹھائی اسے سر عام قتل کیا گیا۔ خود ساختہ عدالتیں قایم کرکے قانون اور عدل کا مذاق اڑایا گیا اور کچھ ناپسندیدہ افراد جن کی معاشرہ میں کوئی عزت نہیں تھی وہ زبر دستی اسلام اور ملک کے دعوہ دار بن گئے۔ لوگوں کو تاوان کے لیے اغواء کرنا، احکامات کی پیروی نہ کرنے والے کو سر عام عبرت کا نشانہ بنانا، لوگوں کو زبر دستی مدد کے لیے مجبور کرنا اور سرکاری ملازمت پیشہ افراد کو دن دیہاڑے چوک پر سب کے سامنے قتل کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا۔ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا لیکن ان لوگوں نے آزادی کی دھجیاں بکھیر کر لوگوں کو مذہب کے نام پر اپنا غلام بنانے کی کوشش کی اور اسلام جس میں ہر انسان کی جان و مال کی حرمت سب سے زیادہ ہے، ان لوگوں نے اسلام کے نام پر لوگوں کی جان ومال کو تباہ و برباد کیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ان لوگوں سے ہاتھ ملائے بغیر کوئی بھی محفوظ نہیں۔
جب آزاد فضا میں سانس لینا دشوار ہو گیا اور یہ لوگ ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، تو ان ظالم اور جابر لوگوں سے یہاں کے معصوم عوام کو محفوظ بنانا ناگزیر ہو گیا اور پھر اُن لوگوں سے قانون کے مطابق نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔
(نوٹ:۔ درجہ بالا تحریر بارہ مارچ دوہزار پندرہ کو ودودیہ ہال میں ’’امن کانفرنس‘‘ کے موقع پر تقریر کی شکل میں پیش کی گئی تھی۔)
602 total views, no views today


