بریکوٹ،صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے کے تمام علاقوں کی طرح بریکوٹ میں بھی تجاوزات پر عمل درآمدکے آغاز کے لئے لائحہ عمل شروع ،بریکوٹ انتظامیہ نے بریکوٹ بازار کے مارکیٹوں کے مالکان اوردکانداروں کے ساتھ مشترکہ جرگہ کیااور تجاوزات کے بارے میں تمام تر معلومات جرگے کو فراہم کردی ۔جرگے نے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔تحصیل انتظامیہ کے مطابق گذشتہ روز سب ڈویژن آفس بریکوٹ میں بریکوٹ انتظامیہ ،این ایچ اے ،پاک آرمی ،پولیس ،میونسپل کمیٹی بریکوٹ اور بریکوٹ بازار کے مارکیٹوں کے مالکان اور تاجربرداری کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا ۔اس جرگے میں اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ محمد عمیر ،اے اے سی محمد فہیم خان ،این ایچ اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اشفاق خان سی ایم او نور شاہ علی ،محمدآیاز،کیپٹن مالک،ڈی ایس پی درویش خان کے علاوہ جرگے کے ممبران میں تاج محمد خان ،عزیزاللہ خان بدا،حمید خان ،فضل اکبر خان ودیگر شامل تھے ۔اسسٹنٹ کمشنر محمد عمیر نے اس موقع پر کہا کہ بریکوٹ سوات کا مین گیٹ ہے اور تجاوزات کی وجہ سے یہاں پر ٹریفک کے مسائل میں بے پنا ہ اضافہ ہو رہا ہے ۔صوبائی حکومت پورے صوبے میں بلاامتیاز تجاوزات کے خلاف سخت آپریشن کررہا ہے اور یہاں پر بھی بلاتفریق صوبائی حکومت کے ہدایات کے مطابق اپریشن 25مارچ 2015سے شروع ہو گا ۔بریکوٹ بازار میں ٹوٹل 93دکانیں تجاوزات کے زد میں آگئے ہیں جن میں دس کو مکمل طور پر زمین بوس کیا جائے گا جبکہ باقی دکانوں کو جزوی نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق تمام مارکیٹوں کے دکانوں کو ٹونس جاری کئے ہیں اور اب میں آپ لوگوں سے تعاون چاہتاہوں اور تجاوزات کے خلاف اپریشن میں ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے ۔بعد میں جرگے کے مشران نے کہا کہ ہمیں این ایچ اے کے پیمائش پر اعتراض ہے پیمائش دوبارہ کیا جائے جس پر اے سی بے فوری طور پر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے ،بریکوٹ انتظامیہ اور جرگے کے ممبران کے مشترگہ طور پر بریکوٹ بازار کا دوبارہ پیمائش کیا جائے گا ۔
642 total views, no views today


