مینگورہ ، یونیورسٹی آف سوات کے اساتذہ نے مقامی ممبران صوبائی اسمبلی کی تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکال کر شدید نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت سے تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت بند کرانے کا مطالبہ کرتے رہے ، یونیورسٹی آف سوات کے اساتذہ نے پلے کارڈزاٹھائے نعرے لگاتے ہوئے جلوس کی شکل میں سوات پریس کلب کے سامنے جمع ہو گئے اور دھرنادیکر صوبائی اسمبلی کے ممبران اسمبلی کی جانب سے مداخلت کی شدید مذمت کی گئی مظاہرے میں یونیورسٹی آف سوات کے دیگر شعبوں کے ملازمین نے بھی حصہ لیا،
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی آف سوات کے پی آر او ٓافتاب احمد اوراسسٹنٹ پروفیسر فداحسین نے کہاکہ بعض ممبرا ن اسمبلی یونیورسٹی میں بے جا اورسیاسی مداخلت کرکے تعلیمی ماحول کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کا براہ راست اثر طلبہ سمیت پورے عملہ پر پڑرہاہے ،انہوں نے کہاکہ تعلیم کو ترقی اورفروغ دینے کے دعوے کرنے والے حکومتی اہلکارخود تعلیم کی راہ میں رکاؤٹ بنتے جارہے ہیں جو ایک انتہائی قابل تشویش اورقابل مذمت بات ہے،انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میں داخل ہونے والوں کی باقاعدہ تلاشی لی جاتی ہے مگر یہ ممبران اسمبلی پولیس کو ساتھ لے آتے ہیں تو تلاشی بھی نہیں دیتے بلکہ یونیورسٹی میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میں بھرتیاں اورتقرریاں میرٹ پر ہوتی ہیں مگر یہ لوگ چھٹیاں ارسال کرکے اپنے لوگوں کو بھرتی کرانے کی سفارشیں کررہے ہیں جو کسی بھی صورت مناسب اور قابل قبول نہیں،انہوں نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور اے این پی کے چیئرمین اسفندیارولی سے مطالبہ کیا کہ وہ سوات میں اپنی پارٹیوں کے ممبران اسمبلی کویونیورسٹی اوردیگرتعلیمی اداروں میں سیاسی اوربے جا مداخلت سے منع کریں تاکہ تعلیمی ماحول متاثر ہونے سے بچ سکے۔
374 total views, no views today


