’’دعوتِ تبلیغ کے ذریعے حضورؐ کے پیغام کو عام کرنا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ ختم نبوتؐکے صدقہ میں امتِ محمد یؐ کو یہ کام سونپ دیا گیا ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار معروف کرکٹر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے گذشتہ سال کراچی میں تین دن تبلیغی سہ روزہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پوری دنیا کو کرکٹ کی وجہ سے دیکھا ہے۔ ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے لیکن میں نے ایسے غریب لوگوں کو دیکھا ہے جن کی تن خوا ہ چار پانچ ہزار روپے بہ مشکل بنتی ہے لیکن وہ اتنی پرسکون اور اطمینان والی زندگی گزارتے ہیں کہ جس کی ہر کسی کو تمنا ہوتی ہے۔ ان کے مقابلہ میں کروڑوں روپے والے لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ اولذکر لوگوں کے اطمینان کی وجہ اللہ تعالیٰ کے دین پر چلنا اور حضورؐ کے پیغام کو عام کرنا ہے۔
قارئین کرام! شاہد خان آفریدی نے کہا کہ آج ہم نے مال و دولت کو کامیابی کا معیار سمجھا ہے جو کہ ایک شیطانی سوچ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی کامیابی اور سکون صرف اپنے دین میں رکھا ہے۔ میں تو ایک گنہگار آدمی ہوں۔ پانچ وقت کی نماز کی پابندی تک نہیں کرسکتا لیکن جب سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقت لگایاہے، تو پابندی سے نماز باجماعت پڑھنے کی حتی الوسع کوشش کرتا رہتا ہوں۔
شاہد خان آفریدی نے مزید کہاکہ معروف گلوکار جنید جمشید اور معروف کرکٹر سعید انور اور محمد یوسف کو دیکھ کر میں تو اللہ کے راستہ میں نکلنے والے لوگوں کو فرشتے کہتا ہوں جو اپنے اہل و عیال، نرم بستروں اور اپنے مزاج کے خلاف زندگی گزارنے اور زمین پر بیٹھنے کے علاوہ چٹائیوں پر سوتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دین اور حضورؐ کے طریقوں کو عام کرنے کے لیے برداشت کرتے ہیں۔ ہم نے پوری دنیا کو دیکھا لیکن اطمینان، سکون اور کامیابی صرف اللہ کے دین اور حضورؐ کے طریقوں میں ملی۔ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں وقت لگاکر اپنی زندگی کو قیمتی بنائیے۔ کیوں کہ دعوت تبلیغ کاکام دیکھنے کا نہیں بلکہ خود اس راہ میں چلنے کا نام ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی ٹھکانہ ہے۔
قارئین کرام! شاہد خان آفریدی نے کہا کہ میں نے سوچا کہ شاہد، تمھیں ایک دن مرنا ہے اور پھر قبر میں یہ چھکے چوکے تمھارے کسی کام نہیں آئیں گے، وہاں پر اعمال کام آئیں گے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم دنیاوی چیزوں کے حوالہ سے گھنٹوں بیانات کرسکتے ہیں لیکن وہی ذات جس نے پورے زمین و آسمان اور ایک ایک انسان کو کروڑوں اربوں روپے کے پرزہ جات دیے ہیں، اس اللہ کے حوالہ سے بات کرنے سے شرماتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان نہ کرنے، دین کی محنت نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کے احکامات نہ ماننے اور حضورؐ کے طریقوں پر نہ چلنے کی وجہ سے ہم عذاب کے مستحق بن گئے ہیں اور آج اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ہمارے لیے بڑے بڑے بنگلوں، کروڑوں روپے اور دیگر مراعات ہونے کے باوجود قید خانہ اور مصیبت خانہ بنا دیا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے وقت نکالتے ہیں، وہ اس دنیا میں بھی خوشی کی زندگی گزار رہے ہیں اور آخرت میں تو ویسے بھی وعدہ ہی ہے۔ لہٰذا امت مسلمہ کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سفیر بن کر دعوت تبلیغ کے ذریعے حضورؐ کے پیغام کو عام کریں۔ کیوں کہ آپؐ کے پیغام کو عام کرنا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کہ ختم نبوت کے صدقہ میں امت محمدیؐ کو یہ کام بہ طور بہترین امت سونپا گیا ہے۔
قارئین کرام! بہ حیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہر امتی داعی ہے اور پوری دنیا میں دین محمدی ؐ کو پہنچاننا ہماری ذمہ داری ہے۔ کیوں کہ جب دعوت کا کام ہوگا، تو دین پھیلے گا۔ جب دعوت کا کام نہیں ہوگا، تو برائیاں پھیلیں گی۔ آج دین نہ ہونے کی وجہ سے ہم کتنے عذابوں کا شکار ہیں۔
588 total views, no views today


