جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا راحت حسین ہمارے محلہ میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ نماز مغرب کے بعد محلہ کی مسجد میں نمازیوں سے خطاب میں انھوں نے امت مسلمہ کو درپیش مسایل اور معاشرتی برائیوں پر بات کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کوآج سنگین مسایل و مشکلات کا سامنا ہے اور مسلمان معاشرہ میں برائیاں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ خطاب میں انھوں نے دو عجیب و غریب باتیں بھی فرمائیں جو کہ انتہائی حیران کن ہیں۔ انھوں نے جدید ساینسی علوم (فزکس، کیمسٹری ، بیالوجی وغیرہ) کو غیراہم، ہمارے معاشرہ کی ایک قبیح رسم ’’سورہ ‘‘ کو جایزاور اسے دو خاندانوں کے درمیان دوستی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ میں نے اس رسم سے دو خاندانوں میں دوستی پنپتے نہیں دیکھی، البتہ ’’سورہ‘‘ میں دی جانے والی ایک معصوم اور بے بس بچی کی زندگی جہنم بنتے ضرور دیکھا ہے۔’’سورہ ‘‘ کوکبھی گھر کی حقیقی بہو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اسے گھر میں ایک غلام اور مزدور کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ گھرداری کے تمام کام اس سے کرائے جاتے ہیں۔ اس کی خوراک اورصحت پر توجہ نہیں دی جاتی۔ خاندان والے شوہر کو اس سے حقیقی ازدواجی تعلق استوار کرنے سے منع کرتے ہیں اور اکثر اوقات لڑکے کی دوسری شادی کر ا دی جاتی ہے۔ اگر شوہر نے غلطی سے اس سے ازدواجی تعلق قایم بھی کیا تو اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اس کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی زندگی کی دوسری ضروریات کو پورا کرنا لازمی سمجھاجاتا ہے۔ اس امتیازی سلوک اور رویہ کے سبب وہی بچہ معاشرہ کا اچھا فردبننے کی بجائے جرایم کی دنیا کا باسی بن جاتا ہے۔ شاید سینیٹر راحت حسین کے ہاں رسم ’’سورہ‘‘ جایز ہو لیکن اسلام میں اس فعلِ قبیح کی کوئی گنجایش ہے اور نہ اجازت۔ اسلام نے بچی کی تعلیم و تربیت کو انتہائی لازمی قرار دیا ہے۔ اسلام سے پہلے دوسرے مذاہب میں عورت کی کوئی حیثیت تھی اور نہ اُسے انسان ہی سمجھا جاتا تھا۔ عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور شیطان کی خالہ کہا گیا۔ دنیا کی ہر مصیبت کی ذمہ داری عورت کے سر ڈالی گئی۔ عورت کو جانوروں کی طرح بیچنے اور خریدنے کا رواج عام تھا۔ عورت جو ماں کی حیثیت سے آدمی کو جنم دیتی ہے اور بیوی کی حیثیت سے زندگی کے نشیب و فراز میں مرد کی رفیق رہتی ہے، کو خادمہ اور لونڈھی بنا کر رکھا جاتا۔ عورت کو بچپن میں باپ، جوانی میں شوہر اور بیوگی میں اولاد کی مملوکہ بن کر رہنا پڑتا تھا۔ اسلام نے عورت کو انسانیت کی معراج پر لا کر بیٹھا دیا۔ حقوقِ نسواں کے جو الفاظ آج ہمیں سننے کو ملتے ہیں، یہ سب اس انقلاب انگیز صدا کی باز گشت ہے جو صدیوں پہلے نبی کریمؐ کی زبان مبارک سے بلند ہوئے جس نے افکار انسانی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اسلام نے مرد اور عورت کو یکساں حقوق عطاء کیے ہیں۔ اسلام نے عورت کو وراثت کا حق دار قرار دیا ہے۔ عورت کو اپنی کمائی پر اختیار کے حق سے نوازا ہے۔شوہر کو اپنی بیوی کا حق مہر ادا کرنے کا پابند بنایا ہے ۔شوہر کے انتخاب میں عورت کو مکمل آزادی دی ہے۔نکمے اور نکٹو شوہر سے خلع کا حق عطاء کیا ہے۔الغرض اسلام نے زندگی کے ہر شعبہ میں عورت کے حقوق کے تحفظ کا پورا پورا بندوبست کیا ہے لیکن ہمارا المیہ ہے کہ ہم قدامت پسند اور روایت پرست مذہب کے نام پر خواتین کے ساتھ ہر قسم کی بے انصافی، ظلم اور زیادتی کو حق بہ جانب قرار دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں یہ امتیازی رویہ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکے کی پیدایش پر شادیانے بجائے جاتے ہیں، مٹھایاں تقسیم کی جاتی ہیں اور بڑی بڑی دعوتیں اڑائی جاتی ہیں جب کہ لڑکی کی پیدایش پر گھر میں صفِ ماتم بیچ جاتی ہے۔ دونوں کی پرورش میں بھی نمایاں فرق روارکھا جاتا ہے۔ لڑکے کو اچھا اور لڑکی کو بچا کچا کھانا دیا جاتا ہے۔ بیماری کی صورت میں لڑکے کو اچھے سے اچھے ڈاکٹر کے پاس علاج کے لے جایا جاتا ہے جب کہ لڑکی کو بیمار ہونے پر مزار پر بیٹھے پیر، فقیر یا مسجد کے پیش امام کے پاس دم کرنے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔ لڑکے کو جدید سہولیات سے آراستہ اور مہنگے ترین نجی اسکول میں پڑھانے کے لیے بھیجا جاتا ہے اور لڑکی کو مفت سرکاری اسکول کی تعلیم بھی نصیب نہیں ہوتی لیکن اس کے برعکس اسلام نے بیٹی کو خاندان کے لیے رحمت کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ نبی کریمؐکا ارشا ہے کہ ’’ جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو۔ وہ اُسے زندہ درگور نہ کرے اور ذلیل نہ کرے اور بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے، تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘آپؐنے ارشاد فرمایا کہ ’’جو شخص لڑکیوں کی پیدایش سے آزمایش میں ڈالا جائے، پھر وہ ان سے اچھا برتاؤ کرے، تو یہ لڑکیاں اس کے لیے دوزخ کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی۔‘‘ ارشاد نبویؐ ہے کہ ’’ جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، انھیں اچھا ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان سے حسن سلوک کیا، تو وہ جنت میں جائے گا۔‘‘
دین اسلام کے واضح احکامات اور ایک معصوم بچی کی زندگی کو جہنم بنانے والا ہمارے معاشرہ کایہ قبیح رسم ’’سورہ‘‘ سینیٹر مولانا راحت حسین کے ہاں جایز ہوسکتا ہے۔ یہ ان کی ذاتی سوچ تو ہو سکتی ہے، اسلام کی نہیں۔ ان کی یہ سوچ اسلام کے ماتھے پر بد نما داغ سے کم نہیں۔
اب بات کرتے ہیں جدید ساینسی علوم کی جس کو سینیٹر صاحب لازمی نہیں سمجھتے۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے جہالت کی مذمت کی اور علم کو سب کے لیے لازمی قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’کہہ دیجیے (اے محمدؐ) کیا اہل علم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ (سورۃ الزمر)۔ قرآن کریم میں حضورؐ کو اللہ تعالیٰ سے یہ دعامانگنے کا حکم ہوا: ’’ربی زدنی علما‘‘ ترجمہ (اے پروردگار، میرے علم میں اضافہ کر)۔اسلامی تعلیمات میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ ساینسی علوم ضروری اور لازمی نہیں بلکہ قرآن کریم فرقان حمید دعوتِ علم، سراپا نور اور خود جدید علوم کا خزانہ اور ان علوم تک رسائی میں رہنمائی فرماتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو زمین و آسماں مسخر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن کریم میں زمین، سورج،چاند اور ستاروں کا اپنے اپنے مدار میں گردش کا ذکر انسان کو جدید ساینسی علوم کی راہ سمجھانے کا اہم ذریعہ ہے۔ دینی علوم کے ساتھ دنیاوی علوم کا حصول بہت اہم اور انتہائی ضروری ہے۔ دنیاوی علوم کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ غزوہ بدر کے واقعہ سے ہوتا ہے۔ غزوہ بدر میں قید ہونے والوں میں جو قیدی فدیہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ انھیں مسلمانوں کو پڑھانے کی شرط پر رہا کیاگیا۔ صاف ظاہر ہے کہ مشرکین نے مسلمانوں کو قرآن و حدیث اور فقہ تو نہیں پڑھائی ہوگی بلکہ دنیاوی علوم پڑھائے ہوں گے۔ حضور نبی کریمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین جانا پڑے۔‘‘چین تک جانے کا مشورہ تو صرف اور صرف دنیاوی علوم کے لیے تھا، نہ کہ دینی علوم کے لیے۔ دنیا کے جدید ساینسی علوم فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، علم نجوم، علم فلکیات، علم ہندسہ، علم ریاضی اور دیگر ساینسی علوم کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ دنیا کی دوسری قومیں جدید علوم کے حصول کے لیے مسلمان ممالک میں آیا کرتی تھیں۔ مسلمان جب تک اسی راہ پر گام زن رہے۔دنیا کی تمام قومیں ان کی غلام تھیں۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں نے اپنے بزرگوں کے علوم سے استفاد ہ کرنے کی بہ جائے اس کا مذاق اڑایا۔ غیر قوموں نے ہمارے بڑوں کے انھی بنیادی علوم پر مزید تحقیق کی اور منزل مراد پر پہنچے۔
اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بھی سینیٹر راحت حسین صاحب اور ان جیسے دوسرے اگر جدید ساینسی علوم کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے، توہمیں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ بھی نصیب نہیں ہو گا۔
اللہ ان کو ہدایت دے۔
840 total views, no views today


