اسلام اباد: جماعت اسلامی کے سابق۔صوبائی امیر اور سینیٹر مشتاق۔احمد مے وزیر اعظم کو خط لکھ دیا ۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ سود کے خاتمہ کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دائر کردہ اپیل کو واپس لیا جائے ۔
وفاقی شرعی عدالت نے سود کے حوالے سے 28 اپریل، 2022 بمطابق 27 رمضان المبارک کو اپنا تفصیلی اور تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے ۔ جو کہ قرآن وسنت ، مسلمانان پاکستان کے امنگوں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے یکم جولائی 1948 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دیئے جانے والے رہنما اصولوں کے مطابق ہے ۔سود کے بارے میں قرآن مجید میں مذکور و اسلامی احکام نہایت واضح ہیں ۔معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لئے علماء، ماہرین معیشت اور اداروں جن میں بالخصوص اسلامی نظریاتی کونسل نے عشروں پر محیط گراں قدر کام کیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔
25 جون ، 2022 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیل خلاف اسلام اور دستور پاکستان کے آرٹیکل 38 ایف کی خلاف ورزی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا یہ اقدام اپنے قانونی دائرہ کار سے تجاوز ہے ۔ سوداللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی ، غربت ،طبقاتی تقسیم کا باعث ہے ۔ نیز حالیہ وفاقی بجٹ کا 41 فیصد حصہ سود میں جانا اس کا واضح ثبوت اورلمحہ فکریہ بھی ہے ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان حکومت پاکستان کا ایک ادارہ ہے اور اسٹیٹ بینک کا وفاقی شرعی عدالت کے سود کے حوالے سے دیئے جانے والے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کاعمل براہ راست آپ اور آپ کی حکومت کا اقدام تصور ہوتا ہے جس سے آپ اور آپ کی حکومت سودی نظام کی محافظ تصور ہوگی ۔ لہذابطور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان آپ پر آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ اپنے حکمنامہ کے ذریعہ اسٹیٹ بینک کو احکامات جاری کریں کہ وہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل واپس لیں ۔
680 total views, no views today



