مینگورہ،یونیورسٹی آف سوات متاثر ین اراضیات نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج ختم کرنے اورتحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ،لاکھوں کی زمینیں ہزاروں میں فروخت کرنے کو تیار نہیں،مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاؤ ضہ دینے اوریونیورسٹی میں کلاس فور پوسٹوں پر مقامی لوگوں کوتعینات کرنے سمیت وائس چانسلر کیخلاف انکوائری کا مطالبہ کردیا،اس سلسلے میں چارباغ کے علاقہ دکوڑک کے رہائشی رفیع اللہ نے دیگردرجنوں متاثرین کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ان کے علاقے میں یونیورسٹی کا قیام ایک احسن اقدام ہے جس سے تعلیم کے فروغ کیلئے راہیں کھلیں گی مگر جہاں پر یونیورسٹی کی عمارت تعمیر ہورہی ہے وہاں پرحکومت نے ہماری زمینوں پر سکشن فور کے تحت لاکھوں کروڑوں روپے کی زمینوں کاریٹ ہزاروں روپے میں لگایا جن متاثرین کا حق لاکھوں روپے بنتاانہیں ہزاروں تھمادئے جو ہمیں کسی بھی صورت منظورنہیں،انہوں نے کہاکہ ایک طرف ہمارے ساتھ معاؤضہ کے معاملہ میں ظلم ہورہاہے جبکہ دوسری جانب وائس چانسلرنے یونیورسٹی میں کلاس فور پوسٹوں پرمقامی لوگوں کی بجائے اپنے علاقے کے لوگوں کو بھرتی کرکے حق تلفی کی ہے،انہوں نے کہاکہ مسلسل ظلم وزیادتی کیخلاف ہم نے آوازاٹھائی احتجاج کیا اپیلیں کیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ،اس ضمن میں جو ٹیم تشکیل دی گئی تھی اسے روکنے کیلئے وائس چانسلر نے سٹے آرڈرلیا،وی سی اپنی اقرباء پروری اورکرپشن چھپانے کی کوشش کررہاہے ،انہوں نے کہاکہ جب ممبران اسمبلی نے ہمارامسئلہ اسمبلی فلور پر اٹھایا تو یونیورسٹی کے بعض اساتذہ نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا حالانکہ ممبران اسمبلی حق بجانب ہیں جنہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ جتناعرصہ تک ہماری زمینیں ان کے لوگوں کے پاس رہیں اس مدت کا معاؤضہ ،مارکیٹ کے مطابق ریٹ اوریونیورسٹی میں کلاس فورپوسٹوں پر ہمارے لوگوں کی بھرتی ہمارے جائز مطالبات ہیں جنہیں ہر فورم پر بارباردہراتے رہیں گے اوراگر ہمارے یہ جائز مطالبات منظورنہیں ہوئے تو احتجا ج ختم کرکے تحریک شروع کرنے پر مجبورہوجائیں گے۔
790 total views, no views today


