سوات ، زمین پر جو لوگ کاشت کرتے ہیں اس کی ملکیت پر ان لوگوں کی حق کو تسلیم کیاجائے، حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لئے قوانین بنائے ہیں شیر محمدخان ایڈوکیٹ، سوات سیدو شریف کے مقامی ہوٹل میں ایشن فاونڈیشن کے مالی تعاون سے کاروان کے زیراہتمام زمین کے تنازعات اور ان کا حل کے موضع پر ایک کھلی بحث کا انعقاد کیاگیاجس میں سوات بھر سے قانون کے ماہرین، سیاستدان، مقامی عمائدین اور صحافیوں نے شرکت کی بحث سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن خیبر پختون خوا کے صدر شیر محمدخان نے کہاکہ ہمارے قوانین میں انہتائی پیچیدگیاں ہے اور اس وجہ سے زمین پر ننازعات حل نہیں ہورہے انہوں نے کہاکہ پختون بیلٹ میں خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں دیاجاتا، لوگوں کو انصاف نہیں ملتے مقامی جرگے اور عدالتوں میں تنازاعات برسوں سے چلے آرہے ہیں قانون میں سقم کے وجہ سے افسرشاہی لوگوں کے حقوق صلب کرتے ہیں حق تویہ ہے کہ جو لوگ زمینوں پر کاشت کرتے ہیں اور اپنی خون پسیان بہاکر فصل تیارکرتے ہیں ان کو اس پر ملکیت کاحق حاصل ہیں۔ مگر قانون ساز لوگ اپنی مفادات کے لئے قوانیں بناتے ہیں ، اس سے پہلے کاروان کے طرف سے کونسلر حیات خان نے کہاکہ اس بحث کا مقصد زمینوں کے تنازاعات پر بحث کرنااور ان کے حل کے لئے قابل عمل تجاویز اکھٹے کرنے ہیں کیونکہ دنیابھر میں تین چیزوں زر،زن اور زمین پرجھگڑے اور فسادات ہوتے ہیں اور سوات کی کشیدہ حالات میں بھی زمین کے تنازاعات ایک اہم پہلوتھا، اجلاس سے مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چھوٹے چھوٹے مسلوں کو مقای سطح پر بااختیارجرگوں کے زریعے حل کرنے چاہیے اور اس کے ساتھ عوام میں زمین کی خرید وفروخت ، وراثت اور دیگر تقسیم کے حوالے سے آگاہی بہت ضروری ہے یہی وجوہات ہے جن کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں بحث میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سیلم شاہ، نسیم اختر، جماعت السلامی کے اخترعلی ، شوکت خان، وکلاء میں سے شاہ سلم خان ایڈیوکیٹ، احمدجان ایڈوکیٹ ، معمبر خان ایڈوکیٹ، سابق نائب ناظم شاہ دوران،سابق ناظم گل زادہ، زرین گوجرشکیل خان ، ایم پی گران خان وغیرہ نے شرکت کی ۔
658 total views, no views today


