سوات: وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف نے سوات پریس کلب میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات کے معاملات کو وزیر اعلی محمود خان خود نگرانی کررہے ہیں،وزیر اعلی نے واضح کیا ہیکہ سوات میں امن و امان کے صورتحال پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا،دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے مزاکرات کئے گئے جب ہمارے بات چیت ہوگئے تو سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا گیا کہ کچھ علاقے طالبان کے حوالے کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں،دہشت گردی کے واقعات کے وجہ سے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا،مذاکراتی عمل پاکستان کے ائین اور قانون کے دائرہ اختیار کے اندر کیا جس میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، فیصلہ کا اختیار پارلیمنٹ کے ساتھ ہے،پارلیمنٹ اور سپورٹ سے سب کچھ چل رہا ہے، کیمٹی کا ممبر امیر مقام بھی ہے، طالبان کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی،حکومت عوام کے ساتھ ہے، صوبائی حکومت لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ دار ہے، مذاکرات سے صوبائی حکومت کا کوئی تعلق نہیں، مذاکرات وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے صوبے کا نہیں،مذاکرات میں بحیثیت میں ریاست کا نمائندہ ہوں،امن کے لئے جو لوگ نکلے ہیں اس پر خوشی ہے، بدامنی کے خلاف مظاہروں میں کچھ سیاسی جماعتوں نے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا جو افسوس کے باعث ہے، سوات کے امن کے لئے وزیر اعلیٰ نے خود کہا ہے کہ پہلے حکومت سینے پر گولی کھائے گی، وفاقی ادارے صوبائی حکومت سے تعاون نہیں کرتے، پی ٹی اے اور ایف ائی اے اور ائی بی سمیت دیگر ادارے دہشت گردی کے روک تھام میں صوبے سے تعاون نہیں کررہے ہیں،بھتہ خوری کے کالز کی ڈیٹا ہم پی ٹی اے اور دیگر ادارے مہنوں گزرنے کے بعد معلومات شیئر نہیں کرتے، سیاسی فائدے کے لیے پی ڈی ایم چاہتی ہے کہ سوات اور صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ نہ ہوں، وزیر اعلی محمود خان روز اول سے تمام معاملات کو قریب سے دیکھ رہا ہے، میں وزیر اعلی کا ترجمان ہوں میرا بیان ان کا بیان ہوتا ہے، سوات کے امن وامان پر وزیر اعلی ہر دوسرے دن اعلی سطح کے سیکورٹی اجلاس طلب کرتے ہیں، وزیر اعلی نے اعلی سطح پر ریاستی اداروں سے بھی امن و امان کے بحالی ہر سنجیدگی سے بات کی ہے،
1,915 total views, no views today



