سوات،سوات میں پشتولیٹریچرفیسٹول کے نام سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں سوات، ملاکنڈ،بونیر، شانگلہ اور دیر سے شعراء نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی وائی ایف کے چیرمین اور الف اعلان کے نمائندے ڈاکٹر جواداقبال نے کہا کہ ادب انسانی معاشرے کی عکاس ہوتی ہے۔تاریخ کسی دور کی ترقی کا اندازہ ادب کے اثر انگیزی اور فکر انگیزی سے کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدیددور میں ادب کو ترقی کے محرک کے طور پراستعمال کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتو زبان کو تعلیم کے فروغ کیلئے استعمال کرنے پر ہی معاشرے میں مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہے، اسلئے یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کی ترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خادم حسین ؔ نے کہا کہ ایسے تقاریب کے بدولت بہت کچھ سیکھنے کو مل جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنا چاہئے۔ایم این اے عائشہ سیدنے کہا کہ ایسے تقاریب وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سوات میں خواتین یونیورسٹی کے قیام اور سکولوں میں سہولیات کے عدم موجودگی کی فراہمی میں بھرپور کوشش کررہی ہے۔افغانستان سے آئے ہوئے نوجوانوں نے پشتو ثقافت پر واک کیا، جس نے خوب داد سمیٹی۔نوجوان عمران نے سریلی آواز میں پشتو نغمہ پیش کرکے شائقین سے داد وصول کی۔ تقریب کے دوران ستار نے ثقافتی آرٹ پر اپنا فن پارہ بھی تیار کیا ۔ حاضرین نے کہا کہ ایسے پروگرامات نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ انسان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری متاع گم گشتہ ہے اور ہم ہی تعلیم کے فروغ کیلئے آگے بڑھیں گے۔
751 total views, no views today


