انسان نوری بھی ہے ناری بھی ہے۔ رحمانی اوصاف بھی رکھتا ہے اور شیطانی بھی۔ اسے عقل و شعور سے نوازا گیا ہے۔ ہدایت کے لیے کتاب بھی دی گئی ہے۔ اچھا برا راستہ اُس کے سامنے ہے۔ انسان کے جسم میں روح امر ربی کی صدا پر اسے روحانیت کے راستہ پر چلانے کے لیے ہمہ وقت مستعد ہے۔ گناہ اور ثواب، نیکی اور بدی کا یہ چکر ازل سے ابد تک جاری رہے گا۔
نیکی کی شاہ راہ پر گام زن لوگ ہی حقیقت میں کام یاب لوگ ہوتے ہیں۔ تاریخ نے بھی ثابت کیا ہے کہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ دنیا میں بھی نیک نامی ملی ہے اور انسانوں نے ایسے لوگوں کا نام احترام سے لیا ہے۔ رہے نفس پرست اور گناہوں کی دلدل میں ڈوبے لوگ اور اپنے گناہوں پر فخر کرنے والے لوگ، تو قرآن میں ہے کہ ’’مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انھیں پیشانی کے بال اور پاؤں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔‘‘ (الرحمان)
مطلب یہ کہ اُس عظیم الشان مجمع میں جہاں تمام اولین و آخرین جمع ہوں گے اور یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں، مجرموں کے اُترے ہوئے چہرے اور ان کی خوف زدہ آنکھیں اور اُن کی گھبرائی ہوئی صورتیں اور ان کے چھوٹتے ہوئے پسینے خود ہی یہ راز فاش کردینے کے لیے کافی ہوں گے کہ وہ مجرم ہیں۔ پولیس کے گھیرے میں اگر ایک ایسا مجمع آجائے جس میں بے گناہ اور مجرم دونوں قسم کے لوگ ہوں، تو بے گناہوں کے چہرے کا اطمینان اور مجرموں کے چہروں کا اضطراب بہ یک نظر بتادیتا ہے کہ اس مجمع میں مجرم کون ہے اور بے گناہ کون۔
دنیا میں یہ کلیہ بسا اوقات اس لیے غلط ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی پولیس کے بے لاگ انصاف پسند ہونے پر لوگوں کو بھروسا نہیں ہوتا بلکہ بار ہا اس کے ہاتھوں مجرموں کی بہ نسبت شریف لوگ زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ اس لیے یہاں یہ ممکن ہے کہ اس پولیس کے گھیرے میں آکر شریف لوگ مجرموں سے بھی زیادہ خوف زدہ ہوجائیں مگر آخرت میں جہاں پر شریف آدمی کو اللہ تعالیٰ کے انصاف پر کامل اعتماد ہوگا۔ یہ گھبراہٹ صرف ان ہی لوگوں پر طاری ہوگی جن کے ضمیر خود اپنے مجرم ہونے سے آگاہ ہوں گے۔ جنھیں میدان حشر میں پہنچتے ہی یقین ہوجائے گا کہ اب اُن کی وہ شامت آگئی ہے جسے ناممکن یا مشتبہ سمجھ کر وہ دنیا میں جرایم کرتے رہے تھے۔ ایسے مجرم لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: ’’اے گروہِ جن و انس، اگر تم زمین و آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو، تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لیے بڑا زور چاہیے۔‘‘
آج دنیا کی زندگی میں مجرم انسان قرآن کی اس پکار سے غافل ہوکر چند روزہ عیش میں منہمک ہیں۔ کیوں کہ وہ ساری چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ صرف جسم کی آنکھیں ہی جو دکھاتی ہیں، اس پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔ دل کی آنکھوں سے دیکھنا انھوں نے چھوڑ دیا ہے۔
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
ماں8 کے پیٹ میں تاریک پردوں میں سانس لیتے بچے کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھنے والا ہے جہاں بڑے بڑے پہاڑ، بڑے بڑے جانور ہیں۔ آسمان ہے اور ٹھاٹھیں مارتے سمندر ہیں۔ سورج کا آتشی گولہ ہے جو زمین سے لاکھوں گنا بڑا ہے، مگر یہی بچہ جب ان سب چیزوں کو دیکھ لیتا ہے، تو پھر یقین کرلیتا ہے کہ ہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے، زندہ و جاوید حقیقت۔
اسی طرح مجرم چہروں والے بھی جب دوبارہ زندہ کرکے روز محشر میں پیش ہوں گے، تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ دایمی خسارہ میں پڑ چکے ہیں۔ پھر وہ درخواست کریں گے کہ ہمیں دوبارہ دنیا کی طرف بھیجا جائے، جہاں وہ نیکی کے راستہ پر چلیں گے، مگر انھیں بتایا جائے گا کہ عمل کا دروازہ تو اب بند ہوچکا ہے۔ اب واپسی کہاں؟
قارئین کرام! دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یہاں انسان جو بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے بلکہ اکثر تو اسی دنیا میں بھی اپنی بد اعمالیوں کے ہاتھوں ذلیل اور خوار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئی قوم اجتماعی گناہوں میں مبتلا ہوتی ہے، تو اللہ پاک ایسی قوم کو سزا دینے کے لیے اُن کے درمیان کوئی فتنہ پیدا کردیتا ہے جس طرح قوم ثمود نے جب اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا، تو اللہ نے سورۂ قمر میں ارشاد فرماتے ہوئے قریش کو یاد دلایا کہ ’’ہم اُونٹنی کو اُن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔‘‘
آج ہماری قوم اجتماعی گناہوں کی وجہ سے بدامنی، دہشت گردی اور آپس میں مشت و گریبانی اور بے انصافی کے فتنوں میں گھری ہوئی ہے۔ جب ہم نے خدا کو فراموش کردیا، تو خود فراموشی کے چنگل میں پھنس گئے۔ حالاں کہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے، تو اللہ نے خود انھیں اپنا نفس بھلادیا۔
یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ جب آدمی بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ ہے، تو لازماً وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر بیٹھتا ہے اور ساری زندگی ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے۔ ایسے انسانوں کے لیے زندگی تنگ اور پریشانیوں کا سمندر بن جاتی ہے۔
726 total views, no views today


