ہمارے ملک میں سب سے اہم مسئلہ ’’موروثی سیاست‘‘ ہے۔ موروثی سیاسی سجادہ نشین یہ چاہتے ہیں کہ موروثی سیاست کبھی ختم نہ ہونے پائے۔ چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے انھیں کیاکیا پاپڑبیلنے پڑتے ہیں۔
ہمارے ملک میں جب سے موروثی سیاست اور موروثی اقتدار کے خلاف آوازوں میں شدت آتی ہے، تو موروثی سیاست اور اقتدار کے دلدادے ان آوازوں کو دبانے یا ان کی شدت کو کم کرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کرتے ہیں۔ 1977ء کو ذولفقار علی بھٹو پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا کر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف تحریک شروع کی جس کو ’’قومی اتحاد‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس اتحاد میں اپوزیشن کی نو سیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔ جن کو نو ستاروں سے یاد کیا جانے لگا۔اتحاد میں شامل بعض سیاسی جماعتوں کا خیال تھا کہ تحریک کی کامیابی کی صورت میں اقتدار ’’پکے آم‘‘ کی طرح ان کی جھولی میں آگرے گا۔ تحریک کے قایدین نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ملک میں نظام مصطفیؐ قایم کرنے کا شوشہ چھوڑ دیا۔ الحمد اللہ ہم سب مسلمان ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں نظام مصطفیؐ رایج ہو۔ مسلمان ہونے کے ناطے عوام نے مذکورہ نظام کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دے دی۔ اپوزیشن کے سخت احتجاج اور عوام کی جانی و مالی قربانیوں کے سبب بھٹو کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ جب مذاکرات کامیاب ہونے کی امید پیدا ہوگئی، توجنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر شب خون مارا۔ ذوالفقار بھٹو سمیت اپوزیشن کے راہنماؤں کو بھی نظربند کیا گیا۔ جنرل ضیاء کے اقتدار پر قابض ہوتے ہی مفاد پرستوں نے عوام کی جانی قربانیوں اور نظام مصطفیؐ پر سودا بازی شروع کی۔ پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کے راہنماؤں نے ملک و قوم کو لوٹنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی نے دس سال تک ایک آمر کا ساتھ دیا۔ ان کے رکن ضیاء الحق کے مجلسِ شوریٰ کے ممبر رہے۔ بے نظیر بھٹو کو ہرانے کے لیے ایجنسیوں نے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد ’’آئی جے آئی‘‘ قایم کیاجس کے نتیجہ میں ’’مہران بینک اسکینڈل‘‘ سامنے آیا اور بہت سے لوگ بے نقاب ہوگئے۔جمہوریت کے نام پر یہ مکروہ دھندہ اکتوبر 1999ء تک جاری رہا۔ نواز شریف نے موروثی سیاست اور اپنے وارثوں کے مستقبل کو مزید محفوظ بنانے کے لیے چند ایسے اقدامات کیے کہ ایک بار پھرفوجی آمرجنرل پرویز مشرف کو اقتدار پر قبضہ کرنے کا موقع ہاتھ آیا۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) نے جنرل مشرف کا ساتھ دیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تو قوم سے جنرل کا ساتھ دینے پر معافی مانگ لی جب کہ مسلم لیگ (ق) نے جنرل کے اقتدار کے خاتمہ تک ان کا ساتھ دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قاید بے نظیر بھٹو پہلے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھی جب کہ نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف نے جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ البتہ دونوں جماعتوں کے لیڈروں کے درمیان مفاہمتی سیاست کا معاہدہ ضرور ہوا۔ یہ مفاہمتی معاہدہ اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ نیک نیتی سے ملک و قوم کی خدمت کر یں گے اور پاکستان کو دنیا میں عزت و وقار کا مقام دلائیں گے بلکہ ان کے مفاہمتی سیاسی معاہدہ کا محور ملک و قوم کو باری باری لوٹنا تھا۔ یہ نکتہ عام آدمی کے لیے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ باری ختم ہونے پر اپنی باری شروع کرنے والا مفاہمت کے نام پران کے تمام لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت گری سمیت دوسرے جرایم سے صرف نظر کرنا تھا۔ پاکستان کی دونوں بڑی پارٹیاں باری باری اقتدار پر براجمان رہنے کے لیے بڑی خوب صورتی سے داؤ پیچ آزماتے رہے ہیں۔ ایسے داؤ پیچ کو اختلاف رائے کا نام دیا جاتا ہے اور اس اختلاف رائے کو ہماری اعلیٰ مرتبت اشرافیہ ’’جمہوریت کا حسن‘‘ کہتی ہے۔
مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے قایدین ایوان اقتدار تک پہنچنے اور اپنے آنے والی نسلوں کے لیے اقتدار کے حصول کا راستہ ہم وار کرنے کی خاطر فوجی آمر جنرل پرویزکے ساتھ این آر او جیسے بدنام زمانہ معاہدہ کرنے پر راضی ہوئے اور این آر او کو بعد میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے قومی اسمبلی سے پاس کر ایا گیا۔ اس معاہدہ کے تحت قومی خزانہ لوٹنے والوں، قاتلوں اور دیگر جریئم میں ملوث ہزاروں افراد کو بخشا گیا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ اقتدار میں سرکاری اداروں میں من پسند افراد تعینات کیے۔ سپریم کورٹ کے کسی حکم پر خلوص دل سے عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کو اپنے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ہاتھ دھونا پڑا۔پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم، وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے اسکینڈل سامنے آئے اور مقدمات بھی قایم ہوئے۔
اسی دوران میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جب بھی یہ محسوس کیا کہ پی پی پی کی حکومت گرنے والی ہے، تو نواز شریف لنگوٹ کس کر میدان میں اتر جاتے۔ نواز شریف پانچ سال تک یہ کھیل کھیلتے رہے۔ الیکشن 2013 میں مسلم لیگ (ن) جب ایوان اقتدار تک پہنچی، تو مفاہمتی سیاسی معاہدہ کے رو سے اب پیپلز پارٹی نواز حکومت کو گرانے سے بچانے کی ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کر رہی ہے۔ کیوں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) مفاہمتی سیاست کے اسرار و روموز سمجھ چکے ہیں۔ پہلے نواز شریف اور اب پی پی پی ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ یہ بھی سمجھ چکے ہیں کہ دو بلیوں کی لڑائی میں فایدہ تیسری کا ہوتا ہے۔
چودہ اگست 2014ء کو جناب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے دھاندلی زدہ الیکشن اور چورلیٹروں کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے سامنے پریڈگراؤنڈ پر دھرنا دیا،تو موروثی سیاست کے سجادہ نشینوں نے دھرنوں کو اپنے لیے بہت بڑاخطرہ سمجھا۔ اس خطرہ کے سدِباب کے لیے انھوں نے آپس میں سر جوڑ دیئے۔ ایک طرف اسلام آباد میں اسمبلی کے سامنے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا جاری تھا، تو دوسری طرف ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا میں حکومتی، اتحادی اور اپوزیشن کے اراکین کے لیے سرکاری خرچہ پر مشترکہ طور پر دھرنے کا اہتمام کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں برسراقتدار ٹولے، اتحادی جماعتوں، بعض آزاد ارکان، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے منتخب اراکین نے قومی اسمبلی کی بلڈنگ میں سرکاری دھرنے سے خطابات کیے۔ اپنے اپنے خطاب میں حکومتی ارکان سمیت اپوزیشن اور آزاد ارکان نے 2013ء کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا رونا رویا،لیکن اس کے باوجود اسلام آباد میں اسمبلی کے سامنے 2013ء کے دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف دھرنا دینے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے۔
ایک موقع پر تو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر راہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات بھی لگائے۔ موروثی سیاست کے سجادہ نشینوں نے جب یہ محسوس کیا کہ آپس کی لڑائی سے ان کے مفادات پر زد پڑسکتی ہے، تو دونوں پارٹیوں کے قایدین نے بیچ میں پڑکر اپنے اپنے اراکین کو رام کر دیا۔
قارئین کرام! یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ یہ منظر پوری قوم نے ٹی وی چینلوں پر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اگرعوام باریوں کا یہ کھیل اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی سبق نہیں سیکھتے، تو اس سے زیادہ بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟
آئیں، ہم سب مل کر موروثی سیاست کے کھیل کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
935 total views, no views today


