میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں مراد سعید کو نہیں جانتا، کیوں کہ لاکھوں کے لیے یہ نام اجنبی نہیں اور ایک بار اُن سے ملا بھی ہوں، جب وہ انتخابی مہم کے دوران میں ہمارے گاؤں میں ہمارے گھر کے قریب جلسہ سے ایک جذباتی خطاب کررہے تھے۔ مَیں مراد سعید کے بارے میں زیادہ معلومات بھی نہیں رکھتا، ہاں! اُس کے دادا کو اچھی طرح جانتا تھا۔ ان کے دادا کے ایک بھائی جہانزیب کالج میں میرے کلاس فیلو تھے، جو بعد میں ایک ایکسڈنٹ میں جان بہ بحق ہوگئے تھے۔ مگر ’’منصور‘‘ کے لیے مراد سعید ایک رول ماڈل اور ہیرو ہے۔ وہ مراد سعید کا شیدائی اور عمران خان کا سپاہی ہے۔ اُس کے خیال میں یہ دونوں انسانی خطاؤں سے مبرا ہیں، وہ ان کے ہر قول و فعل کے لیے جذباتی جواز ڈھونڈتا ہے۔ حتیٰ کہ حالیہ ڈگری اسکینڈل میں بھی وہ مراد سعید کے ساتھ کھڑا ہے۔
’’منصور‘‘ تحریک انصاف کا ایک ادنیٰ کارکن ہے، مگر تحریک کے لیے اُس کی کنٹری بیوشن سب سے زیادہ اور روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ پی کے اکیاسی میں تحریک انصاف کی بے مثال کامیابی میں ’’منصور‘‘ کا کردار سب سے زیادہ ہے۔ اُس نے صبر و استقلال سے اور خاموشی سے تحریک کے لیے جد و جہد کی۔ ’’منصور‘‘ ہی کی وجہ سے ہم نے اپنی پچاس سالہ سیاسی رفاقت چھوڑ کر اُس کے لیڈر کا ساتھ دیا۔ ’’منصور‘‘ نے اپنی محدود پاکٹ منی تک پارٹی کے پروپیگنڈا مہم اور پبلسٹی میں صرف کی۔
گاؤں کے لوگوں کی طنزیہ باتوں کو در خور اعتناء نہ سمجھا، خندہ پیشانی سے اُن کی باتوں کو برداشت کیا۔ ہمارے ہزار منع کرنے کے باوجود وہ دھرنوں میں حاضری دیتا رہا۔
قارئین کرام! ’’منصور‘‘ کون ہے؟ وہ ایک پچیس سالہ بچہ ہے۔ کم از کم میرے لیے، تو وہ بچہ ہی ہے، کیوں کہ وہ میرا پوتا ہے۔ عمر کے لحاظ سے وہ جوان ہے، مگر حالات کی تلخیوں اور جسمانی کم زوری نے اُسے بوڑھا کردیا ہے۔
’’منصور‘‘ نے پشاور کی زرعی یونی ورسٹی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آنرز کے ساتھ گریجویشن کیا ہے اور فی الحال ایم ایس کا طالب علم ہے۔ بہت کم عمری میں اُسے ایپیلپسی کی بیماری لگ گئی۔ پہلے ہی حملہ کے فوراً بعد ہم اُسے بچوں کے مشہور معالج ڈاکٹر حبیب اللہ خان کے پاس لے گئے۔ مختلف ٹیسٹ کے بعد انھوں نے جو دوائی تجویز کی، وہ پانچ سال کے لیے تھی۔ انھوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اس دوائی سے اس کی بیماری تو ختم تو ہوجائے گی لیکن اس کی جسمانی نشوونما رُک سکتی ہے۔ ہم نے مجبوراً اُس کی جان بچانے کے لیے اسی دوائی سے اس کا علاج جاری رکھا اور پانچ سال میں ایک بار بھی اُس کی دوائی میں ایک دن کا بھی ناغہ نہ ہونے دیا۔
خدائے رحیم و مہرباں نے کرم فرمائی کی اور اُس کی بیماری ختم ہوگئی، لیکن اُس کا قد بڑھنے میں روکاؤٹ آئی۔ ہم نے اُس کو سوات کے سب سے مہنگے اور اعلیٰ ترین نجی تعلیمی ادارے میں پڑھایا۔ ایف ایس سی کے امتحان کے پہلے پرچہ کے دوران میں ہی سواتیوں کو ہجرت کرنے کا حکم ملا اور اُس دن وہ معصوم بچہ جس طوفان سے گزر کر پیدل گاؤں تک آیا، وہ قیامت تک بھولنی والی بات نہیں۔ حالات کچھ ساز گار ہوئے، تو ہم واپس سوات آگئے۔ بورڈ والوں نے فیصلہ کیا کہ اب ایف ایس سی کا دوبارہ امتحان نہیں لیا جائے گا بلکہ پارٹ ون کے حاصل کردہ نمبرات پارٹ ٹو کے لیے تصور ہوں گے۔ اس طرح ’’منصور‘‘ کو کم نمبروں کی وجہ سے انجینئرنگ میں داخلہ نہ مل سکا بلکہ زرعی یونی ورسٹی کے شعبۂ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی سیلف فنانس پر داخلہ ممکن ہوسکا۔ ’’منصور‘‘ نے ہمت نہ ہاری اور نا مساعد حالات اور محدود وسایل کے باوجود پڑھتا رہا۔
اپنے چھوٹے قد اور معصوم چہرے کی وجہ سے وہ آج بھی ایک معصوم بچہ ہی لگ رہا ہے۔ اُس کے نرم نرم چھوٹے ہاتھ محنت کے عادی ہوگئے ہیں۔ ذہنی استعداد اس کا سرمایہ ہے۔ سیاسی نظریات میں نہایت سخت گیر اور عمران کو ملک کا نجات دہندہ سمجھتا ہے۔
مجھے وہ بہت پیارا ہے اور اُس کے صبرو استقلال نے میرا حوصلہ بڑھایا ہے۔ وہ آج بھی حصولِ علم میں مصروف ہے، مگر مجھے اس کی سیاسی قیادت سے بہت سخت گلہ ہے۔ میں اُس تحریک کی کیا تعریف کروں جس نے میرے پوتے ’’منصور‘‘ کو انصاف نہیں دیا۔ اُس کا حق تھا کہ جسمانی طور پر ہینڈی کیپ ہونے کی وجہ سے اُس کو خصوصی وظیفہ دیا جاتا۔ اس کے برعکس وہ یونی ورسٹی کے تمام واجبات باقاعدگی سے ادا کرتا رہا، اس کو سرکاری ہاسٹل میں کمرہ نہ مل سکا۔ گزشتہ پانچ سال سے وہ پرائیویٹ ہاسٹل میں رہ رہا ہے۔ اس کا والد محنت مزدوری کرکے اُس کے تعلیمی اخراجات پورا کررہا ہے۔ حکومت کی بے انصافی اور بے شرمی کی انتہا ہے کہ اُس کو لیپ ٹاپ اسکیم سے بھی محروم رکھا گیا۔ حالاں کہ سب سے زیادہ حق اُس کا بنتا ہے۔
صوبہ کی اندھی بہری حکومت کو چاہیے تھا کہ اُس کو جسمانی طور پر معذور سمجھ کر اس کو ملازمت دی جاتی، تو بھی اُس کی داد رسی ہوسکتی تھی، مگر کہاں خٹک سرکار اور کہاں انصاف ’’ایں خیال است و محال است و جنوں۔‘‘
وہ آج بھی مراد سعید کا ’’دیوانہ‘‘ اور ’’عمران‘‘ کا سپاہی ہے۔ صبر و شکر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کررہا ہے۔ وہ ہمارے لیے اُمید سحر ہے۔ وہ ہمارا ’’نپولین‘‘ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایک دن وہ اس کمینی دنیا سے اپنا حق چھین کر رہے گا۔
750 total views, no views today


