یوروپ کے ایک با خبر صحافی نے ایک نجی ٹی وی کے انٹرویو میں یہ راز افشاں کیا کہ پاکستان کو توڑنے اور عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے مقامی طور پر ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘، ’’بلیک واٹر‘‘ اور ’’ہندوستان‘‘ اپنے ہم نواؤں کو ساتھ ملاکر بھرپور کارروائی کر رہے ہیں جب کہ حسین حقانی پاکستانی سفارت خانہ میں غیر ملکی مفادات کا محافظ ہے، جس نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آٹھ ہزار دیگر لوگوں کو بغیر وزارت خارجہ کی اجازت اور سیکورٹی کلیئرنس کے ویزے جاری کیے جس کی وجہ سے آج تک کوئی پتا نہیں کہ وہ کن کن خفیہ اڈوں میں مقیم ہیں جب کہ ریمنڈڈیوس کا گروہ پکڑے جانے کے بعد انھیں باعزت امریکہ بھی بھیج دیا۔اٹھارہ مارچ 2010ء کے روزمہ نوائے وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش پکڑی گئی تھی۔ خفیہ اداروں نے حکومت کو اس سازش سے بروقت آگاہ کیا تھا۔ ایک حساس ادارے کے ذرایع کے مطابق حکومت میں شامل اہم ذمہ داروں اور خفیہ اداروں کے سربراہان کا اس ایشو پر اجلاس ہوا تھا جس میں ’’را‘‘ کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری حکمت عملی بھی تیار کی گئی تھی اور خفیہ اداروں کو اہم ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں جب کہ علمائے کرام اور مذہبی راہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا جس کی تصدیق مختلف مسالک کے جید علماء نے کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ’’را‘‘ کی طرف سے علماء کے ساتھ ساتھ دینی اداروں اور تنظیموں سمیت ان کے ویلفیئر کے مراکز کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ کراچی میں علماء کی ٹارگٹ کلنگ کے پے درپے واقعات کی کڑیاں بھی بھارت سے مل رہی ہیں۔ بھارت اس مقصد کے لیے انتہا پسند تنظیموں کے جنونی کارکنوں پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے اور انھیں جدید اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔کراچی کے حالات خراب کرنے کے لیے جو کچھ ہو رہا ہے، ساری دنیا جانتی ہے کہ اس کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے، جس کی تکمیل مقامی ایجنٹ کر رہے ہیں۔
چند دن قبل ناین زیرو سے جو اسلحہ اور دیگر خطرناک مواد برآمد ہوا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس پر ایم کیو ایم کے قاید الطاف حسین نے جو شور مچایا اور افواج پاکستان اور رینجرز کے خلاف جو نفرت انگیز پروپیگنڈا جاری ہے، اس سے خوب پتا چلتا ہے کہ ان کے پیچھے پاکستان دشمن عناصر کا م کر رہے ہیں۔ ناین زیرو سے غیر ملکی جدید اسلحہ اور مختلف پارٹیوں کے جھنڈے وغیرہ کی برآمدگی کس بات کی عکاسی کرتی ہے؟ یہ کہ مختلف پارٹیوں کے جھنڈے دکھا کر اس صورت میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واردات مقصود تھے۔
پاکستان کے دل کراچی میں ایک سروے رپورٹ کے مطابق پانچ ہزار سے زاید افراد ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیے گئے لیکن اس پر بین الاقوامی دنیا خوشیاں مناتی رہی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ الطاف حسین اور ان کی پارٹی بچانے کے لیے امریکہ اور ان کے ساتھی مصالحت کے نام پر مصروف عمل ہیں، تاکہ اس مشکل میں ان کو بچایا جائے۔ حالاں کہ ایم کیو ایم کے ہیڈکواٹر سے جو اسلحہ اور خطرناک مواد برآمد ہوا ہے، اگر یہ کسی مدرسہ یا مذہبی جماعت کے دفتر سے برآمد ہوا ہوتا، تو امریکہ اور نام نہاد انسانی حقوق کے علم بردار آسمان سر پر اٹھا لیتے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان پر فوج کی خصوصی عدالتوں میں مقدمہ درج کیا جائے و علی ہذاالقیاس۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپہ کے بعد یہ واقعہ پورے میڈیا پر آیا ہے۔ اس حوالہ سے امریکہ یا دیگر انسانی حقوق کے ٹھیکہ داروں نے کچھ نہیں کیا، اس لیے کہ اس پر امریکہ اور انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا پاک فوج اور حکومتی ذمہ داروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کراچی کے ہزاروں بے گناہ افراد کے قاتلوں کو سامنے لائیں اور مزید مصلحتوں سے باہر آکر سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائیں،ورنہ کہیں ایسانہ ہو کہ پاکستان کے دشمنوں کو موقع ملے اور وہ مزید تباہی کا سامان کریں۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان میں افواج پاکستان نے جو کارروائی کی، اس کو پاکستان کے ننانوے فی صد عوام کی حمایت حاصل رہی ہے۔ اس بار بھی عوام کی حمایت ان کے ساتھ ہے۔ پاک آرمی قدم بڑھائیں ہم تمھارے ساتھ ہیں۔
1,120 total views, no views today


