قارئین کرام! پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملہ میں بچوں کے شہید ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے اسکولوں کے لیے ایک عجیب سے ’’سیکورٹی پلان‘‘ کا اعلان کیا جس میں اسکولوں کے لیے کم از کم ایک عدد گن مین، واک تھرو گیٹ، لمبی چاردیواری اور اس قبیل کے دیگر لوازمات شامل ہیں۔ صوبائی حکومت نے تو سیکورٹی پلان جاری کر دیا لیکن اس کا تمام تر بوجھ اسکولوں پر ڈال دیا اور بے چارے اساتذۂ کرام پر بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اسکولوں کی سیکورٹی کی زاید ذمہ داری بھی ڈالی گئی۔ اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس استاد یا کلاس فور نے زندگی بھر بندوق ہاتھوں میں نہیں لیا ہو، وہ ایک ٹھیک ٹھاک سیکورٹی گارڈ کا کردار ادا کرے گا۔
قارئین کرام! گزشتہ دنوں مینگورہ شہر کے تھانہ کے ایک ایڈیشنل ایس ایچ او نے مینگورہ اور متصل علاقوں کے چار گورنمنٹ اسکولوں (گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول حاجی بابا، گورنمنٹ پرایمری اسکول حاجی بابا، گورنمنٹ مڈل اسکول پانڑ اور گورنمنٹ ہائی اسکول ملابابا) کے پرنسپل و ہیڈ ماسٹر صاحبان پر چھاپا مارا جس کے دوران میں اسکولوں کے دروازوں پر سیکورٹی کے لوازمات کی کمی پائی گئی۔ نیز چاردیواری کی اونچائی میں کمی محسوس ہونے پر ایڈیشنل ایس ایچ او صاحب نے چاروں اسکولوں کے پرنسپل اور ہیڈماسٹر صاحبان کو تھانہ مینگورہ میں تین مارچ کو حاضرہونے کا حکم صادر فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ سیکورٹی کے حوالہ سے ایک میٹنگ کرنی ہے۔ جب یہ صاحبان (خورشید رؤف، اسرار الدین، مسعود امان اور احمد سید باچا) تھانہ پہنچے، تو ایس ایچ او صاحب نے ان قوم کے ان معماروں پر ایف آئی آر درج کی اورمبینہ طور پر ہتھکڑیاں لگا کر انھیں اے سی کی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ان معزز معمارانِ قوم کے مؤقف کو سننے کے بعد ایک اور تاریخ پر پیش ہونے کو کہا۔ اگلی تاریخ پر انھیں معمولی نوعیت کے کیس میں چالان کیاگیا۔
اب یہاں اگر انصاف کی بات کی جائے، تو سوال اٹھتا ہے کہ سیکورٹی کا کام کس کا ہے؟
قارئین کرام! اس حوالہ سے ایک استاد محترم اور اساتذہ یونین کے راہنما نے کہا کہ انتظامیہ سیکورٹی اور چاردیواری کے حوالہ سے حکم تو دیتی ہے لیکن اس کے لیے فنڈز کا بندوبست نہیں کرتی۔ اسکولوں کے ساتھ ایسا کوئی فنڈ نہیں کہ اس سے چاردیواری کو مزید اونچا کیا جاسکے۔ لہٰذا یہ انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود اسکولوں کی چار دیواری کو اونچی کرے۔ انھوں نے کہا کہ رہا سیکورٹی کا مسئلہ، توعموماً پرایمری اسکول میں صرف ایک چوکی دار ہوتا ہے جس کے ذمے چوبیس گھنٹے اسکول کی چوکیداری کا کام ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ چپڑاسی کا کام بھی کرتا ہے، تو کیا ایک آدمی دوران اسکول بچوں کی حفاظت کرے گا یا اساتذہ کی خدمت؟ اس کے ساتھ چوبیس گھنٹے اسکول کی رکھوالی بھی کرے گا، تو کیا مذکورہ چوکی دار انسان ہے یا مشین؟ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اگر اسی دوران میں کوئی ناخوش گوار واقعہ رونما ہوتا ہے، تو اس کی ذمہ داری بھی چوکی دار موصوف پر عاید ہوگی۔
قارئین کرام! اگر صورت حال کا بہ غور جایزہ لیا جائے، تو یہ حقیقت ہے کہ ایک پرایمری یا مڈل اسکول میں ایک اکیلا چوکی دار اتنا سارا بوجھ کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ باقی چاردیواری کا بوجھ تو جیسے تیسے اسکول برداشت کرلے گا، چاہے اس پر اٹھنے والا خرچہ اسکول میں پڑھنے والے بچوں سے وصول کیا جائے یا اساتذہ اپنے اوپر بوجھ ڈالیں۔
یہ واقعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود اسکولوں کی چاردیواری کی ذمہ داری لے۔ سیکورٹی کے نام پر سوات میں درجن بھر ادارے کام کر رہے ہیں، ریگولر پولیس، کمیونٹی پولیس، لیویز اور دیگر ادارے کس مرض کی دوا ہیں؟ اگر انتظامیہ کو سیکورٹی کا اتنا ہی خیال ہے، تو وہ اپنی ذمہ داری پوراکرے، جہاں سیکورٹی کی ضرورت ہو، وہاں ایک ایک پولیس اہل کار تعینات کرے۔
ہماری گزارش ہے کہ ہمارے معزز اساتذۂ کرام کو دوسروں کی کوتاہی کے عوض سلاخوں کے پیچھے نہ کیا جائے، ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں نہ ڈالی جائیں۔
738 total views, no views today


