پرسوں ایک دوست کے امتحانات میں نقل کرنے اور بچوں کی جیب سے امتحانی عملہ کو کھانا کھلانے کے لیے پیسے وصول کرنے کے بارے میں سوشل میڈیا پہ اسٹیٹس دیکھ کر مجھے اپنی کہانی یاد آئی اور ساتھ ساتھ اسے قلم بند کرنے کا شوق بھی چرا۔
قارئین کرام! ایک عام سی سوچ ہے کہ جب ہمارے بچے امتحانات میں فیل ہوجاتے ہیں، تو ہم کہتے ہیں کہ یہ امتحانات بغیر رشوت دینے کے پاس نہیں ہوتے ہیں۔ کیوں کے ہم کو پتا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو پہلے سے ہی اس نظام کا حصہ بنایا ہے۔ امتحانات میں نقل کرنا پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور دیگر ممالک میں بھی ایک عام سی بات ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں میٹرک کے امتحانات میں طلبہ نقل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں اور اکثر لوگ نقل کے ذرایع استعمال کرکے ہی پاس ہوتے ہیں۔
بہت کم اسکولز ایسے ہوں گے جہاں نقل کا رحجان نہیں ہوگا۔
قارئین کرام! یہ سلسلہ بہت ہی پرانا ہے۔ جب ہم بچے تھے، تو اکثر یہ سننے کوملتا تھا کہ میٹرک کے امتحانات میں ہر ایک اسٹوڈنٹ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی ایسے ہی امتحانی ہال میں جاتے تھے، تا کہ اُسے باہر سے نقل فراہم کرسکیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سسٹم میں تھوڑی سی تبدیلی آگئی اور ہوا یوں کہ امتحانی ہال کے باہر پولیس تعینات ہونے لگی اور باہر سے ہال کے اندر نقل منتقل کرنا مشکل ہوگیا۔
دوسری طرف ہمیں بھی بتایا جاتا کہ گھر سے ہی لیس ہو کے جانا ہے۔ کیوں کہ باہر سے کسی کو نقل میں مدد کرنے کا کوئی فایدہ نہیں ہے۔ ہال کے چاروں طرف پولیس جو تعینات ہوتی۔ یہ لیکچراکثر ہمیں اسکول سے ہی امتحان کے ایک دو روز پہلے ہی دیا جاتا اور اس ’’نیک‘‘ کام کے لیے ہمارے اساتذہ ہمارے ساتھ کافی محنت بھی کیا کرتے تھے۔ ان سب باتوں کو میرے ساتھ ساتھ باقی ماندہ کلاس فیلوز بڑے مزے سے سنتے تھے اور خوش بھی ہوتے تھے کہ ہمیں نقل کے طریقے اور اُصول سکھائے جا رہے ہیں، لیکن پریشان اُس وقت ہوتے تھے جب ٹیچر تمام طلبہ سے امتحانی عملہ کو دعوت دینے کی خاطر پانچ سو یاہزار روپیہ لانے کا کہتے۔ کیوں کہ اس وقت ہم جیسوں کے لیے یہ کافی رقم تھی اور اکثر طلبہ کے لیے تو اتنی خطیر رقم کا بندوبست کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ یہ رقم اس لیے اکھٹی کی جاتی تھی کہ امتحانی عملہ کو رشوت کے طور پر کھانا کھلایا جاسکے اور وہ ہمارے ساتھ امتحان میں رعایت برتیں۔
جب ہم میڑک کا امتحان دے رہے تھے، تو ہم سے بھی یہی ڈیمانڈ کیا گیا تھا۔ ہمارے کلاس میں زیادہ تر بچوں کا تعلق، غریب گھرانوں سے تھا، تو ہم نے احتجاج کیا کہ ہم یہ پیسے نہیں دیں گے۔ احتجاج کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں اسکول سے دھمکی ملی کہ آپ کو آپ کے رول نمبر اسلپس نہیں ملیں گے۔ بہ ہرحال کافی مشکل سے رول نمبر اسلپس تو مل گئے لیکن امتحانی ہال میں وہی ہوا جو ہمارے اساتذہ نے ہمیں کہا تھا۔ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا اور یہی وجہ تھی کہ ہم سب نے اگلا پرچہ دینے سے پہلے پہلے وہ پیسے اکھٹے کر کے متعلقہ ٹیچر کو دے دیے۔
اس وقت ہم یہ سوچتے تھے کہ سارا قصور ہمارے ٹیچرز کا ہے اور ہم انھیں ہی ’’دوشی‘‘ ٹھہراتے تھے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ بے چارے بھی مجبور تھے اور جانتے تھے کہ اگر وہ یہ پیسے نہیں دیں گے، تو اُن کے طلبہ کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی اور اگر ہم فیل ہوں گے، تو اُن کی بدنامی ہوگی۔اس لیے اگر دوسرے تمام اسکولز کے بچوں سے پیسے لیے جاتے ہیں، تو ہمیں بھی دینا پڑیں گے۔
قارئین کرام! اس عظیم گناہ میں ہم سب لوگ برابر کے شریک ہیں۔ کیوں کے کبھی والدین نے اپنے بچوں کو یہ نہیں کہا ہے کہ امتحان میں نقل نہ کریں بلکہ عقل سے کام چلائیں۔ اکثر والدین ہی ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے بچوں کو نقل مہیا کرنے میں اُن کی مدد کرتے ہیں، اور یہ بھی ہم سب بہ خوبی جانتے ہیں کہ جو لوگ عقل کا استعمال کرکے پاس ہوتے ہیں، تو کامیابیاں اُن کا قدم چومتی ہیں اور وہ زندگی میں آگے جا کے بڑے بڑے عہدوں پر فایز ہو تے ہیں اور کامیاب و کامران کہلاتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ نقل کرنا ایک عظیم گناہ ہے لیکن پھر بھی ہم بڑے شوق سے یہ عمل کرتے ہیں اور ہمارے اساتذہ اور والدین اس عظیم گناہ میں ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ ہم مسلمانوں میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کو بڑے اچھے طریقہ سے درس دیتے ہیں اور گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں، لیکن جب بات ہماری اپنی ذات کی حد تک آجاتی ہے، تو ہمارے لیے سب کچھ جایز ہوجاتا ہے۔ یہی ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔
برسبیل تذکرہ، ایک دفعہ ایک مولوی صاحب نے ہمارے ایک دوست کو کہا کہ وہ اس کے لیے بی اے کے امتحان میں بیٹھے اور اس کے پرچے پاس کرائے۔
ہم نے کبھی کسی مولوی صاحب کو یہ درس دیتے ہوئے نہیں سُنا ہے کہ نقل نہ کریں، کیوں کہ نقل کرنا گناہ ہے۔
نقل کی اس روایت کو ختم کرنے کے لیے ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا جس میں والدین، اساتذہ، امتحانی عملہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ کیوں کہ ایسا کرنا ایک باشعور قوم کی علامت ہے۔
زیر نظر تحریر کا مقصد یہی ہے کہ میٹرک کے امتحانات شروع ہوچکے ہیں اور میں نے سوچا کہ اس تحریر سے قوم کا تھوڑا بہت بھلا ہوسکتا ہے۔ باقی بہ قول شاعر
شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات
780 total views, no views today


