سخت بارش ہو رہی تھی۔ دھند کے باعث کچھ نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ رات کے اندھیرے میں مجھے ڈرائیونگ کرنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اتنے میں کوٹ کی دائیں جانب والی جیب میں میرا موبایل چیخ پڑا۔ مسلسل گھنٹی بج رہی تھی۔ مجبوراً ایک ہاتھ میں اسٹیئرنگ پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے موبایل نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔ بڑی مشکل سے فون نکال کر فوراً آن کرکے کان سے لگایا۔ اس دوران میں مختلف شکوک و شبہات دامن گیر تھیں کہ اللہ خیر کرے اس وقت کون ہوسکتا ہے، جس نے اس اندھیری رات میں اس موسلادھار بارش میں فون کرنے کی زحمت کی۔ ہوگا کوئی مجبور انسان، اچانک ایک لڑکی کی آواز نے مجھے چونکا دیا کہ ٹیلی نار شو کے طرف سے ایک اور ۔۔۔ اور اس سے آگے میں نہ سن سکا۔ فون بند کردیا۔
قارئین کرام! خدا گواہ ہے کہ مجھے اُس وقت موبایل فون ایک زحمت سے زیادہ کچھ اور محسوس نہ ہوا۔ اگر میرا بس چلتا، تو میں اس رات موبایل فون کو باہر پھینک دیتا۔ کیوں کہ اس بے وقت اشتہاری مہم نے میرے دماغ کو خراب کیا تھا۔
ایک دفعہ سہ پہر کے وقت میں کچھ لکھ رہا تھا۔ میری بیٹی باورچی خانہ میں مصروف تھی۔ اُس کا موبایل فون بر آمدہ میں ایک کرسی میں پڑا اچانک چیخ اٹھا۔ مسلسل گھنٹیاں بجنے لگیں۔ میں نے اُسے آواز دی۔ وہ بے چاری ایک ہاتھ میں اپنا بچہ تھام کر دوسرے میں ہانڈی کا چمچ پکڑ کر دوڑتی آئی۔ صحن میں پودوں کے گرد اینٹوں کا پردہ سا بنا ہے جس کے ساتھ اسے ٹوکر لگی اور گرتے گرتے بچ گئی۔ جب فون اٹھایا، تو سرد آہ بھر کر واپس رکھ دیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ زونگ کی طرف سے اشتہاری فون تھا۔
قارئین کرام! اب آپ خود سوچ لیں یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔ یہ اشتہار کا کتنا بھونڈا طریقہ ہے۔ مجھے قریب سے کم زور نظر آتا ہے، لہٰذا گھنٹی بجتے ہی میں دیکھے بغیر فون کو کان سے لگا دیتا ہوں۔ عینک نکالنے اور لگانے میں وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی موبایل فون سنتے ہوئے اکثر اوقات موقع محل ایسا بن جاتا ہے کہ سننے سے پہلے موبایل دیکھنے اور فون کرنے والے کا نام اور نمبر پڑھنے کا وقت اور ماحول نہیں ہوتا۔ ایسے بے تکے اشتہار کا طریقۂ کار کہیں بھی نہیں ہوتا۔ پوری دنیا میں اپنی کمپنی اور موبایل فون کے مختلف پیکیج کے بتانے اور اشتہار کے لیے گھنٹی کہیں نہیں بجائی جاتی۔ صرف اور صرف میسج دیا جاتا ہے۔ صارفین کو رنگ بجانے کے ذریعے اپنے تشہیری مہم چلانا دراصل ایک بھدا بھونڈا طریقہ اور غیر اخلاقی و غیر ادبی حرکت ہے جو صارفین کو ٹینشن کے علاوہ اور کچھ نہیں دیتی۔ در اصل یہ عام لوگوں اور صارفین کو تنگ کرنی والی ایک گھناؤنی حرکت ہے۔ اس قسم کا فون اٹینڈ کرکے کوئی بھی متعلقہ کمپنی کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کرتا بلکہ غصہ میں صلواتیں سنا دیتا ہے۔ لہٰذا ٹیلی نار، زونگ اور دیگر تمام موبایل کمپنیوں سے درخواست ہے کہ وہ جلد از جلد عام لوگوں اور اپنے صارفین پر رحم کھا کر یہ غلط اور غیر اخلاقی طریقۂ اشتہار فی الفور بند کریں۔ بہ صورت دیگر احتجاج بھی کیا جاسکتا ہے اور قانونی چارہ جوئی کا حق بھی صارف محفوظ رکھتا ہے۔
بہ راہِ کرم، موبایل کی اس جدید ساینسی سہولت کو بہ جائے رحمت کے زحمت نہ بنائیں۔
دوسری جدید انسانی سہولت ’’انٹرنیٹ‘‘ بھی رحمت سے زحمت کی شکل اختیار کررہا ہے۔ خاص کر منگلور، مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں آج کل انٹرنیٹ کی جو رفتار ہے، وہ کسی چیونٹی ہی کی ہوسکتی ہے، انٹرنیٹ کی ہر گز نہیں۔ اچھا خاصا پروگرام چل رہا ہوگا یا خبروں میں دل چسپ صورت حال ہوگی کہ اچانک آواز بند ہوجائے گی۔ اسکرین پر ایک دایرہ گھومنا شروع ہوجائے گا۔ اب لیپ ٹاپ کے ارد گرد چکر لگاؤ یا طواف کرو، کچھ نہیں ہونے والا۔ انٹرنیٹ سرکار ٹس سے مس نہیں ہوگی۔
آج کا دور برق رفتاری کا دور ہے اور خاص کر اس آئی ٹی کے دور میں سست رفتاری کی گنجایش قطعاً نہیں ہے۔ رفتار کو بڑھانا چاہیے۔ اپنے انتظامی اُمور کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ اپنے کیبل اور مشینری کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہیے۔ کیبل کے فنکشن اور اُس کی مرمت صحیح بنیادوں پر ہونی چاہیے اور تربیت یافتہ اور اعلیٰ فنی ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔ جدید کیبل فایبر آپٹک کا استعمال کرنا چاہیے، تاکہ زیادہ کنکشنوں کے باوجود انٹرنیٹ اپنی پوری رفتار سے کام کرسکے اور کنکشنوں کا اثر رفتار پر نہ پڑ ے۔
قارئین کرام! پاکستان میں کوالٹی اور رفاہِ عام کی بات کرنا کچھ عجیب سا لگتا ہے، کیوں کہ ہر کام کی بنیاد اور معیار صرف اور صرف ذاتی مفاد ہو ہوتا ہے لیکن ہم پر بھی عادت سے مجبور ہوکر یہی عرض کریں گے کہ ذاتی مفاد کے ساتھ ساتھ عوامی مفاد اور سہولت کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ ورنہ اچھی خاصی رحمت، زحمت کی شکل اختیار کرجاتی ہے اور زحمت سے پھر لوگ جان چھڑایا کرتے ہیں۔ عوام تو ہر مہینہ بلانا غہ بل داخل کرنے کی صورت میں پیسے دیتے ہیں لیکن پھر کون ہوگا جو اپنے پیسوں سے رحمت کی بجائے زحمت خریدے؟
اُمید کرتا ہوں کہ انٹرنیٹ کے حوالہ سے متعلقہ ادارے (بہ شمول پی ٹی سی ایل) غور فرمائیں گے اور اس مسئلہ پر فوری ایکشن لیں گے۔
3,378 total views, no views today


