نیکی، بدی، سزا اور جزا کا عمل انسانی زندگی کے ساتھ ازل سے چلا آ رہا ہے۔ انسان کے معاشرتی نظام پر ظلم و جبراور بربریت کا عنصرجب بھی غالب آنے لگتا ہے، تو معاشرہ کا سنجیدہ طبقہ ظلم و جبر اور بربریت کا راستہ روکنے کے لیے معاشرتی قواعد و ضوابط، رسم و رواج اور قوانین میں تبدیلیاں کرتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد مادہ پرست، ذہنی مریض اور جرایم پسند افراد ایک بار پھر اپنے لیے راستہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
قارئین، نیکی اور بدی کی یہ جنگ ازل سے ابد تک جاری رہے گی۔ کسی بھی ریاست میں ظلم و زیادتی اور بے انصافی پر مبنی مروجہ کالے قوانین کا خاتمہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ ظلم و زیادتی اور بے انصافی پر قایم ریاستی ڈھانچہ میں تبدیلی صرف ٹی وی چینل کے مذاکروں، اخباری بیانات اور بڑھکوں سے نہیں لائی جاسکتی بلکہ اس کے لیے جانی، مالی اور ساتھ ذاتی مفادات کی قربانی دینا پڑتی ہے جب کہ ایک لمبے عرصہ تک جد وجہد بھی کرنا پڑتی ہے۔ کیوں کہ تبدیلی راتوں رات نہیں آیا کرتی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ریاستی ڈھانچہ اور نظام میں تبدیلی فرد واحد کا کام نہیں۔ اس کے لیے صاحب سیرت و کردار کے حامل افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جو ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی خواہشات اور مالی فواید قربان کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ اس ٹیم میں ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمایندگی سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہوتی ہے۔ کئی عشروں کی جد و جہد اور اَن تھک محنت کے بعدانقلات اور تبدیلی کے آثار نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔
مملکت خدادا پاکستان کو قایم ہوئے چھ عشروں سے زیادہ کاعرصہ گزر چکا لیکن پاکستانی عوام آج تک بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بیش تر کو دو وقت کی روٹی،پینے کا صاف پانی، تعلیم، گھر، بجلی، گیس اور صحت کی سہولیات میسر نہیں۔ امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ کسی کی زندگی محفوظ ہے اورنہ عزت و دولت۔ مادہ پرست اور جرایم پیشہ افراد اسکولوں میں بچوں، اسپتالوں میں مریضوں، بازاروں میں راہ گیروں کو کھلم کھلا قتل کرتے ہیں۔ ہمارے نا اہل اور ذہنی طور پر غلام حکم رانوں کا ٹولہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کس مہ پرسی کے عالم میں بعض درد دل رکھنے والوں نے لاہور میں پچیس اپریل 1996ء کو پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھ دی۔ تحریک انصاف کے قیام سے عوام میں یہ امید پیدا ہوگئی کہ موروثی سیاست کے سجادہ نشینوں، پیر فقیر، وڈیروں، جاگیر داروں، سرمایا داروں،مخدوموں، زرداروں اور راسہ گیروں کے خلاف کوئی تو میدان میں اتر گیا۔ کرپشن، لوٹ مار، بے انصافی، ظلم و زیادتی پر مبنی نظام سے تنگ اور ا س نظام کے خاتمہ کے خواہش مند سفید پوش طبقہ نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ سیاسی داؤ پیچ اور چالوں سے نابلدہوتے ہوئے بھی تبدیلی کے خواہش مندوں نے سترہ سال تک سیاست کے میدان میں کرپشن، لوٹ کھسوٹ کے ماہروں، جرایم کی دنیا کے بے تاج بادشاہوں، ریاستی نظام کو مفلوج اور ملک و قوم کو غلام بنانے والوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ مالی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود دو قومی الیکشنوں 1996ء اور 2002ء میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی سترہ سالہ خود غرضی سے پاک سیاسی جد و جہد اور استقامت کو دیکھ کر معاشرہ کے عام طبقہ نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دینے کا عہد کرلیا۔ سیاسی بازیگروں، سیاست کے نبض شناس اور فصلی بٹیروں نے عوامی تیور دیکھ کر اپنی سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات شروع کیے۔ اپنے کارندوں کو ٹاسک دے کرانھوں نے خود بھی لنگوٹے کس لیے۔ بیورو کریسی اور خفیہ ایجنسیاں دانہ ڈالتے ڈالتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو غیر محسوس انداز میں اپنے جال تک لے آئے۔ دانہ چگنے کے شوق میں عمران خان کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ آ گے سیاد کا دام بھی ہے اور وہ اسی میں پھنس جائیں گے۔ عمران خان کے کانوں میں یہ بات ڈال دی گئی کہ انقلاب اور تبدیلی سیاسی وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، پیرفقیروں،مخدوموں اور زرداروں کے بغیر ممکن نہیں۔ حالاں کہ انقلاب اور تبدیلی لانے کے لیے وسایل کی نہیں بلکہ ذہانت، قابلیت اور مقصد رکھنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبدیلی اُس وقت آتی ہے کہ جب صاحب اختیار عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھ لے۔ عمران خان نے انگلی اٹھانے والے کے اشارہ پر پاکستان تحریک انصاف میں ان سیاسی قوتوں کو شامل کرنے کا آغاز کر دیا جن سے عوام بے زار ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کے نزدیک وہ قومی مجرم ہیں جن کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے مخلص، دیرینہ کارکنوں اور نوجوانوں نے میدان سیاست میں ڈٹ کرمقابلہ کیا۔ الیکشن مہم میں ان چوروں لٹیروں کے خلاف عوام کو منظم کیا۔ عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ قوم کو بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرنے، قوم کو طاغوتی قوتوں اور امریکہ کا غلام بنانے والے یہی لوگ ہیں۔ عوام نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔ معلوم نہیں عمران خان نے تحریک انصاف کے دیرینہ، مخلص کارکنوں، تبدیلی کے خواہش مندوں اور عوام کے خلوص کو نظرانداز کرتے ہوئے ان پر قومی مجرموں کو کیوں کر ترجیح دی اور انھیں پارٹی کا صاحب اختیار بھی بنا دیا۔ حالاں کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے فصلی بٹیر تحریک انصاف میں تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول اور اناکی تسکین کی خاطر شامل ہوئے ہیں۔ ان میں بعض وہ بھی ہیں جو اپنی پارٹی سے ناراض ہوکر رد عمل کے طور پر پی ٹی آئی میں آئے ہیں ۔
مانا کہ بہ ظاہر پاکستان تحریک انصاف دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح ایک سیاسی قوت تو بن گئی ہے لیکن ایک فعال اور مضبوط تحریک بننے کا راستہ کھو چکی ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آنے والے وقتوں میں تحریک انصاف مزید سیاسی کامیابیاں بھی حاصل کرلے گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے اپنے دیرینہ کارکنوں، تبدیلی کے خواہش مندوں اور عام حمایتیوں سے محرم ہوتی جائے گی۔ آنے والے بلدیاتی انتخابات بھی تحریک انصاف کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں، لیکن دوسری سیاسی پارٹیاں بلدیاتی انتخابات کے لیے منظم انداز میں تیاریاں کر رہی ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی کوئی منظم سرگرمیاں نظر نہیں آرہیں۔ اب تو نظم و ضبط کے فقدان کے سبب تحریک انصاف ’’ملاکنڈ‘‘ انتشار کا شکار ہے۔ صوبائی اور ضلعی قایدین سمیت پاکستان تحریک انصاف کے منتخب عوامی نمایندے بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے مخلص اور دیرینہ کار کن اس امید پر تحریک انصاف سے جڑے ہوئے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ عمران خان اپنے رویہ پر نظرثانی کریں۔ اگر تحریک انصاف نے آنے والے بلدیاتی الیکشن میں ایک بار پھر اپنے مخلص کارکنوں کو دیوار سے لگایا اور انھیں پارٹی ٹکٹ میں نظر انداز کیا، تو تحریک انصاف کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
665 total views, no views today


