ہماری معلومات کے حساب سے ’’کاشغر گوادر روٹ‘‘ کے لیے تیاریوں کے سلسلہ میں این ایچ اے نے جی ٹی روڈ کی کشادگی کا عمل شروع کر دیا ہے، جو یقیناًقابل ستایش اقدام ہے۔ اگر اس عمل میں انصاف سے کام لیا جائے اور انتظام کے اعلیٰ معیار کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو از چہ بہتر؟ اس میں چند تجاویز پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ پوری دنیا میں ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ روڈ کا ایک مستقل لیول رکھتی ہے اور شہری قوانین کو عملی بناتے ہوئے عمارتوں کا بھی ایک مستقل لیول رکھا جاتا ہے۔ فلسفہ کے حساب سے یہ لیول بنیادی طور پر شہری کی ذمہ داریوں اور شہری کی آزادی کی حدود کاتعین کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس علاقہ کے آب و ہوا اور پانی کے استعمال سے نکاسئی آب کا انتظام کیا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے این ایچ اے سے لے کر میونسپل کمیٹی تک کوئی بھی اس اُصول پر عمل نہیں کرتا کہ ریاست پبلک راستوں کی اُونچائی کا شہریوں کو بتائے اور لوگوں کو بھی بلڈنگز ایک خاص لیول پر رکھنے پر مجبور کرے۔ یہ ریاستی ذمہ داری پورانہ ہونا قابل افسوس ہے بلکہ ہم یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ ایک قابل مذمت عمل ہے۔
یہ سب کچھ مربوط منصوبہ بندی کے نتیجہ میں ہوسکتا ہے۔ بڑے شہروں، خاص کر اسلام آبادکے علاوہ یہ عمل کہیں بھی نہیں ہو رہا۔ حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ قوانین موجود ہیں کہ حکومت اپنی یہ ذمہ داری پوری کرے۔ ہم بتاتے چلیں کہ ٹی ایم اے کی اور ڈھیر ساری ذمہ داریوں کے ساتھ بلڈنگوں کا نقشہ پاس کرنا بھی ہے۔ انھوں نے یہ ذمہ داری ٹھیکے پر دی ہوئی ہے۔ نقشہ پاس کرتے ہوئے شہری ضروریات کا خیال بہت کم رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’چھجہ‘‘ نکالنے پر زیادہ پیسے لیے جاتے ہیں۔ عمومی طور پر فیس جمع کرنے کی رسید کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ متعلقہ افسران، نقشہ کو دست خط کرتے ہی نہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹی ایم اے کا زمین پلاننگ اور ریگولیشنز کا پورا ونگ؍ محکمہ ہو۔ قوانین کو از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹی ایم اے کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکموں کے بھی دست خط لازمی قرار دیے جائیں۔ کیوں کہ شہری سہولیات مہیا کرنا صرف میونسپلٹی کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ ہم متعلقہ حکام کی توجہ واپڈا اور ٹیلی فون کے کھمبوں کی طرف بھی مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ ڈھیر ساری جگہوں پر یہ بہت ہی غیر مناسب مقامات پر نصب ہیں اور ان سے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کو خاص طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ بہت کچھ تبدیل ہونے والا ہے۔ روڈوں کی کشادگی کے ساتھ ساتھ برساتی نالے بھی کشادہ ہوں گے۔ جن لوگوں نے ’’تجاوز‘‘ کیا ہے، وہ بھی ذہنی طور پر تیار رہیں اور روڈوں اور نالیوں پر مزید اپنا قبضہ نہ جمائیں۔
حکومت بھی ہر قدم مربوط منصوبہ بندی سے لوگوں کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے اٹھائے۔ پھر مزہ آئے گا کہ یہ ایک ’’خیال رکھنے والی حکومت‘‘ ہے اور لوگ بھی ’’ذمہ دار شہری‘‘ ہیں۔
574 total views, no views today


