بریکوٹ،بریکوٹ بازار کے تاجر برداری نے تجاوزات کے خلاف اپریشن کے بعد ملبہ نہ ہٹانے پر احتجاجی مظاہر کیا ۔بریکوٹ کے لوگوں کے امن پسندی کا نام باب خیبر پر لکھا گیا مگر اب حکومت اور بریکوٹ انتظامیہ تاجربرداری کا مذید معاشی قتل بند کریں ۔صوبائی حکومت نے پشاور میں تجاوزات کے متاثرین کو نو نو لاکھ روپے دئیے ہیں جبکہ یہاں پر لوگوں کے کاروبار مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں کسی کو ایک پائی تک نہیں ملی ۔ان خیالات کا اظہار بریکوٹ بازار کے صدر معراج الدین تنہا، پاکستان تحریک انصاف کے سابق پی کے 82صدر انجینئر شرافت علی ،قومی وطن پارٹی کے پی کے 81جنرل سیکرٹری فضل ودود باچہ ،شیرعلی خان ،جنرل سیکرٹری بازار ساجد خان کے علاوہ دیگر نے مظاہر ے سے کیا ۔انہوں نے کہا کہ بریکوٹ بازار میں صوبائی حکومت کے ہدایات کے مطابق تجاوزات کے خاتمے میں تاجربرداری اور عوام نے بہت تعاون کیا اورزیادہ تر تجاوزات خود لوگوں نے ہٹائے ۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ گذرنے کے باوجود بھی بریکوٹ بازار سے ملبہ ہٹایا نہ جاسکا جو کہ تاجر برادری اور بریکوٹ کے عوام کے ساتھ ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے دوران ہمارے تحفظات دور نہ ہوسکیں مگر پھر بھی قانون پسند ہو کر بھر پور تعاون کیا ۔انہوں نے کہا کہ فوری طور پر جان لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئیں ہیں فوری طور پر ایک لاکھ روپے صوبائی حکومت متاثرین کو دیں ورنہ راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔بعد میں انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ عمیر خان سے ملاقات کی ۔ملاقات کے دوران اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ نے کہا کہ این ایچ اے سے رابطہ کیا گیا ہے بہت جلد میونسپل کمیٹی اور این ایچ اے فوری طور پر بازار کو صاف کرلے گا
640 total views, no views today


