فرمایا رسول اللہؐ نے کہ خوش اخلاقی گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتی ہے جس طرح پانی نمک کے پتھر کو پگھلا دیتا ہے اور بدخلقی عبادت کو اس طرح خراب کردیتی ہے جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔ اور فرمایا رسول اللہؐ نے کہ تم سب میں مجھ کو زیادہ پیارا اور آخرت میں سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم سب میں زیادہ مجھ کو برا لگنے والا اور آخرت میں مجھ سے دور رہنے والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق برے ہوں۔
قارئین، محکمۂ پولیس میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور پولیس کی ڈیوٹی بھی ایسی ہے کہ وہ ہر وقت عوام کا سامنا کرتی ہے۔ جلسہ جلوس، روڈ بلاک حتیٰ کہ ایک گھر میں میاں بیوی کا جھگڑا ہی کیوں نہ ہو، پولیس سے ہرجگہ واسطہ پڑتا ہے۔ راقم نے تادم تحریر ایک صحافی کی حیثیت سے بائیس سال فیلڈ میں گزارے ہیں،لیکن ملک سعد (شہید) سے لے کر ایس پی سلیم مروت و دیگر چند افسران کے علاوہ انسپکٹر طاہر خان مرحوم جیسے خوش اخلاق اور دیانت دار آفیسر کو نہیں دیکھا۔ حالاں کہ طاہر خان کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی لیکن اتنی عمر کے باوجود ان کا غصہ میں نے نہیں دیکھا۔
طاہر خان ایس ایچ او (چکدرہ) موت سے چند دن قبل یونی ورسٹی روڈ پر جب چکدرہ میں نماز عشاء کے بعد شدید بارش جاری تھی، راقم کی گاڑی یونی ورسٹی روڈ کے کنارے چھوٹی سے ندی میں پھسل کر گر گئی۔ دو ساتھی گاڑی نکالنا چاہتے تھے لیکن یہ دو بندوں کا کام نہیں تھا۔ اس دوران میں بارش میں پولیس موبایل گاڑی آکر رک گئی۔ ایس ایچ او طاہر خان سمیت پولیس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر گاڑی نکالی اور چل دیے۔ اس وقت ان کو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ موٹرکار کسی صحافی کی ہے۔ یہ رہی ان کی خدمت خلق کی ایک چھوٹی سی مثال۔
دس مارچ 2015ء کا دن تھا کہ تحریک انصافی کے قاید عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک ملاکنڈ یونی ورسٹی چکدرہ میں شجرکاری مہم کا افتتاح کررہے تھے۔ حالاں کہ یہ دورہ کوئی سیاسی دورہ نہیں تھا اس لیے درجن بھر اہم لوگوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔ عمران خان کی چکدرہ آمد دس بجے متوقع تھی لیکن وہ دو بجے کے قریب پہنچ گئے۔ اس دوران میں تحریک انصاف کے سیکڑوں عہدہ داران و کارکنان نے ملاکنڈ یونی ورسٹی پر دھرنا دیا کہ ہم اندر جائیں گے۔ وہ نعرہ بازی کر رہے تھے کہ اس دوران میں مرحوم ایس ایچ اوطاہر خان نے صبح سے دو بجے تک طلبہ کو کنڑول کیے رکھا۔ نہایت صبر و تحمل سے انھوں نے طلبہ کو توڑ پھوڑ سے منع کیے رکھا اور جب عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک گاڑیوں میں ہیلی پیڈ تک پہنچ گئے، تو ایس ایچ او طاہر خان نے اپنے دیگر افسران کو پہلے سے بتا دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عہدہ داروں کو میں نے اس بات پر روکے رکھا ہے کہ آپ لوگوں کی ملاقات عمران خان اور وزیراعلیٰ سے کروائی جائے گی۔ نتیجتاًان عہدہ داروں کی ملاقات ہیلی پیڈ پر عمران خان سے کروائی گئی جس کی وجہ سے وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔ اس دوران میں عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک جو علاحدہ علاحدہ ہیلی کاپٹروں میں پہنچ کر روانہ ہوئے، وہ بھی خوش تھے، کہ کارکنان خفا نہیں ہوئے۔ اس روزدو بج کر چالیس منٹ پر ملاکنڈ یونی ورسٹی ہیلی پیڈ گراؤنڈ میں وہ باوردی اپنی موبایل گاڑی میں شان دار کارکردگی کے بعد سوار ہو رہے تھے کہ انھیں دل کا شدید دورہ پڑا اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ موت سے چند منٹ پہلے طاہرخان مرحوم نے وائیر لیس سیٹ پر آخری پیغام یہ دیا تھا کہ پولیس نفری کے لیے روٹی کا بندوبست ہوچکا ہے اور ضروری طور پر روٹی کھاکر اہل کار واپسی کا راستہ ناپیں۔ یہ ان کے منھ سے ادا ہونے والے آخری الفاظ تھے۔ یہ رہا ان کی صلۂ رحمی اور اپنے ماتحت سپاہیوں کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ۔
مرحوم انسپکٹر کی نمازجنازہ اوچ پولیس گراؤنڈ میں ان کے گاؤں دوشخیل اٹالا تالاش میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انھوں نے ایک سرکاری آفیسر کی حیثیت سے جس ایمان داری اور خوش اخلاقی سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دی، اب ایک مہینہ ہونے کے قریب ہے کہ صوبۂ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے قاید عمران خان نے اب تک ان کی تعزیت بھی نہیں کی۔ حالاں کہ جس دن طاہر خان کا انتقال ہوا، اس جلسہ کے فوراََ بعد وزیراعلیٰ اور عمران خان علاحدہ علاحدہ ہیلی کاپٹروں میں خال تیمرگرہ ایک تعزیت کے لیے چلے گئے تھے۔ مناسب تو یہ تھا کہ ان کے خاندان کے ساتھ بہ ذریعہ ٹیلی فون یا اخباری بیان تعزیت کرتے۔اب اس کا ازالہ کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پرویز خٹک مذکورہ پولیس آفیسر طاہر خان مرحوم کو شہدا پیکیج میں شامل کریں اور ان کے خاندان کے ساتھ خصوصی تعاون کریں۔اگر صوبائی حکومت کے ذمہ داروں یا آئی جی پی خیبر پختون خوا نے اس حوالہ سے کچھ نہیں کیا، تو دیانت دار اور شریف افسروں کی دل آزاری ہوگی اور دل آزاری کی صورت میں پھر وہ ڈیوٹی سے انصاف نہیں کریں گے۔ دیکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت ایک افسر کی ایمان داری کے عوض ا س کے خاندان کی کیا داد رسی کرتی ہے؟
558 total views, no views today


