آج کل آپ اکثر ذرایع ابلاغ پر سن اور پڑھ رہے ہیں کہ ’’فلاں‘‘ جیل میں علی الصباح ’’فلاں‘‘ کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ ان میں اکثریت ایسے مجرموں کی ہوتی ہے جن کو بیس پچیس سال پہلے سزائے موت سنائی گئی تھی اور چند وجوہات کی بنا پر اس پر عمل در آمد نہ ہوسکا۔ ان میں سے بعض کیس تو بڑے نا قابل فہم شکل اختیار کرچکے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مجرم کی عمر کا ایشو کھڑا کرکے سول سوسایٹی والے اُس کی سزا میں رکاؤٹ بن رہے ہیں۔ یہ نام نہاد شرفاء یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مجرم نے کتنے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا تھا، جب کہ مقتول سات سالہ بچہ تھا۔ کیا ان اندھے مغربی تہذیب کے پجاریوں کے نزدیک اس معصوم سات سالہ بچے کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں تھی؟ اس معصوم کے والدین کو دلی اور ذہنی اذیت نہیں ہوئی تھی؟
اصل حل طلب اور فکر کو دعوت دینے والی بات یہ ہونی چاہیے کہ ان قاتلوں کو بیس پچیس سال جیل میں کیوں زندہ رکھا گیا؟ ان سزاؤں پر بروقت عمل کیوں نہ ہوسکا؟
بعض ماہرین قانون کی رائے ہے کہ “Justice rushed is justice crushed” اور یہ بھول جاتے ہیں کہ “justice delayed is justice denied” اگر بروقت ان لوگوں کو سزائیں دی جاتیں، تو یہ آٹھ ہزار پھانسیاں حکومت وقت کے گلے کی پھانس نہ بنتیں۔ سستی شہرت کے لیے ’’زرداری اینڈ کو‘‘ نے یہ سزائیں معطل کی تھیں جس سے کئی خرابیوں نے جنم لیا۔ اب صورت حال قابو سے باہر ہوچکی ہے۔ اُدھر موجودہ حکومت کا تو یہ حال ہے کہ معمولی بحران کے سامنے بھی اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ یہ تو عمران خان کے دھرنے کے آگے ڈھے گئے تھے۔ اب صولت مرزا کی ویڈیو نے ان کے لیے ایک پہاڑ کھڑا کردیا ہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مخمصہ سے کیسے عہدہ برآ ہوں۔ ایک طرف ایم کیو ایم کا بے قابودیو ہے، دوسرے طرف ان صاحبان اقتدارکی قانونی کم زوریاں۔ ایم کیو ایم کی مثال ایک منظم اور مربوط مافیا کی ہے، جن کے جال سے کوئی نکلنے کی کوشش کرتا ہے، تو صرف لاش کی صورت میں نکلتا ہے۔ “Organised Crime” کا ایک ٹولہ ہے اور الطاف حسین اس کے “god father” ہیں۔ ان کے ساتھ فروغ نسیم جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہر قانون ہیں جو ان کے ہر فعل کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں۔ ان کی قانونی موشگافیوں کا توڑ ’’چودھری نثار اینڈ کو‘‘ کے بس کی بات نہیں۔ اگر حکومت کے ای ایس سی کے ڈی جی شاہد حامد کا کیس ری اوپن کرنا چاہے، تو فروغ نسیم صاحب ان کے مؤقف کی دھجیاں اُڑادیں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ دراصل سسلی (اٹلی) میں ڈیڑھ سو سال پہلے قایم ہونے والی ’’کونسل‘‘ کے طرز پر منظم کیا گیا گروہ ہے۔ جس کا ابتدائی نام ’’کوسا نوسٹرا‘‘ “Cosa Nostra” تھا، جس کے معنی ہیں ’’ہمارے معاملات۔‘‘ یعنی وہ اپنے تمام معاملات اپنی ہی قوانین اور مرضی کے مطابق طے کرتے تھے۔ کسی کو قتل کرنا ہے، کسی کا کاروبار تباہ کرنا ہے، کسی کو ملک بدر کرنا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنظیمیں ’’مافیا‘‘ کہلانے لگیں۔ پھر ان کے درمیان خونی لڑائیاں ہونے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ یوروپ اور امریکہ تک پھیل گئیں۔ اس میں عالمی شہرت کے ڈان آتے گئے اور قتل ہوتے رہے، ان تنظیموں میں بھی بڑے بڑے ماہرین قانون، ڈاکٹرز اور انڈسٹریل ٹائی کون ہوتے تھے۔ اس وقت مجھے پھر سوات کے ماضی کی طرف جانا پڑتا ہے۔ ایک نہایت زود اثر قتل کا واقعہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
غالباً 1961ء کے سال کے آخر یا 62ء کی ابتدا کا ذکر ہے۔ سیدوشریف تھانہ کے ایک سپاہی (صابر نامی) نے سیدو بابا مسجد کے قریب اپنے ایک مخالف کو ایسی حالت میں گولی مار کر قتل کیا جب وہ ایک موچی کے پاس زمین پر بیٹھا اپنا جوتا مرمت کروارہا تھا۔ صابر پولیس اپنے ساتھیوں اور افسروں میں بہت اچھا اور نڈر جوان تھا مگر اس وقت وہ ایک مجرم تھا۔ وہ خود تھانہ آیا اور گرفتاری پیش کردی۔ تھانیدار مرحوم عبدالمجید خان صاحب، صابر کو بیٹے کی طرح چاہتے تھے مگر وہ قانون کے ہاتھوں مجبور تھے۔ انھوں نے اُسے ہتھکڑی لگائی اور پرنم آنکھوں کے ساتھ اسے والی صاحب کے حضور پیش کیا۔ چوں کہ واقعہ سیدوشریف میں پیش آیا تھا، والی صاحب کو پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی اور ان کو بہت صدمہ ہوا تھا۔ابتدائی بیان سننے کے بعد صابر سے پوچھا، تو اُس نے فوراً اپنے جرم کا اقرار کیا۔ والی سوات نے اُسی وقت اس کو سزائے موت دینے کا حکم صادر کیا۔ تھانیدار نے عرض کیا کہ حضور عالی، مقتول کے وارث ابھی تک سیدوشریف نہیں پہنچے۔ صابر کو کون گولی مارے گا؟ والی صاحب نے فوراً کہا: ’’تم‘‘۔ تھانیدار صاحب عبدالحمید خان (مرحوم) حیران ہوگئے۔ حکم حاکم مرگ مفاجات، مجبوری کے عالم میں صابر کو چند سپاہیوں کی حفاظت میں سنٹرل جیل کے قریب برساتی نالہ میں لے گئے جہاں پر اکثر قاتلوں کو گولی مار کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تھا۔ عبدالحمید خان (مرحوم) نے کانپتے ہاتھوں سے رایفل اُٹھائی اور چھ فٹ کے فاصلہ پر کھڑے اپنے پیارے سپاہی کو گولی چلا کر ڈھیر کردیا۔ اس ساری کارروائی میں ایک گھنٹہ سے بھی کم وقت لگا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک شخص کو سزائے موت سنانے اور اپیلیں مسترد ہونے کے بعد کئی سالوں تک جیل میں موت کا انتظار کرایاجائے اور پھر اُس کے سزا پر عمل درآمد کا وقت آئے، تو نئی تہذیب کی مادر پدر آزاد خواتین بین کرتی ہوئی نکلیں اور مظاہرے کریں۔
622 total views, no views today


