جوں جوں خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ توں توں انتخابات میں حصہ لینے والے حضرات جوڑ توڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی جواین کررہا ہے، تو کوئی اخبار میں اپنے لیے کسی کے نام سے خبر شایع کراکے لوگوں کو باخبر کررہا ہے کہ ’’فلاں‘‘ انتخابی دنگل میں جلد اُترنے والا ہے۔ سیاسی پارٹیاں مقامی طور پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولہ پر آپس میں اتحادی بن رہی ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں سے انجینئر امیر مقام جیسے فعال مسلم لیگی لیڈر جسے اب مشیر وزیر اعظم پاکستان مقرر کیا گیا ہے، بے چارے کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے انھیں برائے نام مشیر رکھا گیا ہو۔ نواز شریف اُن سے ملاقات کے روادار تک نہیں تھے۔ انجینئر امیر مقام اس قسم کی صورت حال کو قابو کرنے کے لیے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے تھے۔ اب جب کہ صوبۂ پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا ہے، تو انجینئر امیرمقام سے وزیراعظم پاکستان ون آن ون ملاقات کرتے ہیں۔ انھیں فعال مشیر کے طور پر مختلف محکموں کا چارج دیتے ہیں۔ اسلام آباد اور پشاور میں دفاتر کھولنے کی منظوری سے امیر مقام کو نوازا جاتا ہے۔ تاکہ وہ بلدیاتی انتخابات میں اپنے پارٹی ورکروں کو جتوا کر کم از کم بلدیاتی سطح پر مقامی حکومتیں بنانے کی پوزیشن حاصل کرسکیں۔دوسری جانب پرانے اور سابق ناظمین اپنی اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کو جواین کر رہے ہیں۔ ان پرانے اور سابق ناظمین اور کونسلروں کا یہ خیال ہے کہ صوبہ میں جس کی حکومت ہوتی ہے، وہ انتخابات میں اکثریت سے جیت جاتے ہیں اور اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے وہ مرغ باد نما بننے پر آمادہ ہیں۔
یہ نام، عہدہ اور اقتدار کا نشہ جس کو چڑھ جاتا ہے، وہ پھر ’’وفا‘‘ اور ’’بے وفائی‘‘ کے معنوں میں نہیں پڑتا کہ سیاست نام ہی ’’خود غرضی‘‘ کا ہے۔ ووٹروں کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونا مقصد حیات ٹھہرجاتا ہے۔ اگر بہ غور دیکھا جائے، تو سب اہلِ ثروت آپ کو کسی نہ کسی پارٹی میں بڑے بڑے عہدوں پر نظر آئیں گے۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک گھر میں کئی پارٹیاں اکٹھی نظر آتی ہیں۔ مثلاً، ایک بھائی کسی ایک پارٹی کا ممبر ہے، تو دوسرا بھائی کسی اور پارٹی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے نظر آتا ہے۔ باپ سبز جھنڈے کے سائے تلے ہے، تو بیٹا سرخ جھنڈے تلے کھڑا ہوتا ہے۔ اگریہ اہلِ ثروت ایسا نہ کریں، تومعاشرہ میں ان کامقام نہیں بنتا۔ کیوں کہ یہ بے چارے وہ ہوتے ہیں جن کے پاس صرف پیسہ ہوتا ہے اور پیسے کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یہ مال دار، یہ اہلِ ثروت، یہ نامی گرامی خان، سردار اور نواب معاشرہ سے کٹے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ بی ایم ڈبلیو اور مرسڑیز میں گھومتے ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں۔ نوکرچاکر رکھتے ہیں لیکن رات کو نیند لینے کے لیے خواب آور گولیاں لیتے ہیں۔ یہ پرہیزی کھانا کھاتے ہیں۔ یہ لو گ گلی کوچوں یا بازاروں میں پیدل نہیں گھوم سکتے۔ نہ یہ دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھ سکتے ہیں۔ ایسا کرنا ان کے لیے سیکورٹی رسک ہوتا ہے۔ یہ لوگ فلاحی کاموں میں پیسہ نہیں لگاتے ہیں۔ یہ لوگ عوام سے دور ہوتے ہیں، اگریہ اہل ثروت پارٹی بازی کی بہ جائے عوامی، سماجی، فلاحی و رفاحی کاموں میں حصہ لیتے، تو پھر ان لوگوں کے لیے انتخابی دنگل میں اُترنا بڑا آسان ہوتا۔ پھر ان کو انتخابات میں کروڑوں روپیہ لگانے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی بلکہ یہ لوگ ایسی صورتوں میں بلا مقابلہ منتخب ہو جاتے۔
کاش ایسا ہوتا، لیکن یہ لوگ ایسا نہیں کرتے بلکہ عام دنوں میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ صرف انتخابات میں یہ لوگ نظر آتے ہیں اور وہ بھی چند دنوں کے لیے۔
626 total views, no views today


