یہ امر دل چسپی سے خالی نہیں ہے کہ سہ فریقی اتحاد نے صوبائی حکم ران جماعت تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اس سلسلہ میں اتحاد میں شامل تینوں جماعتوں نے حکم ران جماعت کو ٹف ٹایم دینے کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔ اتحاد میں شامل تینوں جماعتوں (عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان پیپلز پارٹی) نے صوبہ پر حکم رانی بھی کی ہے اور اچھا خاصا ووٹ بینک بھی رکھتے ہیں لیکن ماضئی قریب میں یہ سہ فریقی اتحاد متعدد وجوہات کی بناء پرمطلوبہ نتایج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور مستقبل قریب میں بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ سوات میں تو باالعموم اس طرح ہی نظر آرہا ہے۔ استدلال کے لیے پی کے چھیاسی ہی کو لیجیے۔ ماضئی قریب کے جنرل الیکشن 2013ء میں اس حلقہ سے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے قیموس خان 10,687 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے جب کہ اس وقت جمعیت علمائے اسلام (ف)سے علی شاہ خان ایڈووکیٹ نے10,302 ووٹ، اس وقت کے اے این پی امیدوار ڈاکٹر حیدر علی خان نے10,028 ووٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد شاہی خان نے7,275 ووٹ حاصل کیا تھا۔ قیموس خان کی نا اہلی کی وجہ سے اسی نشست پر دوبارہ انتخابات اپریل 2014ء میں ہوئے۔ اس انتخابات میں قیموس خان کی جگہ اس کا بھائی سردار خان، مسلم لیگ نواز کا امیدوار تھا۔ تحریک انصاف نے ڈاکٹر حیدرعلی خان کو پہلے پارٹی میں شامل کروایا اور ساتھ ہی اپنا امیدوار نام زد کیا جس کی وجہ سے محمد زیب خان (پچھلا امیدوار برائے صوبائی اسمبلی) نے پارٹی چھوڑی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) میں شامل ہوگئے۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رہے کہ محمد زیب خان نے جنرل الیکشن 2013ء میں 5,945 ووٹ لیا تھا۔
تحریک انصاف اور مسلم لیگ (نواز) کا مقابلہ دو فریقی اتحاد (عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام) کے علی شاہ خان ایڈووکیٹ سے تھا۔ دو فریقی اتحاد نے مجموعی طور پر جنرل الیکشن 2013ء میں اس حلقہ سے 20,330 ووٹ لیا تھا۔
ڈاکٹر حیدرعلی خان کو جماعت اسلامی کی حمایت حاصل تھی جب کہ موصوف کا مقابلہ دو اتحادوں سے تھا۔ پہلا اتحاد (دو فریقی اتحاد) یعنی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کا نمایندہ علی شاہ خان ایڈووکیٹ تھا جب کہ دوسرا سہ فریقی اتحاد یعنی پاکستان مسلم لیگ (نواز)، اشاعت التوحید والسنۃ (پنج پیر) اور محمد زیب خان گروپ کا نمایندہ سردار خان تھا۔ اس مقابلہ میں پیپلز پارٹی کا محمد شاہی خان بھی موجود تھا لیکن سبھی کو معلوم تھا کہ اصل مقابلہ مذکورہ بالا تین فریقین کے مابین ہونا ہے۔ اول الذکر، دو فریقی اتحاد نے اپنے چوٹی کے قایدین سے الیکشن مہم چلائی جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابقہ وزیر اعلیٰ حیدر خان ہوتی بھی تشریف لائے جب کہ آخر الذکر (سہ فریقی اتحاد) کی مہم بہ ذات خود امیر مقام اور اس کے بھائی، شانگلہ سے ممبرِقومی اسمبلی عبادالرحمان چلارہے تھے۔ وفاقی حکومت کے آشیرباد سے کئی منصوبوں کی افتتاحی تقریبات بھی منعقد ہوئیں جس میں چارباغ کے لیے بجلی فیڈر اورسوئی گیس فراہمی کے منصوبہ جات قابل الذکر تھے۔ ڈاکٹر حیدرعلی خان کے لیے عمران خان نے بہ نفس نفیس خوازہ خیلہ میں جلسۂ عام کیا جب کہ پارٹی کے امریکہ پلٹ سینئر راہنما اعظم خان سواتی نے تو باقاعدہ ڈیرہ ڈالا ہوا تھا۔ موصوف سواتی نے تحصیل چارباغ کے عوام کو یونی ورسٹی زمین خریداری سے متاثرہ خاندانوں کو قانونی مدد فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا جب کہ تحریک انصاف کی طرف سے سوات بالا کو ضلع بنانے کا دل نشین اعلان بھی حلقہ بھر میں گردش کرتا رہا۔
رزلٹ جب نکلا، تو ڈاکٹر حیدر علی خان نے 17,438 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جب کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سردار خان 16,353 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، جمعیت علمائے اسلام (دو فریقی اتحاد) کے علی شاہ خان ایڈووکیٹ 10,078ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد شاہی خان 6,873 ووٹ لے کر چوتھے نمبرپر رہے۔ اس موقع پر علی شاہ خان کے ساتھ ’’اگر یہ گوشت ہے، تو بلی کہاں ہے؟ اور اگر یہ بلی ہے، تو گوشت کہاں ہے؟‘‘ والی بات صادق آئی۔ کیوں کہ جنرل الیکشن 2013ء میں جمعیت علمائے اسلام کی علی شاہ خان نے اکیلے 10,302ووٹ حاصل کیا تھا جب کہ ضمنی انتخابات میں جنرل الیکشن میں 10,028 ووٹ لینے والی پارٹی کے اشتراک سے وہ صرف 10,078ووٹ لے سکے۔ مطلب یہ کہ اضافہ تو کجا اتحاد نے 224 ووٹ مزید کم کردئیے۔
اس سے ایک بات تو ظاہر ہوگئی کہ ہمارے ہاں کم از کم اتنی سیاسی بصیرت تو ہے کہ ’’غیر فطری اتحاد‘‘ کو لوگ ووٹ نہیں دیتے اور یہی سیاسی بغاوت ان غیر فطری اتحادوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ بھی واضح ہوگئی کہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے پارٹیوں سے زیادہ افراد مضبوط ہیں۔ اس سے ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ دہائیوں کی نفرت آمیز طرز سیاست، کارکنوں کے اندر اتنی سرایت کرچکا ہے کہ وہ ماضی کے ’’نظریاتی‘‘ حریفوں کو حال اور مستقبل قریب میں سیاسی حلیف کے طور پر ماننے کو بالکل تیار نہیں۔ ملاوؤں کے لیے کامریڈوں کی طنز و تشنیع اور کامریڈوں کے لیے کفر کے فتوے اب اتنے بھی پرانے نہیں کہ کارکن ان کو بھول کر کسی کو بھی ووٹ دے دیں۔ لہٰذا تمام پارٹیوں کو فطری حلیفوں سے اتحاد کرنا چاہیے اور سیاست میں الزامات سے پرہیز کرتے ہوئے اس مقام تک جانے سے گریز کرنا چاہیے کہ جہاں سے واپسی کے راستے کم، محدود اور دشوار گزار ہوں۔
584 total views, no views today


