ایک وقت تھا جب انسان پتھر کے زمانہ میں رہنے کا عادی تھا۔ آہستہ آہستہ یہی انسان ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ضروریات بھی بدلنے لگیں۔ طرز زندگی میں جوں جوں تبد یلی آتی گئی، انسانی جستجو اور تحقیق کے عمل میں اضافہ ہوتا گیا۔ پختہ رستوں کے ذریعے قافلوں کی آمد و رفت کو آسان بنایا گیا۔ دورِ جد ید میں جہاں لوگ سالوں اور مہینوں کا سفر گھنٹوں اور لمحوں میں طے کرتے ہیں، وہاں بدنصیب سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے سیدو شریف کا پانچ منٹ کا سفر بعض اوقات گھنٹو ں میں طے کیا جاتا ہے۔ ترقی تو ہم نے کی ہے، مگر انسان کو آرام دینے کی بہ جائے تکلیف دینے میں۔ ہر جگہ اور ہر ادارے میں پاکستانیوں کو رگیدا جاتا ہے۔ ادارے بھی موجود ہیں اور ان میں شاہانہ طرز کی زندگی گزارنے والے آفیسر بھی موجود ہیں۔ مسایل کے حل کے لیے بڑے بڑے منصوبے بھی ہیں اور ساتھ وسایل بھی موجود ہیں مگرنتیجہ پھر بھی صفر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ عام لوگ زیادہ ترسرکاری اداروں سے نالاں نظر آتے ہیں اور یوں یہ ادارے عوام کا اعتمام مسلسل کھوررہے ہیں۔
قارئین کرام! مینگورہ سے سیدوشر یف جانا اس وقت جوئے شیر لانے کے مترادف ہوجاتا ہے جب سرکاری اداروں اور اس طرف واقع اسکولوں کی چھٹی ہوجاتی ہے۔ سیدو شریف جہاں زیادہ تر سرکاری اداروں کے دفاتر ہیں اور ضلع بھر سے لوگ روزانہ مختلف دفتروں میں کام کی غرض سے آتے ہیں۔ اس طرح اگر دیکھا جائے، تو سیدو شریف اور مینگورہ جڑواں شہر تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ سڑک اس لیے مصروف ترین ہے کہ اس پر عدا لتیں،تعلیمی ادارے، ضلعی انتظا میہ اور پولیس کے اہم دفا تر واقع ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات کے دو بڑے اسپتال اور میڈیکل کا لج کے علاوہ جہانزیب کالج اور گرلز ڈگری کالج بھی اسی روڈ پر موجود ہے۔ اس وجہ سے اس پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گاڑیاں چلتی ہیں۔ اس کے ساتھ پیدل چلنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد مینگورہ سے ضلعی کچہری اور دیگردفاتر کام کی غرض سے جاتی ہے۔ سنٹرل اور سیدوشریف اسپتال کی وجہ سے بھی اس روڈ پر مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی ایک اچھی خاصی تعداد آیا جایا کرتی ہے۔مذکورہ تمام لوگوں کو آمد و رفت میں اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جب ایک طرف اتنی بھیڑ ہو اور دوسری طرف اسپتال کے سامنے گاڑیاں کھڑی کی گئی ہوں۔ ایک تو یہ روڈ اتنی کھلی نہیں کہ اس میں بہ مشکل دو گاڑیاں ایک طرف سے آ جا سکیں، اوپر سے غلط پارکنگ نے روڈ کو مزید سکیڑ کر رکھ دیا ہوتا ہے جب کہ دکان داروں نے الگ سے تجاوازت کی شکل میں برائے نام فٹ پاتھ پر کرسیاں وغیرہ رکھی ہوئی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے تمام لوگوں اور خصوصاً اسپتالوں کو جانے والے مریض، اسکول وکالج اور یو نی ورسٹی جانے والے طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
روڈ پر سرمایہ داروں نے نجی اسپتالوں کے لیے بڑی بڑی عمارات تعمیر کر رکھی ہیں جن میں روزانہ کروڑوں روپے کا ’’کاروبار‘‘ ہوتا ہے۔ سرمایہ دار دونوں ہاتھوں سے عوام الناس کو لوٹ رہے ہیں، مگرکسی بھی عمارت کے مالک نے ’’کار پارکنگ‘‘ یا عوام کی سہولت کے لیے تھوڑی سی بھی جگہ نہیں بنائی ہے۔ جب یہ عمارتیں بن رہی تھیں، تو ان کے مالکان نے باقاعدہ بلدیہ منگورہ اور انتظامیہ سے اجازت لی ہوگی۔ انھوں نے نقشہ پاس کیاہوگا۔ کیا ان اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کو یہ دن نظر نہیں آ رہا تھا؟
ہماری سڑکوں کی یہ حالت ہے کہ ایمرجنسی میں ایمبولنس کو جانے کے لیے راستہ نہیں ہے۔ یہ بھی ہے کہ اس سڑک پر ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، پولیس ، کمشنر، ڈی آئی جی اور سوات کے ایم پی ایز تک سفر کرتے ہیں مگر کسی کو بھی اس بارے میں کوئی خیال نہیں آیاکہ اس روڈ کو کشادہ کرنا چاہیے۔
تبدیلی کا نعرہ لگانے والی حکومت کے لیے اس روڈ کا حل نکالنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔اب دیکھتے ہیں کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے وہ کیا لایحۂ عمل اختیار کرتے ہیں۔
692 total views, no views today


