مینگورہ, سرکاری اور نجی اداروں کے کتابوں کے قیمتوں میں ایک ہزار فیصد اضافہ ، حکومتی چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونے کے وجہ سے پرائیویٹ سکولوں کیلئے بنانے والے اداروں کے سونااور سرکاری اداروں کیلئے چھپنے والے کتابوں کے لئے چاندنی ، اسی طرح صورتحال رہا تو تعلیمی شرح بہت نیچے آنے کا خدشہ ، تفصیلات کے مطابق ملک کے خداداد اور خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع اور خصوصاً سوات میں سرکاری اداروں میں نصاب کتب تو دی جارہی ہے جبکہ دوسری کافی کتابیں اور پریکٹیکل کے کتابیں عام شہریوں کے پہنچ سے باہر چلے گئے ہیں ، روزانہ نئے نئے قیمتیں مقرر کی جاتی ہے ، جبکہ پرائیویٹ سکول والوں نے مختلف کمپنیوں سے مکمل معاہدے کئے ہیں جبکہ عام کتابوں کی قیمتوں میں ایک ہزار فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، پہلے جماعت کے کتابیں ایسی ہے کہ جس کے قیمتیں ایک ہزار سے روپے سے بھی زیادہ ہے جبکہ اوپر کے کلاسوں کے کتابوں کے قیمتیں آسمان سے باتیں کررہے ہیں ، ہمارے معاشرے میں زندگی جس کتاب سے بنتی ہے ان کے ایک کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہیں جبکہ جس سے زندگی تباہ ہوتے ہیں کلاشنکوف کے گولی کی قیمت 12روپے ہیں ، مرکزی اور خصوصاً صوبائی حکومت کا اس پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے وجہ سے پرائیویٹ سکول مالکان اور کتابیں بنانے والے کمپنیوں کے درمیان اپنے خودساختہ معاہدے کرلیتے ہیں اور عوام کو خوب لوٹ رہے ہیں ، ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا میں شرح خواندگی کی شرح پندرہ فیصد ہے اگر اسی طرح صورتحال رہا تو چند سالوں میں یہ دو فیصد تک آجائے گا جو لمحہ فکریہ ہے ۔
528 total views, no views today


